Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شخصیات ۔۔۔۔۔ چترال کی قابل فخرسپوت سابق سفیر حمید اللہ خان ۔۔۔۔۔ تحریر: ایس رحمن عزیز

شیئر کریں:

جب دورند لائین کا معاھدہ ھورہا تھا تو عبدالرحمان خان امیر افغانستان نے خود مختار ریاست اسمار کو نہا یت ہوشیاری سے افغانستان مین رکھنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب ہوگیا۔ اگر چہ انگریزوں نے بھی بہت کوشش کی کہ اسمار دورند لائن سے انگریزوں کی جانب منتقل ہو جائےلیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے-اسکی وجہ اسمار کی اہم جغرافیائ حیثیت ہے ایک طرف تو اسمار قبایلی علاقوں سے وابستۂ ہے اوردوسری طرف چترال سے سرحد ملتی ۂہے – اسکے علاوہ چترال کے شاہی خاندان اور خانوادۂ اسمار میں قریبی رشتے تھے – ہزہاۓنس شجاع الملک اور خان اسمار عبدالقادر خان آپس میں سگے کزن تھے- خانان اسمار کےامیر عبدالرحمان خان کے ساتھ بھی خاندانی رشتہ داری تھی-

۲۰ فروری ۱۹۱۹ کوامیر حبیب الہ خان عبدالقادر خان کو ساتھ لے کرجلال آباد آۓ تا کہ ان کو اسمار لے جاکر اسمار اس کے حوالے کردے۔ لیکن جانے سے ایک دن پہلے امیر حبیب الہ خان شکار پر گۓ جہان انُ کو قتل کر دیا گیا۔ جیسے اس وقت کا معمول تھا مقتول امیر کے رشتہ داروں اور دوسرے قریبی لوگوں کو بھی قتل کیا جاتا تھا اگر وہ قاتلوں کے ہاتھ آتے۔ چنانچہ عبدالقادر خان اپنے چند ملازمین کے ساتھ جلال آباد سے باجوڑ چلے گۓ اور جلد ہی وہاں سے چترال منتقل ہوۓ ۔ اسی دوران افغانستان اور انگریزوں کے درمیان تیسری انگریز۔افغان جنگ ۶ مئ ۱۹۱۹ کو شروع ہو چکی تھی۔ جونہی عبدلقادر خان چترال پہنچے تو ہز ہاۓ نس شجاع الملک نے انہیں ارندو فرنٹ پر جانے کا حکم دیا لیکن جنگ ختم ہوئ اور خان چترال ہی میں رہ گۓ۔ ہزہاے نس نے چمرکھون میں سرکاری زمینات گھر اور ملازمین بہت سے دوسرے مراعات کے ساتھ ان کے حوالے کۓ –

کچہ عرصے کے بعد خان نے اسمار کے حصول کے لۓ کوشش شروع کی اور باجوڑ جانے کی تیاری کی لیکن ُ ہزہاے نس نے کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے اجازت نہیں دی- تھوڑے عرصے کے بعد خان اجازت کے بغیر اکیلے چلے گۓ – افغانستان میں سیاسی حالات بگڑ گے تھے اور انہوں نے باجوڑ میں کچھ عرصے تک قیام کے بعد چترال واپس جانے کا فیصلہ کر لیا-اس دفعہ وہ ارندو کے راستے چترال آگۓ –

ہزہاۓنس شجاع الملک اسمار خان کے ساتھ بہت محبت اور عزت کرتے تھے- خان ان کی اجازت کے بغیر چترال چھوڑ کر چلے گۓ تھے پھر بھی انہوں نے خان کو ارندو میں کچھ عرصہ رہنے کا حکم دیا- اسی عرصے کے دوران خان کے ہاں ۱۹۳۵ کے لگ بھگ ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام حمید الہ خان رکھا گیا- ان سے پہلے خان کے ہاں ایک لڑکا اور “دو لڑکیاں تھیں جن کی شادیان ۱۹۴۹ میں ہزہاے نس سیف الرحمان اور نغر کے شہزادہ سراج الدین سے ہوئیں- ہزہاے نس شجاع لملک نے اسمار خان کو جلدی ارندوسے دروش آنے کی دعوت دی اور دروش میں اپنا ذاتی گھر معہ زمینات اور ملازمین ان کے حوالہ کئیے-

حمیدالہ خان نے ابتدائی تعلیم دروش میں حاصل کی جو صرف ساتویں جماعت تک تھی- اسکے بعد اس کو چترال جانا پڑا جہاں مڈل سکول چترال میں داخلہ لیا- ان کے مطابق اس وقت آٹھویں جماعت میں ان کے ساتھ کل آٹھ طالبعلم تھے جن میں سے تین تورکھو سے آئے تھے_

مختصر یہ کہ میں یہ سب کچھ تعارف کے طور پر لکھ رہا ہوں کیونکہ حمیدالہ خان نے اُس وقت کے بعض چشم دید حالات پر لکھنے کا وعدہ کیا ہے جوکہ بہت سے لوگوں خاص کر موجو دہ جوان نسل کے لے دلچسپی کا باعث ہو گا۰


چترال سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعدحمیداللہ خان ایبٹ آبادگیااور ۱۹۵۲میں وہاں سے میٹرک پاس کیا
اس کے بعد اسلامیہ کالج پشا ور میں داخلہ لیا اور ۱۹۵۶میں بی _اے آنرز کیا- وہ چترال کے پہلے طالب العلم ہیں جس نے ۱۹۵۹میں ماسٹر (ایم-اے )کی ڈگری پشا ور یونئورسٹی سے حاصل کی ۔۱۹۷۴ میں فارن سروس میں شمو لیت کے بعد ۱۹۷۷ تک وزارت خارجہ میں ڈپٹی چیف آ ف پروٹو کول کے عہدے پر رہے۔

اسی سال ان کی پوسٹنگ بطور کونسلر سٹاک ہوم سویڈن میں کی گئی۔ مشرقی ،مغربی برلن اور فرینکفرٹ میں کونسل جنرل رہنے کے بعد ان کی تبدیلی وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کی گئ اور وہ تین سال تک اس پوسٹ پر رہے۔


۱۹۸۸میں بطور سفیر ہنگری بوڈا پسٹ میں پہلی بار رہائشی سفارت خانہ کھولنے پر تعنا ت کئےگیئے۔ ۱۹۹۶ کے اوائل میں سروس سے فارغ ہو نے کے بعد وہ واپس پاکستان آگئے اور اسلام اآباد میں سکونت اختیار کی-

ؤہ کئی سال ایک جرمن فاونڈیشن کے ساتھ ایڈ وایزر کے طور پر کام کرتےرہے۔پاکستان میں رہائش کے دوران اُن کو دروش ،اسلام آباد اور آسٹریا میں برابر کاوقت گزارنا پڑتا تھا لیکن دروش میں والدہ اور بڑے بھائی کی وفات پر وہ کچھ عرصے تک اسلام آباد میں رہنے کے بعد ۲۰۱۶ میں مکمل طور پر آسٹریا چلے گئے۔

حمیدالہ خان کی شادی ایک آسٹرئن خاتون سے ہوئ ہے ان کے دو بچے ایک لڑکی اورلڑکا بتدریج سوٹزرلینڈ اور آسٹریا میں رہتے ہیں- ان کے لڑکے باطور خان نے لندن سے معاشیات اورمنجمنٹ کی ڈگری لی ہے اور وہ اس وقت والدہ کی جانب سے دادا کا ۱۹۴۶ میں قایم کردہ Steel Construction کمپنی جو کہ چھ کمپنیون پر مشتمل ہے بطور CEO اور مالک بڑی کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے۔


شیئر کریں: