Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچئے…ماحولیاتی تبدیلی… تحریر:ہما حیات سید، چترال

شیئر کریں:

   ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ اتنا سنگین اور اور اس قدر زیر بحث ہے کہ بچہ بچہ بھی اس کے اثرات اور وجوہات انگلیوں پر بتا سکتا ہے۔ اس حوالے سے کتنا کام ہو چکا ہے، کتنا کیا جا رہا ہے اور کیا کیا منصوبے بن رہے ہیں اس کا بھی سبھی کو اندازہ ہے ۔ 

   اج کا مسئلہ بھی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہی ہے لیکن یہاں یہ کسی سیلاب کی صورت میں نہیں ہے۔ بات ہو رہی ہے کریم اباد کے علاقے بریݰگرام اور ݰوت کی۔ یہ علاقہ ہندوکش کے دامن کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس جگہ کی خوبصورتی لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میں اس کا پورا حق ادا نہ کر سکوں۔ جگہ جگہ پانی کے ٹھنڈے چشمے، لمبے اور تناور درخت، سر سبز زمین اور ان پر لگے رنگ برنگے پھول اس کی خوبصورتی میں اضافہ تو کرتے ہیں لیکن یہ ٹھنڈے چشمے کسی بھی وقت افت کی طرح اسے اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتے ہیں۔

     چونکہ یہ علاقہ ہندوکش کے ساتھ ہے، تریچ میر کے گلیشیرز سے نکلتا ہوا ٹھنڈا پانی زیر زمین اتا ہے اور ان ٹھنڈے چشموں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس علاقے کے پتھر ایسے ہیں کہ زور سے زمین پر دے ماریں تو کئی ٹکروں میں بکھر جاۓ۔ اب اپ اس کے مٹی کا اندازہ خود لگا لیں۔ جو کہ اس پانی کا زور برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کوئی خم زمین نہیں ہے بلکہ ڈھلوان ہے اور یہاں ابادی انہی ڈھلوانوں پر بناۓ گۓ ہیں۔

     میں جب چلتے چلتے اوپر پہنچی تو مجھے اوپر زمین پر دراڑ نظر ائی۔ میں نے نیچے دیکھا۔ وہی سر سبز و شاداب اور خوشگوار ماحول۔ اتنے میں اسکول کی گھنٹی بجی اور بچوں کے شور نے میرے ذہین کے خاکے بکھیر دیۓ۔ اس ماحول اور اس دراڑ کو دیکھ کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی کیونکہ جو منظر میں نے اپنے ذہین میں بنایا اگر خدانخواستہ وہ ہو جائے تو کیا ہو گا؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والے خیال کے ساتھ میں نیچے اتری۔ بریݰگرام سے ہوتی ہوئی میں ݰوت پہنچی۔ اور نیچے جانے پر پتہ چلا کہ اگے گھائی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو اسکولز ہیں۔ ایک سرکاری سکول اور دوسرا اغا خان پرائمری سکول۔ اگر خدانخواستہ اس دراڑ سے یہ زمین پھسل جاۓ تو اوپر کی زمین نیچے گر سکتی ہے اور بہت سے قیمتی جانوں کا ضائع ہو سکتا ہے۔

  ابھی تو وہاں کا موسم ٹھنڈا ہے اس لئے پانی کی مقدار کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سال گرمی میں تین گنا اضافے کا خدشہ ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس جگے کا جائزہ لے اور خطرے کی صورت میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرے یا پھر ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دیں اور لوگوں کو اطمینان میں لیں کہ جو کچھ میں سوچ رہی ہوں وہ کبھی نہیں ہو گا اور پھر ذرا سوچئے۔۔۔۔ بات یہاں قیمتی جانوں کے ساتھ ان اثاثوں کی بھی ہو رہی ہے جو مستقبل سنوارنے اور تعلیم کے زیور سے اراستہ ہونے کے لئے صبح صبح پر نور چہروں کے ساتھ اسکولز اتے ہیں۔


شیئر کریں: