Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فلم باغبان ……گل عدن

شیئر کریں:

بھارت کی اردو فلم باغبان آپ میں سے بیشتر لوگوں نے دیکھی ہوگی۔جسکی کہانی دو بوڑھے والدین کے گرد گھومتی ہے۔اپنی اولاد کو نازوں سے پالنے والے دوافراد جب بڑھاپے میں قدم رکتھے ہیں تو کس طرح اولاد کے ہاتھوں کھلونا بن جاتے ہیں۔جن بچوں کی ضروریات ‘خواہشات اور ہر خوشی کو پورا کرنا ماں باپ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کسطرح وہی اولاد انہی والدین کو دو وقت کی روٹی کتے بلیوں کی طرح پھینکتے ہیں۔اس پر ستم یہ کے والدین کی نظروں کے سامنے کتے بلیوں کو نا صرف پسندیدہ کھانا ملتا ہے بلکہ پیار محبت توجہ سب سے بڑھ کر عزت بھی ملتی ہے۔آپ کے والدین کو دنیا جو مرضی کہے مگر آپ کتے کو کوئی کتا کہنے کی ہمت نہیں کرتا ۔ ۔کچھ ایسے ہی تکلیف دہ کہانی ہے اس فلم کی۔ مگر کاش کے یہ کہانیاں ڈراموں فلموں تک محدود رہتی۔

اے کاش یہ کبھی حقیقت کا روپ نہ دھارتیں۔مگر ہماری بدقسمتی کی انتہا تو دیکھیے کے انڈیا کی ایک فرضی کہانی پاکستان کی گھر گھر کی حقیقی کہانی بن چکی ہے۔أپ کے اردگرد کتنے گھر ہیں جہاں والدین اولاد کی طرف سے اطمینان کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟؟ کتنے ایسے گھر ہیں جہاں بزرگوں سے اونچی آواز میں بات کرنے کو گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے ؟ گنتی کے دو چار۔۔!! ان دو چار خوشنصیب گھرانوں کو چھوڑ کر ہر گھر میں والدین اولاد کے ہاتھوں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔جانے کیوں ہم بوڑھے ہوتے والدین کو جذبات سے عاری کٹھ پتلیاں سمجھتے ہیں۔انکی مرضی جانے بغیر کبھی انکے ہاتھ میں ریموٹ تھما دیا۔کبھی تسبیح پکرادی وہ کس وقت کیا چاہتے ہیں یہ جاننا نہ ھم ضروری سمجھتے ہیں نہ ہمیں اتنی فرصت ہوتی ہے ۔دو وقت کی بد ذائقہ روٹی چار جوڑے کپڑے اور چند پیسے پکرا کر ہم جنت کے دعوےدار بن جاتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے ک کیا واقعی جنت اتنی آسانی سے ملتی ہوگی؟ کسی بھی گھر کے دسترخوان سے ہی آپ اس گھر کی بزرگوں کی اہمیت کا اندازا لگاسکتے ہیں جہاں جوان اولادوں کی من پسند کھانوں سے دسترخوان سج جاتے ہیں حتی کے پالتو بلی کو بھی اسکا پسندیدہ خوراک وقت پر دے دیا جاتا ہے لیکن بوڑھی ماں کا اک کپ دلیہ پکانا ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔میں قسم کھاتی ہوں ایسے بے شمار گھر ہیں ۔دسترخوان تو ایک حقیر مثال ہے مختصر یہ کے جو کچھ والدین اولاد کے لیے کرتے ہیں ہم اسکا ایک فیصد بھی حق ادا نہیں کر پارہے ہیں ۔


نبی کریم ؐ کے پاس ایک شخص سوال کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ؐ مجھ پر سب سے زیادہ حق کسکا ہے ؟ جواب فرمایا گیا ” تمھاری ماں کا۔ دوبارہ پوچھا یہی جواب ملا ۔تیسری بار بھی یہی جواب ملا پھر چوتھی بار یہی سوال دہرایا گیا تو آپ ص نے فرمایا گیا تمہارے باپ کا حق ہے۔اس حدیث سے ماں باپ کی عظمت واضح ہوجاتی ہے۔اور ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ چاہے ہم اپنے والدین کو عیش و عشرت کی زندگی دے پاتے ہیں یا نیہں دے پاتے مگر ہمارے اعلی اخلاق پر’ہماری محبت ‘شفقت’اخلاص’ ہمدردی ہماری نرم زبان پر پہلا حق صرف اور صرف ہمارے والدین کا ہے۔ اپنی والدین سے نافرمانی کرکے پورے زمانے کیساتھ اخلاق برتنے والا شخص دراصل بد اخلاق ہے ۔آپ نے اولاد میں فرق سنا ہوگا لیکن روۓ ذمین پر ایسے بدبخت اولاد بھی ہیں جو ماں اور باپ میں تفریق رکتھے ہیں۔جو ماں کو لیکر باپ کو ستا رہے ہوتے ہیں یا باپ کو لیکر ماں کی زندگی جہنم بنادیتے ہیں ۔ ایسے میں وہ شعر یاد آتا ہے کہ قیامت خود بتاۓ گی قیامت کیوں ضروری ہے۔ ۔


آج کرونا کا عذاب ہم سے نہیں ٹل رہا ہے تو جہاں دنیا میں ہم اسکی ذمہ دار بڑھتی ہوئی فحاشی’جھوٹ ‘غیبت دغابازیوں کو قراردیتے ہیں وہی میں سمجھتی ہوں ان سب گناہوں سمیت عذاب الہی کی سب سے بڑی وجہ والدین کی نافرمانی ہے ۔ہر گھر میں بوڑھے والدین باغی خودغرض اور بےحس اولاد کے ہاتھوں رو رہے ہیں ۔اس سب کے باوجود بھی اگر ہم عذاب سے بچے ہوئے ہیں ۔تو اسکی وجہ وہ چند معتبر گھرانے ہیں جہاں والدین کی عزت قائم ہے۔رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میری دعا ہے کہ اللہ ان گھرانوں کو تا قیامت آباد رکھے۔اور نافرمان اولادوں کو اللہ راہ ہدایت نصیب کرے۔اور اولاد کی توجہ محبت پیار کے دو میٹھے بول کو ترسے ہوۓ والدین کے لیے اللہ پاک آسانی پیدا فرمائے۔آمین ثمہ آمین


شیئر کریں: