Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلی نے صوبے میں جیم اسٹون لیبارٹری اور ٹریننگ اینڈ سر ٹیفیکیشن سنٹر کے قیام کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) منرل انویسٹمنٹ فسیلٹیشن اتھارٹی کا ایک اجلاس پیر کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبے میں جیم اسٹون لیبارٹری اور ٹیکنکل ٹریننگ اینڈ سر ٹیفیکیشنسنٹر کے قیام کیلئے محکمہ معدنیات کو نجی شعبے کے ساتھ باہمی اشتراک کا ر (جوائنٹ ونچر) کی اُصولی منظوری دے دی گئی ۔جیم اسٹون لیبارٹری اورسر ٹیفیکیشن سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں پائے جانے والے قیمتی پتھروں کو خام شکل کی بجائے جدید طرز پر اُنکی تراش خراش کرکے اُنہیں برانڈز کی صورت میں بین الااقوامی مارکیٹوں میں متعارف کروانا ہے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کرکے صوبے کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے ۔ یہ جیم اسٹون لیبارٹری، ٹیکنکل ٹریننگ اینڈ سر ٹیفیکیشن سنٹر حیات آباد پشاور میں واقع منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی موجودہ عمارت میں قائم کی جائے گی جس کیلئے نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ ونچر کیا جائے گا۔ اجلاس میں محکمہ معدنیات کو اس مقصد کیلئے نجی شعبے کے ساتھ جوائنٹ ونچر کی اُصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں مروجہ قواعد وضوابط اور شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔جیم اسٹون لیبارٹری ، ٹیکنکل ٹریننگ اینڈسر ٹیفیکیشن سنٹر میں قیمتی پتھروں کی جدید طرز پر تراش خراش کرکے اُنہیں برانڈ مصنوعات کی شکل دینے اور اُنہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سر ٹیفکیٹ کے اجراءکے علاوہ قیمتی پتھروں کی تراش خراش کیلئے فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی ۔ مذکورہ لیبارٹری اور سنٹر میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور مشینری کے علاوہسر ٹیفیکیشن کی سہولت نجی کمپنیاں فراہم کریں گی ۔


صوبائی وزیر بلدیات اکبر ایوب او روزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، وائس چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں گزارا فارسٹ میں معدنی سرگرمیوں سے متعلق اُمور بھی زیر بحث آئے اور تفصیلی غور وخوض کے بعد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو ایک مہینے کے اندر گزارا فارسٹ میں معدنی سرگرمیاں شروع کرنے کے سلسلے میں تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد عمل درآمد کیلئے ٹھوس تجاویز پیش کرے گی ۔ محکمہ ہائے معدنیات، جنگلات ، قانون اور سیاحت کے انتظامی سیکرٹریز کمیٹی میں بطور ممبر شامل ہوں گے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے جنگلات کے تحفظ اور جنگلات کے مجموعی رقبے میں اضافے کو موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جنگلات اور معدنیات دونوں شعبے اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت نے نہ صرف جنگلات کا تحفظ یقینی بنانا ہے بلکہ معدنی وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر صوبائی معیشت کو بھی مضبوط بنانا ہے ۔اسلئے گزارہ فارسٹ کی حدود میں واقع معدنی ذخائر کے استعمال کے حوالے سے حقیقت پسندانہ اور متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ صوبے کے مائن اینڈ منرلز کے شعبے میں جن لوگوں کو لیز دی گئی ہیںوہ مقررہ ٹائم لائنز کے اندر اپنی لیز کی جگہوں پر عملی سرگرمیاں شروع کریں اور جو لیز ہولڈرز مقرر ہ مدت کے اندر سرگرمیاں شروع نہیں کرتے اُن کے لیز منسوخ کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے بیش بہا معدنی وسائل کو موثر انداز میں استعمال میں لاکر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھارہی ہے ۔


شیئر کریں: