Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔احتیاطی تدابیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

کورونا کی وبا میں بازاروں کے اندر قوانین پر عملدر آمد کے لئے فو ج بلا ئی گئی ہے اندازہ یہ ہے کہ کورونا کے حملوں میں اسی طرح جا ری رہی مثبت ٹیسٹوں کی شرح 40فیصد سے آگے نکل گئی اور روزانہ اموات کی تعداد 160سے آگے بڑھی لو گوں کی طرف سے عدم تعاون اسی طرجار ی رہا تو امریکہ، بر طا نیہ، سعو دی عرب، ایران اور دیگر ملکوں کی طرح کر فیو کی نو بت بھی آسکتی ہے میڈیا میں دو با تیں زیر بحث ہیں پہلی بات یہ ہے کہ سول انتظا میہ کیو ں نا کام ہوئی؟ دوسری بات یہ ہے کہ سیا سی قیا دت کی طرف سے حا لات کی پیش بینی میں کیا کوتا ہی ہو ئی حا لا نکہ کورونا کی ما نیٹر نگ کا نظا م مو جو د ہے نیشنل کما نڈ اینڈ اپریشن سنٹر (NCOC) کی طرف سے وفاقی وزیر اسد عمر ہر روز قومی قیا دت کو وبائی مر ض کی صورت حا ل سے پرنٹ اورا لیکٹرانک میڈ یا کے ذریعے آگا ہ کر رہے ہیں اعداد شما ر پوری قوم دیکھ رہی ہے اس کے باو جو د لا ک ڈا ون کے فیصلے میں تا خیر کیوں ہوئی؟

راولپنڈی اور اسلا م اباد کی انتظا میہ کا تجربہ پوری قوم کے تجربات کا نچوڑ ہے، وفاقی دا رالحکومت کے جڑواں شہروں کی سول انتظا میہ کو دوطرح کے مسا ئل کا سامنا ہے پہلا مسئلہ یہ ہے انتظا می افسران پو لیس کی نفری لیکر بازار کے بلا ک اے کو بند کر کے بلا ک بی میں پہنچتے ہیں تو بلا ک اے دوبارہ کھل جا تا ہے انتظا میہ بازار کے 8بلا ک بند کر کے با ہر آتی ہے تو آٹھو ں بلا ک دوبارہ کھل چکے ہو تے ہیں بچوں کی آنکھ مچو لی یا چو ہے بلی کا کھیل سا را دن اسی طرح جا ری رہتا ہے پو لیس بعض مقدمات میں سر کار کی سر پر ستی سے محرومی کے بعد اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہے نواں کوٹ تھا نہ لا ہور کے واقعے نے پو لیس کا مورال بہت پست کر دیا ہے اس لئے سول انتظا میہ نے محسوس کیا کہ ”یہ بازو میرے ازما ئے ہوئے ہیں“ مجبو راً حکومت کو فو ج بلا نے کی ضرور پڑی جہاں تک سیا سی قیا دت کی طرف سے لا ک ڈاون کے فیصلے میں تا خیر کا تعلق ہے اس کی نما یا ں وجہ غریب اور دیہا ڑی دار طبقے کو فائدہ پہنچا نا تھا لا ک ڈاون کی صورت میں غریبوں کو مصیبت سے دو چار ہو نا پڑتا میڈیا میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ ہفتے میں دو دنوں کے لا ک ڈاون کا فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان سا منے آرہا ہے؟

محکمہ صحت کے ما ہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے آدھے لا ک ڈاون کا نقصان اس کے فائدے سے زیا دہ ہے ہفتہ اور اتوار کو اگر وائر س نہ پھیلا تو پیر اور منگل کو دگنی رفتار سے پھیلتا ہے عوام کی طرف سے انتظا میہ کے ساتھ تعاون کیوں نہیں ہوتا اس کی دو وجو ہات ہیں پہلی وجہ دو دنوں کے لا ک ڈا ون سے پیدا ہو نے والی کیفیت ہے یعنی لا ک ڈاون ختم ہوا پھر ڈر کس بات کا؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی زبا ن میں بات نہیں کر تی سب سے زیا دہ زور ایس او پیز (SOPs) پر دیا جا تا ہے سٹنڈرڈ اوپر یٹنگ پر و سیجر کا یہ مخفف کسی کی سمجھ میں نہیں آتا اس کی جگہ احتیا طی تدا بیر، وبا سے پر ہیز، جا ں ہے تو جہاں ہے کہا جا ئے تو عوام کی سمجھ میں آجا ئیگی لا ک ڈا ون کی جگہ بازار بند کی تر کیب استعما ل کی جا ئے، کارو بار بند کہا جا ئے، گاڑیوں پر پا بند ی کہا جا ئے تو عوام اس کی شدت کا احساس کرلینگے عوام اردو اور پشتو بولتے ہیں پنجا بی یا ہند کو بولتے ہیں حکومت انگریزی بولتی ہے درمیان میں ابلا غ کی دیوار حا ئل ہے فو ج کی مدد حا صل کر نے کے بعد لا زم ہے کہ مکمل لا ک ڈا ون کیا جا ئے بڑے شہروں میں کر فیو لگا کر وبائی مر ض پر قابو پا نے کی تد بیر کی جا ئے اس سلسلے میں رمضا ن، روزہ اور عید کوئی بہا نہ نہیں ”جان ہے تو جہاں ہے“۔


شیئر کریں: