Chitral Times

May 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندو مذہب میں روزہ…..ڈاکٹر ساجد خاکوانی( اسلام آباد،پاکستان)

شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

                ہندؤں میں روزے کے لیے’ورت“یا”برت“کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔یہ عمل قدیم زمانے سے جاری ہے۔اس زمانے کاتعن اس لیے نہیں کیاجاسکتاکہ ہندؤں کے ہاں لکھناپڑھناپاپ(گناہ) خیال کیاجاتاتھا،اس لیے بہت قدیم زمانے کی معلومات بس روایات کی حد تک ہی معلوم ہیں جوسینہ بہ سینہ چلتی رہیں اور پھر جب ہندوستان کے باسی مسلمان ہوئے توانہوں نے لکھنے پڑھنے کے کام کاآغاز کیا۔ہندؤں میں چارذاتوں کی بنیادپر احکامات میں نسلی تفرق موجود ہے۔چنانچہ ہر ہندی مہینے کی گیارہ اور بارہ تاریخوں میں برہمنوں کے ہاں روزہ رکھاجاتاہے،اس طرح سال بھرکے یہ چوبیس روزے ہوگئے۔آٹھ سے اسی سال کے مردو زن کوان تاریخوں میں بھوکے پیاسے رہنے کاحکم ہے۔ان ایام میں وہ رات بھراپنی مذہبی کتب کی تلاوت کرتے ہیں،مراقبے کرتے ہیں اور پھردن بھربھوکے اور پیاسے رہتے ہیں۔ہندوجوگی بھی بہت روزے رکھتے ہیں اور اس طرح انہیں نفس کشی کاملکہ حاصل ہوجاتاہے،روح کوشانتی یعنی اطمنان نصیب ہوتاہے اور ان کے عقیدے کے مطابق ان کے دیوتاان پر مہربان ہو جاتے ہیں۔ہندومت کی کتب میں درج ذیل روزوں کاذکر کثرت سے ملتاہے:

                ۱۔سال بھرمیں مختلف تہواروں کے مواقع پرروزہ رکھناجیسے سرسوتی اورشیوراتری کے تہوار۔

                ۲۔مقدس مقامات کی یاترا(سفرزیارت)کے موقع پر روزہ رکھنا۔

                ۳۔چاندکی نئی تاریخ اور پورے چاند کی تاریخ (پورنیما)کو گھرکے سربراہ اوراسکی بیوی کاروزہ رکھنا۔

                ۴۔بزرگوں،اساتذہ(گرو)اوردیگرقریبی افرادکے یوم وفات پرروزہ رکھنا۔

                ۵۔مہمان کی شان میں گستاخی ہوجائے تو میزبان کاروزہ رکھنا۔

                ۶۔کسی بڑے گناہ کے سرزدہونے پر معافی تلافی یاکفارے کاروزہ رکھنا۔

                ۷۔استادکے سامنے بے ادبی کے نتیجے میں استادسے معافی ملنے تک روزے رکھنا۔

                ۸۔کتا،بلی،سانپ،نیولایامینڈک سامنے سے یادوافرادکے درمیان سے گزر جائے تو تین دن کے روزے رکھنا۔

                ۹۔منت یانذرکے روزے رکھنا۔

                ۰۱۔ویدوں کی تلاوت کے اختتام پریاکسی خوشی کے میسرآنے پر شکرانے کاروزہ رکھنا۔

                روزے کی ایک قسم ”کڑواچوتھ ورت“بھی ہے۔”کڑوا“ مٹی کے برتن کوکہتے ہیں او”چوتھ“کامطلب چوتھاہے۔یہ روزہ ہندوتقویمی سال کے ایک مہینے”کارتیک“کی چارتاریخ کو رکھاجاتاہے۔یہ روزہ شادی شدہ خواتین رکھتی ہیں تاکہ ان کے شوہربحفاظت لمبی عمر پاسکیں۔ایک دن قبل اس روزے کے لیے خریداری کی جاتی ہے،جس میں میوہ جات،کپڑے،مہندی،مٹی کے چھوٹے برتن اور دیگر پھل اورمٹھائیاں وغیرہ  شامل ہوتی ہیں۔یہ روزہ کنواری لڑکیاں بھی اپنے منگیترکے لیے رکھتی ہیں تاکہ انہیں اچھااوران کی مرضی کے مطابق جیون ساتھی میسرآئے۔شادی شدہ خواتین ”کارتیک“کے مہینے کی چوتھی تاریخ کو طلوع آفتاب سے قبل اپنی ساس کے پاس جاتی ہیں جوانہیں سات قسم کے میوے،ساڑھی،مہندی،بندی،سندور،چوڑیاں اور دیگرزیورات بطور”سرگی“کے دیتی ہے،یہ ایک طرح سے ”سحری“کاسامان ہوتاہے۔سہ پہرکو یہ سب شادی شدہ خواتین ایک دائرے کی صورت میں اکٹھی ہوجاتی ہیں اور ساس کی دی ہوئی چیزوں کو تھالی میں ڈال کر سات دفعہ گھماتی ہیں اور آخری چکرمیں یہ تھالی اسی عورت تک پہنچ جاتی ہے جس کی ہوتی ہے۔اس رسم کو ”کتھا“کہتے ہیں۔رات کو چاند نکلنے تک یہ عورتیں روزے کے باعث بھوکی پیاسی رہتی ہیں،چاند نکلنے پر یہ عورتیں چھاننی سے پہلے چاند کو دیکھتی ہیں پھراپنے شوہر یعنی چھاننی میں جتنے سوراخ ہیں اس کاشوہراتنے سال زندہ رہے،اس کے بعد شوہراپنے ہاتھوں سے بیوی کاروزہ کھلواتاہے اور اسے پانی اورپرشاد کھلاتاپلاتاہے۔اس رسم کو شوہرکی ”آرتی اتارنا“کہتے ہیں۔ہندؤں میں چونکہ خواتین کی دوسری شادی کاتصورنہیں بلکہ مردہ شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ بیوہ کو بھی جلادیاجاتاہے اس لیے یہ خوفزدہ روزہ ہندوعورتوں کے ہاں رائج ہے اس کے مقابلے میں اسلام جیسے دین نے عورتوں کوجو مراعات عالیہ دی ہیں وہ ثریاستارے سے بھی کہیں بلندوبالااورآسمان کی وسعتوں کو چھوتی ہیں۔

                ہندؤں کے ہاں ہر دیوتایادیوی سے ہفتہ کاایک دن منسوب ہوتاہے۔یہ دن پیدائش،وفات،شادی،جنگ میں فتح یاکسی اور موقع کے باعث اس سے منسلک کردیاگیاہوتاہے۔اس دیوتایادیوی کے پجاری اس دن روزہ رکھتے ہیں اور بعض ہندواسی وجہ سے ہر ہفتے دودویاتین تین روزے بھی رکھتے ہیں۔”شانی“یا“شوتم“دیوتاکے لیے ہفتے کادن مقررہے،”ہنومان“دیوتاکے لیے منگل کادن مقررہے اور”سنتوشی ماتا“دیوی کے لیے جمعہ کادن مقرر ہے۔”نورتی شیورتری“ یہ ایک تہوارہے جو شیوادیوتاکی آشیربادکے لیے سال بھرمیں دودفعہ منایاجاتاہے،ایک دفعہ گرمیوں میں اور دوسری دفعہ سردیوں میں،اس تہوارکے موقع پر نوروزے رکھے جاتے ہیں۔”نورتی“کامطلب نوراتیں ہیں،یعنی نودنوں کے روزے رکھ کر شیوادیاتاکوخوش کیاجاتاہے۔”کرشنا“کی پیدائش ”آشتھامی“کے موقع پر ”درگاہ پوجا“کے تہوارمیں آٹھ روزے رکھے جاتے ہیں،یہ تہوارخاص طورپر مغربی بنگال کے ہندؤں میں رائج ہے۔روایات کے مطابق ”درگاپوجا“نامی دیوی نے جنگ میں فتح حاصل کی تھی اوراس فتح کوسچ کی فتح قراردے کر یہ تہوار منایاجاتاہے۔

                ہندؤں کے ہاں روزے رکھنے کے کوئی خاص اصول کتابوں میں تحریرنہیں ہیں۔جس گرو،پروہت یاپنڈت کی اقتدامیں پوجاپاٹ ہو رہی ہوتی ہے وہی اپنے تئیں روزوں کے اصول و قوائد مرتب کردیتاہے جو حالات اور افراد کے اعتبارسے مختلف بھی ہوسکتے ہیں یاہوتے ہیں۔ان روزوں میں کھانے پینے سے مکمل پرہیز کیاجاتاہے لیکن بعض روزے دار صرف نمک سے پرہیز کرتے ہیں،یاپھرصرف غلے سے بناکھانا کھاتے ہیں یا پھر ”پھل ہار“نامی بناہواکھانا کھاتے ہیں،بعض حالات میں صرف پانی اور دودھ پینے کی اجازت ہوتی ہے،یعنی یہ سب کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں یا محض کچھ چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور روزے سے بھی ہوتے ہیں۔”منوسمرتی“ہندؤں کی ایک کتاب ہے جس میں روزے کے بارے میں معمولی قوائد لکھے ہیں جس میں بتایاگیاہے کہ روزہ ایک طرح کی سزاہے جو مختلف اعمال کے نتیجے میں دی جاتی ہے۔ جیسے جوطالب علم طلوع آفتاب کے بعد تک سوتارہے وہ اگلے دن کاروزہ رکھے،جو کسی نامعلوم فرد سے کھانا کھالے تووہ تین دن تک روزے رکھے کیونکہ نامعلوم فرد کسی ایسی نیچ ذات سے ہو سکتاہے جس کے ہاں سے کھاناکھانا ممنوع تھا۔اسی کتاب کے مطابق ایک طرح کاروزہ ایسابھی ہے کہ تین دن صرف صبح کاکھانا کھائے،پھر تین دن صرف شام کاکھانا کھائے اور اگلے تین دن بن مانگے جو بھی اسے ملے صرف وہی کھائے،یہ روزہ بڑے گناہوں سے توبہ کاایک طریقہ ہے۔پوجاپاٹ کی بعض تقریبات میں تقریب کے اختتام تک بھی بھوکاپیاسارہ کر روزہ رکھاجاتاہے۔اورروزوں کی بعض اقسام میں جنسی تعاملات سے بھی پرہیز کیاجاتاہے۔

                حضرت یوسف علیہ السلام سے قیدخانے میں ساتھیوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو نبی علیہ السلام نے تبلیغ کایہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیااور ان سے پوچھا کہ  یٰصَاحِبَیِ  السِّجْنِ ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ(۲۱:۹۳)ترجمہ:”اے میرے قیدی ساتھیو،کیابہت سے خدابہترہیں یاایک زبردست خداجو سب پرغالب اورحاوی ہو؟؟“۔ہندوملت شرک کے باعث بہت سے خداؤں کو خوش کرنے کے لیے سال بھرمیں کتنے ہی روزے رکھتی ہے۔ان روزوں کے اصول جب کبھی آسمان سے نازل بھی ہوئے ہوں گے تو آج وہ کتب یاتوموجودہی نہیں یاپھراپنی اصلیت زبان و متن دونوں اعتبار سے کھو چکی ہیں۔اس مذہب میں خدا کی جگہ پرنسل در نسل بالادست طبقے کاحامل مذہبی پروہت آن بیٹھاہے جو اپنی مرضی سے حلال و حرام،جائزوناجائز اور صحیح و غلط کے فیصلے کرتاہے اورانسانی عقیدت واحترام وتقدیس و حرمتوں کے ایندھن کو اپنی حرس و حوس کی آگ میں جھونک کر دنیائے انسانیت کامذاق اڑاتاہے۔قرآن مجیدنے اس پر کتنابرموقع تبصرہ کیاہے کہ ا ِتَّخُذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ َ(۹:۱۳) ترجمہ:”انہوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کرتواپنے علماء اور اپنے درویشوں کو اپنارب بنالیاہے“۔دوسری طرف محسن انسانیتﷺنے کتناخوبصورت اور حسین و جمیل اور انسانی فطرت سے قریب ترین روزے کانظام دیاہے۔اس روزے سے تقوی کاحصول اور قرب الہی کے ساتھ ایمانی و جسمانی صحت اور دنیاوی و اخروی فوزوفلاح انسان کامقدر ہے۔اسلام کے دروازے کل انسانیت کے لیے کھلے ہیں،ہندؤں سمیت کسی ملک و ملت اور علاقہ و لسان کافرد ہواس سایہ عاطفت میں اپنی جگہ بناسکتاہے۔

drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں: