Chitral Times

May 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا اور ڈیجیٹل دنیا………….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


90سالہ تاریخ میں کرونا بدترین وباء ہے۔ کرونا نے دنیا کو ڈیجیٹل دور میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے باوجود،دنیا کی آدھی آبادی نہ صر ف ڈیجیٹل سہولیات سے محروم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت سے بھی ناآشنا ہے۔ کرونانے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اس وباء کے سبب چلنے والی ڈیجیٹل لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آن لائن نظام نے دنیا بھر میں کام کے تصور کر یکسر تبدیل کر دیا۔اب ہم ایک نئی ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔کرونا وباء سے پہلے دنیامیں تقریبا40%انٹرنیٹ استعمال ہو تا تھا۔ وباء کے بعد اس کا استعمال100%سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔جہاں دنیا کو ڈیجیٹل کرنے میں دہائیاں لگنی تھی کرونا وباء نے یہ کام چند ماہ میں کر دکھایا۔ویڈیو کانفرنسسز اور تحریری سہولیا ت کی دستیابی کے کاوربار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔زوم کے استعمال میں 10% اور اکامائی کے استعمال میں 30% اضافہ ہوا ہے۔بہت سی دیگر آن لائن خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی پراڈکٹس کا استعمال 100% تک پہنچ گیا ہے۔ کرونا وباء سے پہلے دنیا بھر میں آن لائن کام کا تناسب چند فیصد تک محدود تھا۔ یورپی یونین میں بمشکل30% کے لگ بھگ،ڈنمارک، نیدرلینڈز اور سویڈن میں 10%یونان،اٹلی اور پولینڈ میں بھی تقریبا یہی تناسب قائم تھا۔

امریکہ میں 20%،جاپان میں 16%اور ارجنٹینا میں محض1.6%افراد آن لائن کام کرتے تھے۔بین الاقوامی تنظیم برائے مزدوراں کے مطابق عالمی سطح پر تقریبا7.9%یعنی260ملین افرادکرونا وباء سے پہلے آن لائن کام کرتے تھے۔کرونا وباء کی آمد کے ساتھ ہی ارجنٹینا نے ٹیلی پالیسی اپناتے ہوئے93%کام آن لائن شروع کر دیا۔مغربی ممالک میں گھر سے کام کی نوعیت24%سے تبدیل ہو کر31%سے تجاوز کر گئی۔ امریکہ میں یہ تناسب34%سے تجاوز کر گیا۔تاہم غریب ممالک میں ابھی ٹیلی ورکنگ کا تصور زیادہ مقبول نہیں ہوا۔2019میں 29%افریکی اور دیگر غریب ممالک کے 19%لوگ انٹرنیٹ استعمال کر تے تھے۔ اس کے مقابلے میں یورپی اقوام80%انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی۔ ڈیجیٹل لہر کے فوائد کے ساتھ ہم اس کے نقصانات کابھی سامنا کر رہے ہیں۔آن لائن فراڈ، سکیمز،جاسوسی، اور عدم تحفظ کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل مجرمین وباء سے پیدا ہونے والے بحران میں عوام کا استحصال کرنے میں مگن ہیں۔عوام پیسوں اورمعلومات دونوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل نظام پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

ڈیجیٹل مجرمین کو اس لیے بھی برتری حاصل ہے کیونکہ ان کے پاس ڈیجیٹل جرائم کرنے کا پہلے سے ا یک منظم نظام موجود ہے جبکہ سیکورٹی ادارے ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔ کرونا وباء کی وجہ سے اچانک پھیلنے والی اس ڈیجیٹل لہرنے سوفٹ کریمنلز کو تقویت دی ہے۔موجودہ صورتحال میں ڈیجیٹل سیکورٹی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے سنہری موقعہ ہے۔اس ڈیجیٹل لہر نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ غریب ممالک ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں اور شاید اس ڈیجیٹل خلاء کر کبھی پر نہ کیا جاسکے۔انٹرنیٹ کے بغیر افراد دیگر دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ وباء کے بعد کا دورانیہ اس معاشرتی خلیج کو مزید وسیع کر دے گا۔وباء کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کی حکمرانی کاقوی امکان ہے۔ڈیجیٹل کمپنی مالکان نے نوٹوں اور سکوں کے زریعے وباء پھیلنے کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ڈیجیٹل کرنسی پر منتقل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس ڈیجیٹل لہر کے پھیلاوکے ساتھ ساتھ ذاتی معلومات کی رازداری اور عدم تحفظ کا خوف بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایک پائیدار نظام کے بغیرآن لائن کام میں ڈیجیٹل جاسوسی سے بچنا محال ہے۔ڈیجیٹل جاسوسی جسمانی جاسوسی سے زیادہ آسان ہے۔تاریخی لحاظ سے ٹیکنالوجی نے تبدیلی لانی والے دیگر جدیدطریقوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل تبدیل زندگی کے ہر شعبے کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔ تعلیم کے شعبے میں یہ آن لائن تعلیم و تعلم کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کو فروغ دے گی۔عالمی سطح پر مردوں کے مقابلے میں خواتین 12%کم انٹرنیٹ استعمال کر تی ہیں۔ 2013-17کے دوران یہ خلاء ترقی پذیر ممالک میں کم ہوا جبکہ غریب ممالک میں 30%سے بڑھ کر 33%تک پہنچ گیا۔ روائیتی لحاظ سے ٹیکنالوجی نے کام کی طاقت کو تیزی سے متاثر کیا ہے۔موجودہ ڈیجیٹل لہر بھی اس شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔2030تک تقریبا800ملین لوگ اپنی نوکری خودکار مشینوں کے سپر د کر دیں گے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی تعلیم میں ڈیجیٹل تعلیم،سوفٹ مہارتیں اور فاصلاتی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں۔

ٹیکنالوجی کی اس لہر نے نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔کرونا وبا ء کی وجہ سے188ممالک نے تعلیمی اداروں کو بند کردیا۔ عالمی سطح پر1.6ملین سے زیادہ طلبہ لاک ڈاون سے متاثر ہوئے۔جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں تھی وہ دوسروں کی نسبت کہیں پیچھے رہ گئے۔ یونیسیف کے مطابق عالمی سطح پرتقریبا463ملین طلبہ کرونا وباء کے آغاز پرآن لائن تعلیم سے محروم رہے۔عالمی سطح پرامیر گھرانوں کے سکول کی عمر کے 58%بچوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے جبکہ غریب گھرانوں میں یہ تناسب محض16%ہے۔ ذاتی معلومات کی ملکیت اور تحفظ کو بھی شدید خطرات درپیش ہیں۔دنیا کی تقریبا آدھی سے زیادہ آبادی سوشل میڈیا کے زریعے رابطے میں ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس لہر نے دنیا کوسوشل میڈیا کے زریعے معلومات کی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔عالمی سائبر سپیس دنیا میں جدید ڈیجیٹل دیوار تعمیر کر دے گی۔

ٹیکنالوجی کا عدم توازن اور غیر منصفانہ تقسیم ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر انداز ہوگی۔کرونا وباء او ر ٹیکنالوجی کی جدید لہر، سماجی فاصلے کا تصور اور لاک ڈاون نے لوگوں کے رویوں، سوچنے سمجھنے کے انداز، معاشی نقطہ نظراور سماجی رہن سہن کو تبدیل کر دیا ہے۔وباء اور ڈیجیٹل لہر نے کام کے تصور کو بدل دیا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں کام کا مطلب ہدف کی بنیاد پر کام،ہر وقت کام اور ہرلمحہ آن لائن موجودگی ہے۔وباء کے بعد کے عرصہ میں آن لائن کام زیادہ فوقیت حاصل کر لے گا۔ ناکافی اور غلط معلومات کا سیلاب اور اس کا خطرہ بھی بہت خطرناک نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف وباء سے نپٹنے میں دشواری کا سامنا ہے بلکہ اسے داخلی اور خارجی عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھی استعمال کر تے ہیں۔

ناکافی اور غلط معلومات نے لوگوں کی جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔فیسبک اور گوگل نے 2018میں یورپی یونین سیلف ریگولیٹری کوڈ آف پریکٹس آن ڈس انفارمیشن پر دستخط کیے۔بعد میں مائیکروسافٹ اور ٹک ٹاک بھی اس معاہدے میں شامل ہوئے۔2020میں یورپی کمیشن نے کرونا وباء سے متعلق غلط اور ناکافی معلومات کی روک تھام کے لیے ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس سلسلے میں گوگل نے لاکھوں اکاونٹس کو مستقل اور عارضی بنیادوں پر بند کیا۔ مائیکروسافٹ نے2020میں عالمی سطح پر3871425 سبمیشن رد کیں۔ ٹوئٹرنے 4000ٹویٹس رد کیے اور2.5ملین اکاونٹس کو تنبیہ کی۔ فیسبک نے 4.1ملین اکاونٹس کو وارننگ دی۔ اس سب کے باوجود ابھی بھی موثر ڈیجیٹل کنڑول کی اشد ضرورت ہے تاکہ ناکافی اور غلط معلومات کے اس سیلاب میں محفوظ رہا جائے۔

ورلڈبینک کے ایک مشترکہ جائزے کے مطابق2019کے مقابلے میں 2020کے پہلے نصف میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں 21%اضافہ ہوا۔ تیزی سے بڑھتے معاشی حجم کے ساتھ سائبر حملے اور ڈیجیٹل فراڈ میں بھی تیزی آگئی ہے۔یہ سلسلہ مالی تحفظ اور معاشی پائیداری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔اگر ملکی اور عالمی سطح پر ایک مضبوط ڈیجیٹل کنڑول سسٹم جلد ترتیب نہ دیا گیا تو مالی اور معلوماتی سائبرجرائم سائبر منی لانڈرنگ اور آن لائن سمگلنگ کو تقویت دیں گے۔اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ کرونا بحران کے دوران ڈیجیٹل لہرمیں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں چھوٹی اور مقامی کمپنیوں کو ہڑپ کر جائیں گی۔


شیئر کریں: