Chitral Times

May 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ نے پشاور کے مذید چھ علاقے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ کار میں دینے کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی بورڈ کے اجلاس میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے مزید چھ علاقے اتھارٹی کے دائرہ کار میں دینے کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ معاملہ حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش پیش کیا جائے گا جس کے بعد ان علاقوں کا بطور اتھارٹی ایریا باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اتھارٹی کے دائرہ کار میں شامل کرنے کیلئے نئے مجوزہ علاقوں میں کوہاٹ روڈ(پشاور اربن حدود تک )، جمرود روڈ سے منسلک ناصر باغ روڈ، خیبر روڈ سے ناردرن بائی پاس تک ورسک روڈ، باچا خان چوک سے شروع ہونے والا چارسدہ روڈ (7 کلومیٹرتک) اور گندھارا سٹی کے قیام کے لئے متعین جگہ شامل ہیں۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے )کے بورڈ کا پانچواں اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا۔صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑااور اکبر ایوب کے علاوہ بورڈ کے دیگر اراکین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پی ڈی اے کے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غورو خوص کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت اتھارٹی کے ڈیوٹی ایریاز میں پانچ مختلف علاقے شامل ہیں جن میں حیات آباد ، ریگی ماڈل ٹاﺅن، جی ٹی روڈ این۔5 ، رنگ روڈ پشاور اور موٹروے ٹول پلازہ تک موٹروے کا سنگم شامل ہیں۔ بورڈ نے پی ڈی اے کے مذکورہ دائرہ کار کو توسیع دینے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اتھارٹی اس وقت متعدد فلیگ شپ منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں گندھارا سٹی، نیا جنرل بس سٹینڈ ، رنگ روڈ کا شمالی سیکشن اور ڈیٹور روڈ کے منصوبے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اجلاس میں اتھارٹی کے تحت اسٹیٹ مینجمنٹ کیلئے نظر ثانی شدہ ریٹس اور فیس کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے آکشن ریگولیشنز 2021 کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں پشاور شہر کی مزید بہتری اور خوبصورتی کیلئے نجی شعبے کے ذریعے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی بنیاد پر اقدامات اٹھانے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے نجی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یاداشت کیلئے مجوزہ شرائط و ضوابط کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حیات آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری کیلئے مجوزہ پلان سے اصولی اتفاق کیا گیا جبکہ ناردرن بائی پاس منصوبے کیلئے درکار اراضی نیشنل ہائی ویزاتھارٹی کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر قبرستان کے حوالے سے عوامی ضروریات اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حیات آباد سے باہر فیز۔VI سے منسلک ایک نیا قبرستان قائم کرنے کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے 200 کنال اراضی کے حصول کی منظوری بھی دی گئی ہے۔وزیر اعلی نے پی ڈی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ادارے کے تحت صوبائی دارالحکومت پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوامی مفاد کے یہ منصوبے بلا تاخیر مکمل ہوسکے اور عوام جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہوں۔ انہوں مزید ہدایت کی حیات آباد کی خوبصورتی کے منصوبے کو اس سال جون تک مکمل کیا جائے جبکہ بی آر ٹی کوریڈور کی تزین و آرائش کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔
<><><><><><>

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے اتوار کے روز بغیر کسی پروٹوکول اچانک سنٹرل جیل پشاور کا دورہ


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے اتوار کے روز بغیر کسی پروٹوکول اچانک سنٹرل جیل پشاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے جیل کے لنگر خانے کا معائنہ کرکے وہاں پر قیدیوں کے لئے تیار کیے جانے والے کھانوں کے معیار اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلی نے لنگر خانے میں صفائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لنگر خانے کے انچارج کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کئے جبکہ ڈیوٹی پر موجود اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کو وارننگ دیتے ہوئے صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلی نے جیل کے ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر قیدیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ قیدیوں کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی نے اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وہ قیدیوں سے بھی ملاقات کی اور ان سے جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے معلومات حاصل کیں۔ بعض قیدیوں نے وزیر اعلی کو بتایا کہ وہ اپنی مدت قید پوری کرچکے ہیں لیکن جرمانے کی رقم ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے انہیں رہائی نہیں مل رہی۔ جس پر وزیر اعلی نے ایسے تمام قیدیوں کے جرمانے اپنی جیب سے ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ایسے تمام قیدیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلی نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ رمضان کے مہینے میں قیدیوں کو سحری اور افطاری میں معیاری اور صاف ستھرے کھانوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، قیدیوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قیدیوں کو کارآمد شہری بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔


شیئر کریں: