Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایران جوہری معاہدہ اور اس کے مثبت نتائیج۔۔۔۔۔۔محمد آمین:

شیئر کریں:

ایران نیوکلیر معاہدہ جس کو Joint Comprehensive Plan of Action)) بھی کہاجاتا ہے ایک تاریخی واقعہ ہے جو ایران،امریکہ،فرانس،جرمنی،برطانیہ،چین اور روس کے درمیان طے پایا تھا اس سے P+5 بھی کہاجاتا ہے کیونکہ اس میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے علاوہ جرمنی بھی شامل ہے۔یہ اہم معاہدہ جون 2015 ؁ء میں سائن ہوا تھا۔اور فروری 2016 میں نافذ ہوچکا تھا؁؁۔جے۔سی۔پی۔او۔اے (JCPOA) ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے حصول میں مخصوص پابندی ڈال دیا اور بدلے میں ایران پر لاگو پابندیوں کے حوالے سے ریلیف مہیا کیا۔2018 ؁ء میں امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلاں کردیا کیونکہ بقول اس کے یہ ایک ناکام معاہدہ تھا جو ایران کے میزائیل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے میں ناکام ہو چکا تھا۔
اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے اپ کو پابند بنا دیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کر سکے گا اور جوہری پلانٹس کو بین الاقوامی نگرانی کے لیئے کھول دے گا۔بدقسمتی سے جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو معاہدے سے الگ کردیا تو یہ اہم معاملہ خطرے میں پڑگیا۔

امریکہ کی رخصتی اور دو سال بعد اہم ایرانی شخصیات پر حملے کے جواب میں ایران نے اپنی بعض جوہری سرگرمیان شروع کردی ہے۔معاہدے میں شامل طاقتین ایران کے جوہری پروگرام میں اس سطح تک سکوت چاہتے تھے کہ اگر ایران جوہری پروگرام کو حاصل کرنے میں کوشان رہے تو اس میں کم از کم ایک سال لگے گی جو عالمی قوتون کو جواب دینے کے لیئے وقت مہیا کرے گا۔مذید اس وقت کے امریکین اینٹلیجنس نے خبر دار کیا تھا کہ ایک جامع معاہدے کی عدم موجودگی سے ایران پانچ مہینے کے اند ر کافی یورینم ذخیرہ کر سکتی ہے جس سے وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتی ہے۔عالمی قوتوں کو خدشہ لاحق تھا کہ اس صورت میں مشرق وسطیٰ میں ایک نیا عالمی بحران پیدا ہو گا اسرائیل نے پہلے ہی سے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسی صورت حال میں ایرانی تنصبات کو نشانہ بنائے گا اور بدلے میں حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ایکشن لے گا نیز سعودی عرب نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتیھار حاصل کیا تو سعودی عرب بھی ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرے گی۔


اگر اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پروگرام کا جائزہ لیا جائے تو ایران نے پہلے ہی جوہری صلاحیت کی کوششوں کو ترک کیا تھا کیونکہ وہ نیوکلیائی عدم پیھلاو (Nuclear Non Proliferation)پر دستخط کیاتھا۔لیکن 1979؁ء کی اسلامی انقلاب کے بعد حالت بدل گئے اور اسلامی ریاست کے رہنماوں نے خفیہ طور پر ایران کی جوہری پروگرام کا اغاز کر دیے۔2007؁ء کے امریکی خفیہ ادارون کی رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003ء میں اس سرگرمی کو منسوخ کیاتھا لیکن بعد میں دوبارہ شروع کیا۔جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اس تاریخی معاہدے کے مطابق ایران اعلی کوالٹی کے یورنیم یا پلوٹینم کا زخیرہ نہیں کرسکے گا جو ایٹمی ہتھیار بنانے میں استعمال ہو نگے،نیز ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ فاردو،ناتنز اور اراک میں موجود سہولتین صرف سویلین فوائد یعنی میڈیکل اور صنعتی تحقیقات کے لیئے استعمال کیاجائے گا۔

معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے نے ایران کے مختلف جوہری تنصیبات کا جائیزہ لئے اور ایران نے اس حوالے میں مکمل تعاوں کیا جس کا رپورٹ ایجنسی نے اپنے بورٹ اف گورنرز اور سلامتی کونسل کو فراہم کرتے رہے کہ ایران معاہدے کے تحت مکمل تعاوں کر رہی ہے۔لیکن جیسے صدر ٹرمپ اقتدار میں ایا اس نے اپنے علاقائی اتحادیوں خاص کر اسرائیل کوخوش کرنے کے لیئے اس اہم معاہدے سے الگ ہوا جو دوسر ے شرکاء کے لیئے حیرانگی سے کام نہیں تھا انہوں نے امریکن صدر کو باور کرنے کی کوشش کی لیکن سب کو معلوم ہے کہ غیر سنجیدہ ادمی صرف اپنی انا کامان سکتا ہے وہ تو چند ممالک کو چھوڑ کر سب کے ساتھ مخالفت والی پالیسوں پر کام کرتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر پہلے سے بھی سخت پابندیان عائد کردیا۔اس معاہدے سے پہلے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بناء اس کی اقتصادیات بری طرح متاثر ہو چکی تھی اور توانائی کی سیکٹر میں پابندیوں کی بدولت ایرانی کرنسی بری طرح گر چکی تھی۔جے۔سی۔پی۔او۔اے کے تحت ایران اس قابل ہوا کہ یومیہ 2.1ملین بیرل تیل برامد کرنے لگا جس سے ایرانی کرنسی مضبوط ہونے لگی،بیرونی زرمبادلہ میں اضافہ ہوا۔


جب سے امریکہ میں جو بائیڈن کی حکومت ائی ہے تو الیکشن مہم کے دوراں ہی اس نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بحال کرنے کا اعلان کرچکا تھا۔نئی امریکی انتظامیہ اب اس شرط کے ساتھ دوبارہ نیوکلیر معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے اور میزائیل پروگرام کوبھی معاہدے میں شامل کرنے کی بات کیجارہی ہے۔ایران کا موقف ہے کہ امریکہ معاہدے میں بغیر کسی شرط کے شامل ہو جائیں۔ایرانی وزیر خارجہ محمدزریف نے ستمبر 2020ء میں اپنے ایک بیاں میں یہ واضح کردیا کہ ایران دوبارہ بحث(renogotiation )کے لیئے کبھی بھی تیار نہیں ہے اور امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے ایران کو ایک ٹریلین یو ایس ڈالر کا نقصاں ہوا جس سے امریکہ کو ہمیں ادا کرنا چاہئے۔لیکں حال میں اسٹریا کے شہر ویانا میں بات چیت کے پہلے راونڈ اختتام پذیر ہوئے اس سے امید کے نئے کرن نظر اتے ہیں،اور تمام شرکا بمعہ ایران نے اس سے خوش ائیند اور حوصلہ افزا قرار دیئے۔
جہان معاہدے کی کامیابی کا پاکستان سے تعلق ہے تو اس کے مثبت نتائیج برامد ہون گے۔

ایران پاکستان گیس پائیپ لائن جو کئی سالوں سے امریکی پابندیوں کا شکار ہوئی ہے اس میں نئی جان اسکتی ہے،نیز پاکستان ایران سے تیل درامد کرسکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیاں باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔لیکن جو سب سے خوش ائیند بات ہے کہ حال ہی میں چین اور ایران کے مابین پچیس سالہ اسٹریٹجیک پرٹنرشپ کے نام سے ایک معاہدہ پردستخط ہوا ہے جس کے مطابق چین اس دورانیے ایران میں 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگی اور ایران سستے دام پر چین کو تیل فراہم کرے گا جس کے مثبت اثرات پاکستان کو بھی پہنچے گا کیونکہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے دانشمندانہ فیصلہ کرکے نئی اتحاد میں شامل ہو رہی ہے اور ایران چین کی ون بلٹ ون روٹ پروجیکٹ میں شامل ہو چکی ہے۔اور بتائی یہ جارہی ہے کہ ایران نے پاکستان کو بھی اس اہم معاہدے میں شامل کرنے کی حامی بھر لی ہے۔


شیئر کریں: