Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندراپ /شندور نیشنل پارک“ عوامی وسائل پر جبراََ قبضہ کی سازش ہے۔۔خان اکبر خان

شیئر کریں:

گلگت بلتستان (چترال ٹائمز رپورٹ) عوام بالائی غذر ”ہندراپ /شندور نیشنل پارک“ کو عوامی وسائل پر جبرا قبضہ سمجھتے ہیں۔ تحفظات و اعتراضات اور تجاویز اس وقت کار آمد ہو سکتے ہیں جب منصوبہ مکمل طور پر مسترد شدہ نہ ہو۔ہندراپ/شندور ایریا ز میں جنگلی حیات کے پارکس عوامی حقوق و وسائل پر قبضہ کی سازش ہے۔جو لوگ عوام کی تحفظات اور تجاویز کا مشورہ دیتے ہیں وہ دراصل اس منصوبے کی حقیقت سے نا بلد ہیں۔1993؁ء کو شکیل درانی نامی چیف سیکریٹری نے اپنی من پسندی پر اس پارک کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اسے عوام نے مسترد کئے تھے آج 2021کو اس نوٹیفکیشن کو سامنا لانا عوام میں تصادم پیدا کرنے کی مترادف ہے۔عوام تحصیل پھنڈر بنیادی طور پر نیشنل پارک کے خلاف ہے پھر مشاورت کرنا وقت کا ضیاع ہے اور عوام کو تنازعات میں الجھا کر ترقیاتی عمل سے دور رکھنے کی سازش ہے۔


ان خیالات کا اظہار نیشنل پارک نا منظور کمیٹی کے ذمہ داران خان اکبر خان، محمد عجب خان، عبد العزیز خان، ذار خان، جاوید حیات، خوشی ذار، نمبردار چھیر گولی خان، شاہین شاہ، محمد عجب، عبد الحمید و دیگر نے اپنی ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں کمشنر گلگت ڈویژن آفس کے کانفرنس حل میں ہونے والی اجلاس جس میں سیکریٹری جنگلات گلگت بلتستان، کمشنر گلگت، ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد، ڈپٹی کمشنر غذر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ذمہ داران کو عوام تحصیل پھنڈر نے اپنی دو ٹوک الفاظ میں واضح کئے کہ ”ہندراپ/شندور نیشنل پارک عوامی چراگاہوں اور علاقے کے وسائل پر قبضے کی انتظامی کوشش ہے جبکہ دوسری طرف علاقے کے سرحدی ایریاز کے پی کے اور کوہستان کے ساتھ تنازعات کا شکار ہے۔حکومت شندور تنازعے کو حل کئے بغیر اس ایریے میں کسی بھی قسم کے عوامی چراگاہوں میں مداخلت نہیں کر سکتی جس سے عوام کا آپس میں تصادم ہونے کے ساتھ ساتھ کے پی کے کے عوام سے بھی الجھنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اجلاس میں عوامی نمائندوں نے واضع کیا کہ ہندراپ اور شندور کے نام پر آئندہ ایسے متنازعہ پروجیکٹ کو سامنے نہ لایا جائے جس سے عوام کی آپس میں تنازعات بڑھ جائیں اور تصادم کا خطرہ ہو۔


شیئر کریں: