Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حیدر زمان موت کی آغوش میں…… تحریر: فرازخان فراز

شیئر کریں:


زندگی عارضی ہے موت کے بعد کی زندگی دائمی ہےدو روزہ زندگی کے ساتھ وہی لوگ محبت رکھتے ہیں جن کو موت تک کی خبر نہیں ہےاوراپنےبرے افعال سے باز نہیں اتے ۔حیدر پھول جیسا بے گناہ بچہ گناہ گاروں کے ہاتھوں موت کی اغوش میں تو چلا گیا لیکن والدین کی پیاس بجھانے والا کون ہوگا شاید قانون کی گرفت میں وہ سزاوار تو آئیں گے مگر لخت جگر کی خوبصورت یادیں ماں سے چھین لی گئی ادھار ادا کون کرے گا ۔

ذمہ دار لوگوں سے التجا ہےکہ انسانی ہمدردی کا لباس پہن کر اس قیامت خیز منظر کو دیکھنے کی اشدضرورت ہے اور سب ملکر انصاف کے دروازے پر دستک دینا عین انسانی ہمدردی ہےاور یہی قانون کی بالادستی ہے کیونکہ حیدر کو کسی نے ہم سے قیامت تک چرالے گیاہے ۔

ہاے صدافسوس وہ بے قصور معصوم بچہ ہم سے کتناخفاہےاوروثوق سے کہناپڑتا ہےکہ وہ نہ کبھی واپس آئے گااور نہ آپ کی پیاری روح ہم جیسےبےوفادنیاوالوں کو بخش دے گااورنہ اپنے قاتل کو اللہ کی عدالت میں خالی رنگوں ہاتھ چھوڑےگا۔

جاتے ہوے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا بھی ہو گا کوئی دن اور


شیئر کریں: