Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان کا آدھا مسلمان …… پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 
روزہ رکھتا ہوں مگر منافع خور بھی ہوں، نماز پڑھتا ہوں مگر ذخیرہ اندوز بھی ہوں۔ تراویح پڑھتا ہوں مگر ماپ تول میں کمی بھی کرتا ہوں،روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہوں مگر ملاوٹ بھی کرتا ہوں۔ تسبیح پڑھتا ہوں تو جعلی اشیاء کی خریدوفروخت بھی کرتا ہوں۔ رات بھر فلمیں دیکھ کر اورگیمز کھیل کر سحری بھی کرتا ہوں۔ سود لیتا ہوں تو مسجد کو چندہ بھی دیتا ہوں۔دن بھر عوام کو لوٹنے کے بعد افطاری سے پہلے لمبی دعا بھی مانگتا ہوں۔آخر میں بھی آدھا مسلمان تو ہوں۔ کرسمس، ایسٹر،دیوالی، ہولی یا کسی اور مذہبی تہوار کے موقعہ پراتنی مہنگائیتی جتنی رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمانوں کی تعداد چند فیصد تک محدود ہے وہاں اس ماہ مبارک میں سٹورز پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ سوائے چند مسلم ممالک کے باقی سب میں اچانک مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل آتا ہے۔رمضان مافیا اشیاء خوردونوش کوہ قاف کی پہاڑی پر چپکا دیتا ہے۔

رمضان سے قبل سرکاری رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی اوسط شرح 8.7%  رہی جبکہ صرف کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں میں اضافے کی شرح تو 10%  سے بھی زیادہ تھی۔تاہم 8.7% کی شرح بھی دنیا کے 161 ملکوں سے زیادہ ہے۔ صرف گنتی کے چند ملکوں میں ہی مہنگائی کی شرح 8%  سے زیادہ ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق بھی بھارت میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 4.1%، سری لنکا میں 3.3%، انڈونیشیا میں 1.4%، اور جنوبی کوریا میں 1.1%  تھی جبکہ چین اور ملائشیا میں مہنگائی کی بجائے اشیا کی قیمتوں میں فروری کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطا 0.2% فاور تھائی لینڈ میں 1.2% کمی ریکارڈ کی گئی۔ترقی یافتہ ممالک میں امریکا میں مہنگائی کی اوسط شرح 1.4%، برطانیہ میں 0.4%، آسٹریلیا میں 0.9%  اور جاپان میں منفی0.6رہی۔ہمارے ملک کا باواآدم ہی نرالا ہے یہاں ہمیشہ الٹی گنگا بہتی ہے۔مہنگائی کنڑول کرنے کے بجائے سبسڈی کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ عام آدمی سیاسی چالوں سے ناآشنا ہے۔ ایک طرف ہر چیز کو مہنگا کرکے کئی گنا ٹیکس وصول کیے جاتے اور پھراونے پونے داموں کی سبسڈی کا لولی پاپ دے کر عوام کو الو بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی جانچنے کا پیمانہ کنزیومر پرائس انڈیکس ہے جسے عام طور پر سی پی آئی کہا جاتا ہے۔

اس انڈیکس کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی کی شرح کو معلوم کیا جاتا ہے۔کنزیومر پرائس انڈیکس میں آبادی کی عمومی استعمال میں آنے والی اشیا اور خدمات کا ایک سیٹ بنایا جاتا ہے جسے سی پی آئی باسکٹ کہا جاتا ہے۔ اس باسکٹ میں موجود مختلف چیزوں کی قیمتوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔سی پی آئی باسکٹ کے مطابق ایک پاکستانی اوسطاً 34.58%کھانے پینے کی اشیا پر خرچ کرتا ہے، 26.68%  مکان کے کرائے، بجلی، گیس، پانی کے بلوں اور ایندھن پر، 8.6%کپڑوں اور جوتوں کی خریداری پر، تقریباً 7%ہوٹلنگ، تقریباً 6%نقل و حمل،4%سے زائد گھر کی تزئین و آرائش اور مرمت پر، 3.8% تعلیم اور 2.7% صحت پر خرچ کرتا ہے۔پاکستان میں مالی سال 2018-19 میں مہنگائی کی شرح مجموعی طور پر 6.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جو مالی سال 2019-20 کے اختتام پر 10.7 فیصد کی شرح پر بند ہوئی۔ن لیگ کے دور میں اسحاق ڈار صاحب نے مہنگائی 4%رکھنے کا دعوی کیا تھا موجودہ حکومت ڈار صاحب کو راڈار پر لانے کی کوشش میں ناکام ہو چکی ہے۔ کچھ ماہرین معاشیات اس مہنگائی کی وجہ ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول بتاتے ہیں مگر عام آدمی اس منطق کو نہ صرف سمجھنے سے قاصر ہے بلکہ ماننے کو بھی تیار نہیں۔ حکومتی سطح پر مہنگائی کو کنڑول کرنے کا فقدان ہے۔ باقی مہینوں کی نسبت رمضان میں عام استعمال کی اشیاء کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔

ہر سال حکومت  بروقت اقدامات کے بجائے مہنگائی کی عجب منطق پیش کرتی ہے۔پھل، سبزیاں، بیسن، چنا، چینی، سرخ مرچ، کھجور، گھی، آئل اور چند دیگر اہم چیزوں کی قیمتوں کو قابو میں کرنے کے لیے اگر حکومت رمضان سے دو ماہ قبل اقدامات کر لے تو مہنگائی کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے رمضان سے پہلے ان اشیاء کی طلب کے مطابق سپلائی کا مناسب انتظام کرے تاکہ غربت سے پسی عوام کو قمار بازوں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ حکومت جعلی مہنگائی مافیا کے خلاف بے بس نظر آتی ہے۔ رمضان کا آغاز ہو تے ہی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کی وجہ تلاش کر کے اس کا سدباب نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی ایوان اس لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں۔ کولڈسٹور مافیا کی نگرانی کی جائے تو مہنگائی بہت حد تک کم کی جا سکتی ہے۔ مہنگائی کا دوسرا بڑا محرک مارکیٹ کمیٹیاں ہیں جو نرخوں کا تعین کرتی ہیں۔

معیشت کے اصولوں سے بے بہرہ مارکیٹ کمیٹیاں بے جا منافع کے چکر میں عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیتی ہیں۔جب تک مارکیٹ کمیٹیوں کے نظام کو تبدیل کر کے اس میں بہتری نہیں لائی جاتی تب تک مہنگائی کا ماتم جاری رہے گا۔ سنہ 2001 تک مارکیٹ کمیٹیوں کا نظام اور بازار میں قیمتوں کے تعین پر نگرانی کی ذمہ داری براہ راست ضلعی انتظامیہ کے ہاتھ میں تھی لیکن جنرل مشرف نے جب اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے نام پر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا تو ضلعی انتظامیہ کے اختیارات میں بڑی حد تک کمی واقع ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ کو حاصل اختیارات ان سے واپس لے کر عدلیہ کے سپرد کر دیے گئے۔ اس طرح پہلے مارکیٹ کمیٹیوں کی نگرانی کے اختیارات جو ضلعی انتظامیہ کے پاس تھے، سول جج کو منتقل ہو گئے اور یہیں سے بحران کا آغاز ہوا۔

اختیارات کی عدالتوں کو منتقلی سے مقامی سطح پر مہنگائی کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل ہو گیاجس کے سبب منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلا موقعہ مل گیا۔ سنہ 2001 سے 2004 تک منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے سدباب کے سلسلے میں کوئی ایک مقدمہ بھی درج نہ کیا جا سکا لہٰذا کسی عدالتی کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ق لیگ نے مشرف اصلاحات میں ترمیم کر کے لوکل انتظامیہ کو کچھ اختیارات واپس دیے مگر اس کے ساتھ دیگر محکموں کو بھی شامل کر دیا گیا جو اپنے مزاج کے مطابق کام کر تے ہیں۔ ضلع نظام میں خلاء کی وجہ سے مہنگائی کے جن کو ابھی تک بوتل میں بند نہیں کیا جا سکا۔جن باقی محکموں کو شامل کیاگیا ہے ان کی بنیادی تربیت مہنگائی کو کنڑول کرنے کی ہے ہی نہیں یہ تو گھوڑے کے آگے تانگہ باندھنے والی بات ہے۔ جب حکومت اپنی جاری کردہ ریٹ لسٹ پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی تو مہنگائی کنڑول کرنے کا نعرہ کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔  


شیئر کریں: