Chitral Times

May 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نعت ِ رسول اللہ……گل بخشالوی

شیئر کریں:

فلک سے خوشبو بکھر رہی ہے ،زمیں کا چہرہ چمک رہا ہے
سحر نمودار ہورہی ہے ،نقاب رُخ سے سِرک رہا ہے

گلِ ولادت سے ریگ ِصحرا کا ذرہ ذرہ دمک رہا ہے
قلم قصیدہ سُنا رہا ہے ،سُخن کا طائر چہک رہا ہے

بصارتوں کو ملی بصیرت ،نبی کی صورت تمام رحمت
احد کے شفاف آئینے میں،وہ نور احمد دمک رہا ہے

کلی کلی مسکرا رہی ہے ،عرب کا صحرا چمن چمن ہے
وفور ِاُلفت میں نور ِیزداں ،زمیں کی جانب لپک رہا ہے

نفس نفس میں ہے اُس کا نغمہ ،نظر نظر میں ہے اُس کا جلوہ
ہماری آنکھوں کی پُتلیوں میں ،وہ نور بن کر دمک رہا ہے

وہ جان ِہستی اگر نہ ہوتے ،نہ باغ ہوتے،نہ پھول کھلتے
اُسی کی خاطر جہاں بنا ہے ،وہ گل جہاں میں مہک رہا ہے ۔

گل بخشالوی کھاریاں (پاکستان)


شیئر کریں: