Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ٹاسک فورس اجلاس،بازار شام چھ بجے بند کرنے ،نویں سے بارہویں کی کلاسز کیلئے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں کورونا کی مجموعی صورتحال ،ہسپتالوںکی استعداد کار ، انسداد کورونا ویکسینیشن پر پیشرفت اور دیگر اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کورونا کے مثبت کیسز میں اضافہ کی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس او پیز اور دیگر حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔اس سلسلے میں تمام بازار شام چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، شام چھ بجے کے بعد ادویات کی دوکانوں، پیٹرول پمپس ، تندور اور دودھ کی دوکانوں کے علاوہ تمام دوکانیں بند رہیں گی۔اسی طرح ریسٹورنٹس میں آوٹ ڈور ڈائننگ پر بھی مکمل پابندی ہو گی اورصرف ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔ ہفتے میں دو دن یعنی ہفتہ اور اتوار سیف ڈیز ہونگے۔

اجلاس میں اگلے مہینے بورڈ امتحانات کے پیش نظر آئندہ پیر سے نویں ، دسویں ، گیارہویں اور بارہویں کی کلاسز کیلئے ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزراءشہرام ترکئی، اکبر ایوب کے علاوہ کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل نعمان محمود ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاﷲ عباسی اور دیگر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں کورونا ایس او پیز اور دیگراحتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے اور سرکاری دفاتر میں عملے کی حاضری کو 50 فیصد سے بھی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سول سیکرٹریٹ سمیت ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری دفاتر میں ملاقاتیوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر ان علاقوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نماز تراویح اور جنازوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علمائے کرام لوگوں کو اس بات پر قائل کریں کہ جنازوں کے اعلانات کے لئے لاوڈ اسپیکر کا استعمال نہ کیا جائے اور علمائے کرام نماز جمعہ کے خطبات میں نماز جنازوں کو محدود رکھنے کی تلقین کریں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بڑے بڑے بازاروں، یوٹیلیٹی اسٹورز، احساس کیش پوائنٹس اور دیگر رش والی جگہوں پر مفت ماسک تقسیم کیے جائیں گے جبکہ عوامی مقامات، دوران نماز تراویح اور پبلک ٹرانسپورٹ میں فیس ماسک کے استعمال اور دیگر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے جائے گا۔ اجلاس میں چھوٹی عیدکی چھٹیوں تک سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے پر بھی غور کیا گیا اور معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو کورونا کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ کورونا کے روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے اسی طرح صوبے میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس وقت صوبے میں مثبت کیسز کی شرح اوسطاً 14 فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کی وجہ سے شرح اموات میں بھی کافی تیزی آئی ہے ۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تقریباً صوبے کے تمام اضلاع پر توجہ دینے اور کورونا کے خلاف ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے محکمہ صحت کے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک خیبرپختونخوا میں مختص شدہ ویکسین کا 72 فیصد استعمال یقینی بنایا گیا ہے ۔این سی او سی کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا تمام بڑے صوبوں میں ویکسین کے استعمال میں سب سے آگے ہے ۔ خیبرپختونخوا میں ویکسین کے استعمال کی شرح71 فیصد جبکہ پنجاب میں70 سندھ میں 62 اور بلوچستان میں 40 فیصد ہے ۔ تقریباً ایک لاکھ42 ہزار افراد کو ، انسدادکورونا ویکسین کی پہلی ڈوز لگا دی گئی ہے جبکہ 39 ہزار سے زائد افراد کی ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہے ۔

خیبرپختونخوا میں ویکسین لگانے کے عمل کو موثر اور بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ ویکسنیشن کیلئے ضلع وائز اہداف مقرر کئے گئے ہیں، خدمات کے معیار کا جائزہ لینے کیلئے کورونا ویکسنیشن سنٹرز کی نگرانی کی جارہی ہے ، پانچ بڑے ویکسنیشن سنٹرز قائم کئے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو ویکسین تک رسائی ممکن ہو سکے ، ویکسین کے حوالے سے اُمور کا جائزہ لینے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس منعقد کئے گئے ہیں ۔اسی طرح خیبرپختونخوا کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ہائی ڈیپنڈسی یونٹس کے استعمال میں اضافہ ہواہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہسپتالوں میں 284 نئے ایچ ڈی یو بیڈز ، 19 آئی سی یوز اور 373 لو فلو بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے ۔
َِِ<><><><><><><><>

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبائی وزراءاور ممبران صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا کی موجودہ تشویشناک صورتحال میں اپنے حجروں میں عوامی سرگرمیوں کو بند کریں اور حجروں میں رش لگانے سے گریز کریں تاکہ اس وباءکے مزید پھیلاو کو روکا جاسکے۔ وزیر اعلی نے صوبائی وزراءاور ایم پی ایز کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقاریب کے موقعوں پر زیادہ تعداد میں لوگوں کو اکھٹا نہ کریں اور ایسے مواقعوں پر ایس او پیز پر عملدرآمد کا خاص خیال رکھیں۔ یہ ہدایات انہوں نے جمعہ کے روز صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ صوبے میں کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی نے منتخب عوامی نمائندوں، علمائے کرام، اور رائے عامہ ہموار کرنے والے دیگر طبقوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وبا کے مزید پھیلاو کو روکنے کے لئے ایس او پیز اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عام شہریوں کو اس بات پر قائل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے منتخب عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی روابط میں رہیں۔ وزیر اعلی نے علمائے کرام سے خصوصی اپیل کی کہ وہ مساجد خصوصا نماز تراویح اور نماز جنازوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے اپنا اہم کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں جمعہ کے خطبات میں عوام کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دیں۔ وزیر اعلی نے شہریوں اور کاروباری حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ایس او پیز اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں تاکہ اس وبا کے بڑے پیمانے پر پھیلاو کو روکا جاسکے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ اس وبا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے ، حکومت کے ان اقدامات کا واحد مقصد لوگوں کو اس وباءسے محفوظ رکھنا ہے لہذا یہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اقدامات پر عملدرآمد کے سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تاکہ اس نازک صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جاسکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لئے فیس ماسک کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
<><><><><><>

وزیراعلیٰ کی بیغیر پروٹوکول کے ضلع چارسدہ کا اچانک دورہ


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز بغیر کسی پروٹوکول کے ضلع چارسدہ کا اچانک دورہ کیا اور بغیر اطلاع وہاں پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے قائم رمضان سستا بازار کامعائنہ کیا۔وزیر اعلی نے رمضان سستا بازار میںاشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کا بھی جائزہ لیا اور شہریوں سے سستا بازار میں فراہم کی جانے والی سہولیات اوراشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے معلومات حاصل کیں۔وزیر اعلی نے سستے بازار میں شہریوں کی سہولت کے لئے انتظامات ، آشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کی تعریف کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی نے رمضان المبارک کے مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور ریلیف کی فراہمی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت مشکل صورتحال کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے تمام ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ رمضان کے مہینے میں عوام کو ریلیف اور سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں بھر پور اقدامات اٹھائیں۔


شیئر کریں: