Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرکی سفارشات پر صوبے بھر میں ہفتہ اوراتوار کو تمام مارکیٹس بند ہونگی۔۔نوٹفیکشن

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) کورونا کی موجودہ صورتحال اور اس سے بچاو ٗکے لیے اقدامات اٹھاتے ہوے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی سفارشات پرحکومت خیبر پختونخواکی جانب سے مندرجہ زیل احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں (سوموار تا جمعہ)تمام صنعتی سرگرمیاں، مارکیٹس شام 06:00 بجے بند ہوں گی۔ ہفتہ اور اتوار کو تمام مارکیٹس مکمل طور پر بند ہوں گی۔جبکہ مندرجہ زیل کاروبارپر ان احکامات کااطلاق نہیں ہو گا:


(میڈیکل سٹورز/ سروسز، بیکری، جنرل / کریانہ سٹورز، دودھ، گوشت، ٹائر فروٹ، سبزی، تندور، آٹا چکی کی دکانیں، پوسٹل/ کوریئر کاونٹرز، ہوٹل/ ریسٹورنٹس، پیٹرول پمپس، آئل ڈپو، ای پی جی فلنگ پوائنٹس، ایگریکلچر مشینری ورکشاپ، سپیئر پارٹس، پرنٹنگ پریس اور موبائل کمپنیوں کی فرنچائزز ہفتہ بھرکھلی رہیں گی۔جبکہ تمام انڈورکلچرل، میوزیکل اور مذہبی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد رہے گی جبکہ آوٹ ڈور میں زیادہ سے زیادہ 300 افراد کے اجتماعات کی اجازت ایس او پیز کے تحت ہو گی۔ تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں انڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی عائد رہے گی جبکہ آوٹ ڈور ڈائننگ افطار سے رات 11:59 بجے تک کی اجازت ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ ہو گی۔ اس دوران ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی سروس ایس اوپیز کے تحت کی جا سکے گی۔ نماز تراویح کا اہتمام جہاں تک ممکن ہو کھلی جگہوں پر کیا جائیگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سول ایڈمنسٹریشن علمائے اکرام کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کویقینی بنایا جائیگا۔ عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازی ہو گا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایس او پیز پر عملدرآمدیقینی بنایا جائے اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ میں صرف 50 فیصد سواریوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ تمام پبلک اور پرائیویٹ دفاترگھر سے کام کرنے کی پالیسی کے مطابق 50 فیصد سٹاف کو گھر سے کام پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔تمام مزارات بھی لوگوں کے لیے بند رہیں گے۔تمام کنٹیکٹ سپورٹس، کلچرل اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی رہے گی۔


? تمام امیوزمنٹ پارکس بند رہیں گے تاہم پیدل چلنے کے راستے کھلے رہیں گے اور ایس او پیز پر عملدرآمدیقینی بنایا جائیگا۔ لاک ڈاون کے پھیلاو کی صورت میں کسی بھی طرح کی آمد و رفت پر پابندی عائد رہے گی اور صرف ایمرجنسی کی صورت میں آمد و رفت کی اجازت ہو گی۔سیاحت کے حوالے سے قوانین اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے داخلی راستوں اور دیگر جگہوں پر ٹیسٹنگ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ اورانفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لائیں گے۔ اس آرڈر کا اطلاق صنعتوں کے کام کاج اور متعلقہ انتظامیہ پر نہیں ہو گا۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کر آرڈر پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ آرڈر ہذا کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی یقینی بنائی جائے گی۔


شیئر کریں: