Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں سیٹلمنٹ مسائل اورکاغلشٹ تنازعہ کے حوالے سے چترال کے رہنماوں کا کمشنر ملاکنڈ سے ملاقات

شیئر کریں:

سوات ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں لینڈ سیٹلمنٹ کے مسائل 1975۔ کے نوٹیفکیشن اور حالیہ بونی کاغلشٹ تنازعہ کو حل کرنے کے سلسلے میں عمائدین چترال کا ایک وفد گزشتہ روز کمشنر ملاکنڈ سید ظیہر الاسلام شاہ سے ان کی افس سیدو شریف سوات میں ملاقات کی۔ جس میں چترال کے ایم این اے مولانا عبدلاکبر چترالی ،سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین ، ایم پی اے ہدایت الرحمان،سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد، امیر جماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید حسین، سابق ممبر تحصیل کونسل مستوج سردار حکیم خان ،سابق ناظم سلامت خان،سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن ،ایڈوکیٹ شھاب الدین اور اسٹنٹ کمشنر شاہ عدنان موجود تھے۔

میٹنگ میں سیٹلمنٹ کے حوالے سے چترال میں عوام کے ساتھ ناانصافی اور سیٹلمنٹ لینڈ ریکارڈ میں چترال کے زیادہ حصوں کو گورنمنٹ کے کھاتہ میں ڈالنے کے حوالے سے بات کی گئی ۔ محکمہ ارضیات و بندوست کی جانب سے زمینات کی حدود کا تعین اور پیمائش کے وقت عوام کو اعتماد میں نہ لینے اور ریکارڈ کے اصولوں کو مدنظر لئے بغیر چترالی عوام پر انتہائی ناانصافی کی گئی ہے جسکی وجہ سے ایک طرف عوام میں خوف و ہراس کا ماحول ہے اور دوسری طرف عوام کو ان کی حقوق سے محرومیت کا سوال بھی آٹھ رہا ہے جس کا ازالہ کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

کمشنر ملاکنڈ نے سب سے پہلے چترالی عوام کی اخلاقی اقدار اور روایتی اصولوں کی خوب تعریفیں کی جبکہ ان مسائل کے حوالے سے متعلق حکومتی پالیسی سے آگاہ کیا انھوں نے Feeling اور Fact کے قانون کے بارے میں اپنی طرف سے رہنمائی کی۔ محمد شھاب الدین ایڈوکیٹ نے لیگل ایڈوائزر کے طور پر 1975 کے قانون کی وضاحت اور شاملات دہ کے قانونی و روایاتی تاریخی پس منظر اور علاقے کاغلشٹ کا خدوخال بھی بیان کئے اور چند ضروری کاغذات بھی کمشنر کو پیش کی ۔ وکیل کی جانب سے چترال میں سیٹلمنٹ کے حوالے سے زیر سماعت pending کیس کا فیصلہ تعطل کا شکار ہو جانے کی وجہ کو ایک معمہ قرار دیا جس سے فوری حل کرنے کے لئے کمشنر کو متعلقہ حکام کو ہدایت دینے کی سفارش کی گئی ۔

سابق MNA افتخار الدین نے انتہائی مفصل انداز میں کمشنر کو اگاہ کیا اور 1975 کے نوٹیفکیشن کے آڑ میں حکومت کی جانب سے چترالی عوام پر ظلم وزیادتی کے معاملات کی نفی کی گئی اور اسے صرف علاقہ چترال پر مسلط کرنے کے خلاف عوامی ردعمل رونما ہونے کا عندیہ بھی دیا گیا ۔

ایم پی اے ہدایت الرحمان نے اس مسئلے کو سنجیدہ لینے اور جلد ازجلد اس کو حل کرنے پر زور دیا اور اس معاملے کو چترال کی پرامن فضا کی راہ میں انتہائی رکاوٹ قرار دیا۔

میٹنگ شرکاء میں سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد نے بھی کمشنر ملاکنڈ سے اس اہم معاملے کو ترجیح دے کر حل کرنے کی تجویز دی۔ سردار حکیم ،شمس الرحمان، امیر جماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید حسین اور سلامت خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں کمشنر مالاکنڈ نے کمیشن بنانے کا حکم دیا جس میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو شامل کرنے کے لیے شہزادہ افتخار الدین نے تجویز دی۔


کمشنر مالاکنڈ نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کی سطح پر ایڈوائزر ٹو سی ایم نے ایک کمیٹی بنانے کی سفارش کی تھی جس پر فوری طور عمل میں لانے کے لیے اپنے سیکرٹری کو یاددہانی خط لکھنے کی ہدایت کی۔ کمشنر ملاکنڈ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر مستوج ایٹ بونی کو حکم دیا کہ قاقلشٹ ایریا میں عوام بونی کی جانب سے لگائے گئے پودوں کی فہرست بنا کر بھیجا جائے۔آخر میں کمشنر ملاکنڈ نے تمام معاملات کی حل کے لئے یقین دہانی کرائی۔


شیئر کریں: