Chitral Times

Oct 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں لینڈ سٹیلمنٹ حوالے تنازعات اور عوامی تحفظات دورکئے جائیں۔۔سلیم خان

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) پاکستان پیپلز پارٹی چترال نے لینڈ سٹلمنٹ کے حوالے سے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ اس سلسلے میں اٹھنے والے تنازعات اور عوامی تحفظات دور کئے جائیں ۔ بصورت دیگر اس متنازعہ سٹلمنٹ ریکارڈ کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ چترال پریس کلب میں پارٹی کے صدر و سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے کابینہ کے عہدہ داروں اور کارکنان کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہم نے چترال میں ہونے والے لینڈ سٹلمنٹ کا مکمل جائزہ لیا ۔ اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں ۔ کہ اس میں بے پناہ غلطیاں موجود ہیں ۔ جس کی وجہ سے کئی نئے تنازعات جنم لے چکے ہیں ۔ لہذا ان تنازعات کے خاتمے اور غلطیوں کی درستگی کے بغیر ریکارڈ کو مکمل قرار دینا کسی بھی صورت درست نہیں ۔ اس لئے ریکارڈ کو شفاف بنانے کیلئے اسے موخر کیا جائے ۔ اور سٹلمنٹ کے ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے ۔ جو کہ فی الحال ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔

ppp chitral saleem khan press confrence

سلیم خان نے چترال کے چراگاہوں اور شاملات کو بھی سٹیٹ پراپرٹی قرار دینے کی شدید مخالفت کی ۔ اور کہا ۔ کہ یہ لوگوں کو چراگاہوں سے محروم کرنے اور انہیں بے گھر کرنے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کاغلشٹ ، کھوتان لشٹ اور چیوڈوک کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ۔ کہ یہ علاقے لوگوں کے شاملات اور چراگاہیں ہیں ۔ جنہیں یہاں کے باشندے ہر قسم استعمال کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اسلام آباد کے بنی گالہ میں ایک شخص اگر محل بنا سکتا ہے ۔ تو چیوڈوک ، کھوتان لشٹ اور کاغلشٹ میں مکان کیون نہیں بنا سکتا ۔ حکومت کا یہ دوہرا معیار کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ سلیم خان نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اور کہا ۔ تین سال ہونے کو ہیں ۔ چترال میں ایک پراجیکٹ بھی تعمیرنہیں کر سکے ۔ سابق حکومت کے منظور کردہ چترال شندور روڈ ، چترال گرم چشمہ روڈ ، چترال ایون بمبوریت روڈ کی تعمیر کو کھٹائی میں ڈال دیاگیا ۔ فنڈ نہیں دی گئی ۔ اسی طرح سی پیک روٹ کو سوات منتقل کرنے پر کام کیا جارہا ہے ۔ جبکہ گیس پلانٹ جس کیلئے تین مقامات پر زمین بھی خریدی گئی تھی۔ اب گلگت منتقل کیا جارہا ہے ۔

ppp chitral saleem khan press confrence1

انہوں نے کہا ۔ کہ ایک طرف حکومت ماحول بہتر کرنے کیلئے شجر کاری کرنے اور جنگلات لگانے پر زور دے رہا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف گیس پلانٹ جو کہ متبادل ایندھن کے طور پرچترال کے جنگلات کو بچانے کا منصوبہ ہے ، کو ختم کیا جارہا ہے ۔ جو کہ اس حکومت کی نااہلی کی واضح مثال ہے ۔ انہوں نے فوری طور پر چترال کے تین اہم روڈز اور گیس پلانٹ منصوبے کو دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سلیم خان نے یونیورسٹی آف چترال کیلئے فنڈ کی عدم فراہمی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اور کہا ۔ تین سالوں کے دوران یونیورسٹی کیلئے کوئی فنڈ نہیں دیا گیا ۔ انہون نے یونیورسٹی کیلئے زمین خریداری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ یہ ٹیکنکل لوگوں کا کام ہے ۔ وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔ کہ کونسی جگہ موزون ہے ۔ انہوں نے نان ٹیکنکل افرادکی طرف سے رائے زنی کو نامناسب قرار دیا ۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری محمد حکیم ایڈوکیٹ نے 1975 کے نوٹفیکیشن کے حوالے سے کہا ۔ کہ اس کی غلط تعریف کی جارہی ہے ۔ جس کی وجہ سے چترال میں نئے تنازعات پیدا ہو گئے ہیں ۔؎

چترال میں ہر گاوں کے ساتھ شاملات اور پہاڑوں پر چراگاہیں ہیں ۔ اس لئے ان کو سٹیٹ پراپرٹی قرار دینا کسی طور درست نہیں ۔ پریس کانفرنس کے موقع پر قاضی فیصل ، عالم زیب ایڈوکیٹ ، بشیر احمد ، میر دولہ جان ایڈوکیٹ ، نظار ولی شاہ کے علاوہ بڑی تعداد جیالے موجود تھے.

چترال میں لینڈ سٹیلمنٹ حوالے تنازعات اور عوامی تحفظات دورکئے جائیں۔۔سلیم خان

شیئر کریں: