Chitral Times

Oct 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سکولز بند کرنے کا فیصلہ مشکل تھا تا ہم طلباء اور اساتذہ کی صحت کو مد نظر کر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔۔وزیرتعلیم

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہاہے کہ سکولز کو بند کرنے کا فیصلہ مشکل تھا تا ہم طلباء اور اساتذہ کی صحت کو مد نظر کر یہ فیصلہ کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے ساتھ مل کر پرائیویٹ سکولوں کے معاملات حل کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیرکے روز پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات وزیر تعلیم کے سامنے رکھے۔


وزیرتعلیم نے ڈائریکٹر ایجوکیشن حافظ ابراہیم، رفیق خٹک، ایم ڈی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن ظریف المعانی اور ڈائریکٹر پی ایس آر اے پر مشتمل کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کر کے وزیر تعلیم کو پیش کرے گی۔ اس موقع پر شہرام خان ترکئی کاکہناتھاکہ کرونا وائرس ایک حقیقت ہے اور ہرایک کو احتیاط کرناچاہئیے۔انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ سکولوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ مسلسل تعلیمی سلسلہ بند کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے ایسا ہرگز نہیں ہوگا بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہم مختلف اقدامات کریں گے جس پر میں اور میری پوری ٹیم کام کر رہی ہے تاکہ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہے اور بچوں واساتذہ کی صحت بھی محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف ان 16 اضلاع میں سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے جہاں پر کورونا کیسز بہت زیادہ ہیں جبکہ باقی اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں تمام سکول بند کر دیئے گئے ہیں مگر ہم اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ بچوں کا وقت ضائع نہ ہو اور کرونا کے دوسرے لہر میں بھی ہم نے اسکول مکمل بند کرنے کی بجائے مرحلہ وار کھول رکھے تھے.انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا اور جہاں پر سکول کھلے ہیں وہاں ایس او پیز پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے۔


شیئر کریں: