Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پابندی کے باجود ٹرانسپورٹ چلانےپر وزیر اعلی کا نوٹس، کمشنر پشاور کوفوری کارروائی کی ہدایت

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے پاپندی کے باجود ٹرانسپورٹ چلانے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر پشاور کو فوری طور پر کارروائی عمل میں لانیکی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ پشاور جنرل بس اسٹینڈ کے اردگرد بعض پولیس اہلکار اور اڈا منشی رقم لیکر مسافر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دے رہے ہیں جس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے کمشنر پشاور اور پولیس کے متعلقہ حکام کو ان عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت جاری کی ہے اور کہا ہے کہ کورونا ایس او پیز کے حوالے سے حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کورونا کے حوالے سے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں، وہ تمام صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ کورونا وبا کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور خصوصا فیس ماسک کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوابی میں انبار انٹرچینج کے قریب انسداد دہشت گردی عدالت سوات کے جج کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور ظالمانہ فعل قرار دیا ہے۔ وزیر اعلی نے پولیس حکام کو واقعے میں ملوث عناصر کو جلد سے جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے فوری طور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس بہیمانہ واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔


یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واقعے میں جان بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت دکھ کی متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہے اور یقین دلاتی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو پورا انصاف فراہم کیا جائے گا۔


شیئر کریں: