Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخواکا نیانام…….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کا نام ایک بار پھرتبدیل کرنے کا بل پیش کردیا گیا،ایم این اے محسن داوڑ کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبرپختونخوا رکھا گیا لیکن اس کا پورا نام استعمال نہیں کیا جاتا۔ سرکاری خط و کتابت اور عام استعمال میں بھی کے پی یا کے پی کے لکھا اور بولا جاتا ہے۔خیبر پختونخوا کی اسمبلی صوبے کے نام کی تبدیلی کے لئے دو دفعہ قرارداد منظورکرچکی ہے انہوں نے بل میں خیبرپختوا کانام تبدیل کر کے صرف پختونخوا رکھنے کی تجویز دی۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورنے بل کی مخالفت نہیں کی۔ علی محمد خان نے اس بل کو اہم قرار دیتے ہوئے اسے قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا مطالبہ کیا۔ایوان نے بل پیش کرنے کی تحریک پر کثرت رائے سے منظوری دی۔ڈپٹی سپیکر نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے۔کام ہونا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نام کے بغیر کام بھی نہیں ہوتا۔

ہمارے صوبے کو اب تک دانستہ طور پر بے نام سا رکھا گیا ہے۔ جو اس خطے میں بسنے والی مختلف اقوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ پہلے اس صوبے کا نام افغانیہ تھا۔ پھر افغان صوبہ کہا جانے لگا۔ انگریز نے اس کی جغرافیائی پوزیشن کے مطابق اس صوبے کا نام شمالی مغربی سرحدی صوبہ رکھا۔ جسے مزید چھوٹا کرکے این ڈبلیو ایف پی کہا جانے لگا۔ جب اس صوبے کا نام نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پراونس تھا۔ تب بھی لوگ بولنے میں آسانی کے طور پر اسے صوبہ سرحد کہتے تھے۔ہمارے لوگوں میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ کسی کا پورا نام نہیں لیتے۔ نام کے ابتدائی اور آخری حصے کو ملا کر ایک الگ نام رکھتے ہیں جو اس کا عرف بن جاتا ہے اور پھر زندگی بھر وہ شخص اس ادھورے نام کے ساتھ زندگی گذارتا ہے۔ عبدالرحیم کو صرف عبدول پکارا جاتا ہے۔ رقیب الرحمان کو صرف رقیب کہا جاتا ہے اور وہ بیچارہ سب کے لئے رقیب بن جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں کسی کے لئے رقابت نہیں ہوتی۔ خیبر پختونخوا نام بھی بولنے اور لکھنے میں کافی بھاری لگتا ہے۔

اب جبکہ صوبے کا نام بدلنے کی باتیں چل رہی ہیں تو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ نام میں قومیت کا شائبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس صوبے میں دو درجن سے زیادہ زبانیں بولنے والی درجنوں اقوام بستی ہیں۔ہر قوم چاہتی ہے کہ اس کی قومیت بھی صوبے کے نام میں ظاہر ہو۔ مگر عملاً ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے لفظ پاکستان میں ہمارے صوبے کے لئے حرف”الف“ استعمال ہوا ہے۔ پ سے پنجاب، الف سے افغانیہ یا افغان صوبہ یعنی ہمارا سابقہ شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور موجودہ خیبر پختونخوا، ک سے کشمیر، س سے سندھ اور تان سے بلوچستان بنتا ہے۔ بنگال یا مشرقی پاکستان کا نام پاکستان کے نام میں عیاں نہیں تھا۔ شاید نام رکھنے والے چوہدری رحمت علی کو اندازہ تھا کہ بنگالی ہمارے ساتھ یا پھر ہم بنگالیوں کے ساتھ زیادہ عرصہ گذارہ نہیں کرسکتے اس لئے انہوں نے بنگال کو معاف رکھا۔

لفظ پاکستان میں چونکہ ہمارے حصے میں الف آیا ہے اس لئے ہمارے صوبے کا نیا نام ”الف“ سے شروع ہونا چاہئے تاکہ ہمارے بچوں کو پاکستان کی تشریح سمجھنے میں آسانی ہو۔نیا نام صوبے کی ثقافت، تہذیب، محل وقوع، نمایاں خصوصیات، اہم مقامات، سیاسی و مذہبی پس منظر سے مطابقت رکھنا بھی ضروری ہے۔حکومت اس کے لئے ریفرنڈم کی طرز پر عوام سے رائے بھی لے سکتی ہے۔ اور انعام مقرر کرکے صوبے کا نام رکھنے کا چیلنج بھی دے سکتی ہے۔ ویسے الف کے حرف سے صوبے کا نام رکھا جائے تو نیک شگوں ثابت ہوسکتا ہے۔ الف حروف تہجی کا پہلا لفظ ہے۔ صوبوں کے شمار میں ہمارا نام بھی سب سے پہلے آنا چاہئے کیونکہ ہم پاکستان کی چھت پر بیٹھے ہیں چونکہ ہمارے یہاں کرپشن اور مہنگائی سمیت ہر چیز اوپر سے نیچے آتی ہے۔اس لئے صوبوں کے شمار میں سرفہرست ہونا ہمارا حق بنتا ہے۔


شیئر کریں: