Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی سیاست اورنوجوانوں کی سیاسی محرومیاں…..پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

پاکستان کو اپنے نوجوانوں پر فخر ہے، خاص طور پر طلبہ جنہوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہر اول دستے کا کام سر انجام دیا ہے۔ آپ مستقبل میں قوم کے رہنما ہیں، آپ نے اپنے آپ کو نظم و ضبط، تعلیم اور تربیت سے آراستہ کرکے مستقبل کے مشکل کام کے لیے تیار کر نا ہے۔آپ اپنی بے پناہ ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے انہیں پورا کرنے کے لیے تیار رہیں:قائد اعظم محمد علی جناح۔ دنیا بھر میں 15-24سال کے نوجوانوں کی تعداد1.1بلین ہے جو کل آبادی کا18% بنتے ہیں۔اگر 15 سال سے کم عمر افراد بھی شامل کیے جائیں تویہ دنیا کی آبادی کا 40%بنتے ہیں۔ تقریبا 133ملین نوجوان ناخواندہ اور 41%بے روزگارہیں۔دنیا بھر میں 238ملین نوجوان کی آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے اور روزانہ 7000نوجوان کسی نہ کسی بیماری میں مبتلاء ہو رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے 54%نوجوان بغیر کسی مہارت کے تعلیمی اداروں سے فارغ ہوتے ہیں نتیجتا وہ کوئی اچھی نوکری حاصل نہیں کر سکتے۔ جنوبی ایشیاء کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی 1.8بلین افراد کی عمر 24سال سے کم ہے۔ سال 2040تک جنوبی ایشیاء میں دنیا کی سب سے بڑی لیبر فورس موجود ہو گی۔ جنوبی ایشیاء میں نوجوانوں کی اس بہتات کو اگر درست سمت میں رہنمائی اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں شامل کرنے کا مناسب انتظام کیا گیا تو یہ خطہ اگلے چند عشروں میں ترقی کی منازل تیزی سے طے کر ے گا۔

جنوبی ایشیاء میں گریجویٹ نوجوانوں کی بے روزگاری کی 26%وجہ ناتجربہ کاری اور مہارت کے بغیر تعلیم ہے،نامناسب تعاون کا کردار 23%جبکہ 44% کردار بدعنوان عناصر کا ہے۔ 2018کے قومی انتخابات میں نوجوان سب سے بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے۔26سے 35سال عمر کے نوجوانوں کا تناسب 27% اور 18-25عمر کا تناسب 20% تھا۔ پاکستان کی 60%سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔نوجوانوں میں ملکی اور قومی ترقی میں بہتری لانے کا جذبہ موجود ہے مگرہمارے نظام میں ان کی آواز ہمیشہ سے سنی ان سنی کر دی جاتی ہے اور نوجوانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کی نسبت گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں زیادہ پیچیدگی کے ساتھ موجود ہے۔ اس وقت ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ نوجوان موجود ہیں۔ ہماری دوتہائی آبادی 30سے کم عمر پر مشتمل ہے۔اگر ہم نوجوانوں کو سیاسی اور معاشی میدانوں میں مناسب نمائندگی دیں تو ہمارے نوجوانوں میں قومی تقدیر بدلنے کی بھر پورصلاحیتیں موجود ہیں۔ سالانہ 4ملین نوجوان ملازمت کی عمر کو پہنچتے ہیں ہمیں سالانہ 1.3ملیں نوکریوں کا انتظام کرنا ہو گااگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر آنے والا وقت مزید کھٹن ہوتا چلا جائے گا۔

مناسب رہنمائی کی قلت، پیشہ وارانہ مہارتوں کی عدم دستیابی اورناقص منصوبہ بندی کی وجہ ہے ہم اپنے نواجونوں کی توانائیاں رائیگاں کر رہے ہیں۔ سیاست اور معیشت میں نوجوانوں کے عدم اشتراک کی وجہ سے ہم دوسرے ممالک کی نسبت کہیں پیچھے ہیں۔ سیاست میں نوجوانوں کی منصفانہ شمولیت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہمارا سیاسی نظام نوجوانوں کو سیاست سے باہر دھکیلنے کے لیے بنایا گیا ہے۔نوجوانوں کی سیاسی بیداری کے لیے نہ کوئی نظام ہے، نہ منصوبہ بندی اور نہ ہی کوئی ادارہ۔ 60% سے زیادہ آبادی کو چند جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مذہبی اجارہ داروں، موروثی ناسوروں اور پیرپرستوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دینا کہاں کی جمہوریت اور عقلمندی ہے۔ ہمارا نظام تعلیم ان سب بیماریوں کی ماں ہے۔ یہ نصاب اور نظام ان افراد کا ترتیب کردہ ہے جو نوجوانوں کو نہ صرف سیاست سے باہر رکھ کر اپنی حکومت کو دوام بخشنا چاہتے ہیں بلکہ نصاب کی تدوین و ترتیب میں نوجوانوں کو نمائندگی ہی نہیں دی گئی۔ مڈل کے بعد سیاسیات کو بطور مضمون شامل کر نا چاہیے۔ ہمیں طلبہ یونین میں بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیے عمر کی مقررہ حد پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو مناسب نمائندگی ملے نہ کہ وہ سیاستدانوں کے مرنے کی دعائیں مانگیں۔

نوجوانوں کے لیے ای ڈیموکریسی متعارف کروانی چاہیے۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے اداروں کو آئینی تحفظ دینے کے ساتھ انہیں مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔نوجوانوں کو آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخصوص کوٹہ دیا جانا چاہیے۔وزارت نوجوانان کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے قوانین کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔سیاسی کلچر کے فروغ کے لیے حکومتی اور پارٹی سطح پر ورکشاپس اور سیمینارز کا اہتمام کرکے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کی جائے۔ نوجوانون کو صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سیاست سے مزین کرنے کے لیے مواقع فراہم کرنے چاہیے۔ پارٹی نمائندگی اور میڈیا ٹاک شوز میں نوجوانوں کو نمائندگی دے، ان کے لیے الگ پروگرامات شروع کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ پرانے چہروں سے اکتائی عوام سیاست میں دلچسپی لے۔ دھوکہ دہی، مکروفریب،بدعنوانی اور استحصالی سیاسی نظام کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کا آگے آنا ناگزیر ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں نوجوانوں کے ساتھ ناانصافیوں پر مبنی نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ حکمران طبقے نے نوجوانوں پر سیاسی سامراجی نظام مسلط کیا ہوا ہے۔ امیر دن بدن امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب دن بدن غریب تر۔ متوسط طبقے کے نوجوان جب معاشرے میں آگے بڑھنے کی تمنا کے ساتھ میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں ان گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر نوجوان علاقائی، صوبائی یا ملکی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ کریں تو ظلم کی آندھیاں ان کے قدم اکھاڑ دیتی ہیں۔موروثی حکمران، سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے اور گدی نشین انہیں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے ہوئے ہر طرح  کچلنے کی بھر پوری کوشش کرتے ہیں۔ہمارا سار نظام اس استحصالی، جاگیردرانہ،سرمایہ دارانہ، موروثی اور پیر پرستانہ طبقے نے اپنے لیے بنایا ہوا ہے اس متوسط اور غریب طبقے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ظلم کا یہ نظام امیروں کے لیے راستے ہموار کرتا چلا جاتا ہے جبکہ متوسط اور غریب کے سانس لینا بھی دشوار کر دیتا ہے۔ حکومت متوسط ااور غریب طبقے کے نوجوانوں کوعملی سیاست کے لیے سپانسر کرے۔شفاف اور منصفانہ پارٹی الیکشن کروائے جائیں تاکہ متوسط اور غریب طبقات کے نوجوانوں کو موقع ملے۔ الیکشن کمیشن پارٹی الیکشنز کی مانیٹرینگ کرے۔ آئینی اصلاحات کے زریعے سیاسی پارٹیوں کو نوجوانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے کا پابند بنائے۔ سیاسی پارٹیوں کو متوسط اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو پارٹی عہدے اور ٹکٹ دینے کا پابند بنائے۔ موروثی سیاست کے خاتمے کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں تاکہ چند خاندانوں کے بجائے عوام کی حکومت قائم ہو۔ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور میں ترامیم کر کے نوجوانوں کواپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ان کے حقوق دینے چاہیے۔

سیاسی پارٹیوں کے اجلاس بند کمروں کے بجائے پبلک ہونے چاہیے تاکہ عوام کو پتہ چلے ان کی نمائندگی کرنے والے ان کے لیے کیا لائحہ عمل طے کر رہے ہیں۔پارٹی اجلاسوں کے پبلک ہونے سے نوجوانوں کو سیکھنے کا موقعہ ملے گا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کی کاروائی پبلک کرنے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی پہنچ میں ہو تاکہ وہ باآسانی ان اجلاسوں میں شرکت کر کے قومی سیاست میں اپنا کردار ادر کر سکیں۔ نوجوانوں سے متعلق کوئی بھی قانوں نوجوان کی نمائندگی کے بغیر ہر گزپاس نہ کیا جائے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز اور ایم ایل ایز نوجوانوں کی سیاسی تربیت کے لیے نوجوانوں کو اپنے ساتھ اہم عہدوں پر تعینات کریں۔حکومت اور سیاسی پارٹیاں ہر حلقے میں نوجوانوں کی سیاسی تربیت کیلئے ورکشاپس اور سیمینار کا اہتمام کریں۔ پارٹی عہدے اور ٹکٹ پیسوں اور موروثیت کے بجائے میرٹ پر دیے جائیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے کو چاہیے کہ ایک دن سیاسی آگاہی کے لیے مختص کریں۔

آج تک سیاستدانوں نے نوجوانوں کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہم سیاسی ماتم تو کرتے ہیں مگر اس کے حل کی طر ف کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے بھی گریزاں ہیں۔ 60%نوجوان آبادی پر عمر رسیدہ سیاستدانوں کا مسلط رہنا اور ان کے لیے قانون سازی کرنا غیرعقلی اور غیر منطقی ہے۔ نوجوان تذبذب کا شکا ر ہیں وہ کس سے سیکھیں کیونکہ تجربہ کار سیاستدان ملک کو درست سمت میں چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نوجوانوں کا سیاست میں آنا ناگزیرہے۔ دہائیوں سے اقتدار پربراجمان سیاستدانوں کی ناکامی اس بات کی دلیل ہے کہ اب نوجوانوں کو موقعہ ملنا چاہیے۔


شیئر کریں: