Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کاغ لشٹ تنازعہ پرعوام بونی کا انتظامیہ اپر چترال کے خلا ف احتجاجی مظاہرہ دوسرے روزبھی جاری

شیئر کریں:

اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں کاغ لشٹ کو سرکاری اراضی قراردینے کے خلاف ضلعی انتظامیہ اپر چترال کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اور ڈپٹی کمشنر کی فوری تبادلے کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اپر چترال کے ٹاؤن بونی کے سینکڑوں افراد نے جمعہ کے روز دوسرے دن بھی دفعہ 144کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے خلاف جلسہ وجلوس منعقد کیا جس کے حکم پر کا غ لشٹ میں پودوں کی ابیاری کے لئے ان کے تعمیر کردہ پانی ٹینکیوں کو مسمار کردیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز بونی چوک میں سینکڑوں افراد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اپر چترال کا انتظامیہ اور خصوصاً ڈی سی سوچے سمجھے سازش کے تحت حالات کو خراب کررہے ہیں اور وزیر اعظم کی وژن کے عین مطابق شجرکاری کے ان کے منصوبے کو غلط رنگ دے کر ختم کردیا۔ انہوں نے کہاکہ کاغ لشٹ اپر چترال کے دیہات بونی، چرون اور موڑکھو کے کئی دیہات کا چراگاہ ہے اور رہے گا اور اس پر حکومتی قبضے کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ وہ کاغ لشٹ کی طرف مارچ کرکے اپنے حصے پر دوبارہ واٹر ٹینک تعمیر کرکے رہیں گے۔ بعدازاں شرکائے جلسہ ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے منتشر ہوگئے۔ دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر اب تک اپر چترال پولیس نے کسی کو بھی مقدمے میں نامز د نہیں کیا ہے جس کی تصدیق اسسٹنٹ کمشنر مستوج شاہ عدنان نے کی۔ انہوں نے کہاکہ کا غ لشٹ ریاست کی پراپرٹی ہے اور اسے غیر قانونی قبضہ کرنے پر قانون کا حرکت میں آنا لازمی امر ہے اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ درین اثناء چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن ہفتے کے روز بونی پہنچ کر احتجاجیوں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپر چترال میں لینڈ سیٹلمنٹ کے کام میں چھ ماہ کی توسیع سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کرائی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ نے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے کمیشن بنانے کا حکم دے دیا ہے جس میں کاغ لشٹ کی ملکیت سمیت دوسرے عوامی تحفظا ت کا تفصیلی جائز ہ لیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی بھر پور کوشش کریں گے کہ کاغ لشٹ کے دونوں اطراف میں واقع علاقوں کے عوام کو کمیشن کا فیصلہ آنے پر کسی بھی احتجاج سے باز رکھیں۔


شیئر کریں: