Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عدم استحکام اور تنازعے میں گھرا افغانستان …… قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبہ میں ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس کی نویں وزرا خارجہ 2021  کانفرنس منعقد ہوئی، پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی۔ دو شنبہ میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا مستقل صدر افغانستان ہے، جب کہ نائب صدر منتخب کئے جاتے ہیں۔ ہارٹ آف کانفرنس، کا بنیادی مقصد افغانستان میں قیام امن  ہے، تنظیم کی بنیاد 2011 میں بنیاد رکھی گئی، افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اس تنظیم کو استنبول پروسس کے تحت  کانفرنس منعقد کئے جاتے ہیں، تاکہ خطے کے پڑوسی ممالک سیر حاصل گفتگو کرسکیں۔ ہارٹ آف ایشیا کے مستقل ممبران میں 15 رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قزاقستان، قرغزستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں۔ جب کہ مبصرین 17معاون ممالک آسٹریلیا، کینیڈا،ڈنمارک،مصر،فرانس،فنلینڈ،جرمنی،عراق،اٹلی،جاپان،ناروے،پولینڈ،اسپین،سویڈن،برطانیہ اور امریکاشامل ہیں۔بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیمیں اورادارے جن میں AKDN، CAREC، CICA، SAARC،  CSTO، ECO،NATO،OIC،OSCE،SCO،EU  بھی شریک ہوتے ہیں۔ اب تک آٹھ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاچکا ہے،2 نومبر 2011 کواستنبول ترکی، 14 جون 2012کابل افغانستان، 26 اپریل 2013  الماتی قازقستان، 31 اکتوبر 2014 بیجنگ چین،09دسمبر 2015 اسلام آبادپاکستان، 04دسمبر 2016امرتسربھارت،1 دسمبر 2017 باکو آذربائیجان اور  9 دسمبر 2019 استنبول، ترکی اور30مارچ2021کو نویں کانفرنس تاجکستان  کے دارالحکومت دو شنبہ میں منعقد ہوئی۔


ہارٹ آف ایشیا کے بنیادی مقاصد میں دہشتگردی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ، تمام ریاستیں بین الاقوامی ذمے داریوں اور اقوام متحدہ کے عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے مطابق اپنی قومی دہشت گردی کی پالیسیوں کو اجاگر کریں، بین الاقوامی کمیونٹی ایک محفوظ،مستحکم اور خوشحال افغانستان کی مسلسل کوششوں کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنائیں۔ ا ستنبول پراسس کے مطابق رکن ممالک پر لازم ہے کہ ریاستوں کی خود مختاری، آزادی، علاقائی سا  لمیت، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام کیا جائے عموماََ پاکستان کے خلاف بھارت، افغانستان اور امریکا جارحانہ رویہ کو اپناتے ہیں، بالخصوص پڑوسی ممالک پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  ہارٹ آف ایشیا  میں بھارت نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کرتا آرہا ہے اور  ” کانفرنس ” کے ایجنڈے سے ہٹ کر پاکستان کے منفی پروپیگنڈے کی سعی کرتا ہے لیکن روس اور چین، پاکستان کی حمایت میں آگے بڑھ کربھارت کو شرمندہ کردیتے ہیں۔چین اور روس نے پاکستان کا کئی مواقعوں پر بھرپور ساتھ دیکر امریکی عزائم کو کامیاب ہونے سے روکا۔

روس۔چین اور پاکستان نے افغانستان میں پائیدار امن کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کی اورپاکستان نے خطے میں امن کے لئے اپنی خدمات و وسائل کو بھرپور استعمال کرنے کا مثبت اعلان کیا جس سے خطے میں امن کے لئے پاکستان کے کردار کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔ہارٹ آف ایشیا کا استنبول پراسس کا محور افغانستان رہا ہے، لیکن بھارت کسی بھی عالمی کانفرنس میں ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتا، حالیہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب کہ روس افغان امن مذاکرات کا دور کراچکا ہے اور امریکا کی درخواست پر استنبول میں افغان امن کانفرنس کے حوالے سے اپریل میں اہم اجلاس منعقد ہونے کا امکان ہے، امریکا کی خواہش کے مطابق بھارت کو بھی افغان پراسس میں شامل کرنے کی کوشش و درخواست کی گئی ہے، پاکستان، افغانستان میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ مفاہمتی عمل معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے، لیکن بدقسمتی سے بین الافغان مذاکرات کو ناکام بنانے میں بھارت اور کابل انتظامیہ کا مثبت کردار سامنے نہیں آیا، بھارت اپنی انا پرستی کی وجہ سے پاکستان کی مخالفت پر کمر بستہ نظر آتا ہے اور اس کا بیانیہ امریکی عزائم کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ مغربی ممالک اور جنوبی ایشیا امریکی پالیسیوں کی وجہ سے پریشان ہیں تو چین اور روس اس فلسفے سے متفق ہیں کہ دنیا میں طاقت کا محور کسی ایک ملک کا ہونا عالمی امن کے لئے خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔چین۔روس دنیا میں طاقت کے کئی محور ہونے کے فلسفے پر متفق ہیں۔ پاکستان بھی اس فلسفے کی اہمیت کو سمجھ چکا ہے اس لئے پاکستان مخالف گٹھ جوڑ  عناصر کو چین۔روس بلاک میں شمولیت سے اقوام عالم کو واضح پیغام دے چکاہے کہ امن کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ پُر امن معاہدے خطے کے لئے ناگزیر ہیں۔بھارت امریکی عزائم پر مشتمل منصوبے سازی میں پاکستان اور چین کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔


  امریکی ایما پر بھارت‘ افغانستان میں مسلسل مداخلت کررہا ہے اور پاکستان کی تمام تر قربانیوں کے باوجود امریکا کا رویہ تبدیل نہیں ہورہا۔ جس کے سبب پاکستان کو مستقبل میں افغانستان کے اندر بھارتی کردار پر سخت تحفظات کا سامنا ہے۔تاہم 18مہینے بعد غیر رسمی سطح پر بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے واضح امکانات موجود ہیں، گذشتہ دنوں پاک۔ بھارت واٹر کمیشن کا اجلاس بھی دو برس کے بعد دہلی میں منعقد ہوا تھا، جس سے دونوں ممالک میں سفارتی سرد مہری کے خاتمے پر عالمی برداری کی توجہ مرکوز ہے۔ امریکا اور کابل انتظامیہ نے افغان امن ثالثی کی کوششوں سے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں۔ ہارٹ آف ایشیا کا پلیٹ فارم پاکستان کے لئے امریکی دباؤ کو کم کرنے کا واضح سبب بنتاہے اور امریکا کے مقابلے میں روس۔چین کی حمایت سے پاکستان کو امریکہ کی سخت مخالفت و ڈو مور مطالبات کو ماضی کے مقابلے  مسترد کرتا رہا ہے اور ہارٹ آف ایشیا  پلیٹ فارم سے خود کو امریکی دباؤ سے آزاد بھی تصور کرتا ہے تو دوسری جانب عالمی تنہائی کا شکار کرنے کے منصوبے کی ناکامی میں بھی تنظیم کے کلیدی کردار کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ امریکہ بھی اس بات کو جانتا ہے کہ پاکستان کے اہم بلاک میں شمولیت کے بعد ماضی کے مقابلے میں مطالبات منوانے میں اب چین۔روس بھی حائل ہونگے اور پاکستان کے خلاف یکطرفہ کاروائی کرنے میں امریکہ کو مشکلات کا سامنا درپیش ہوگا۔ افغانستان مفاہمتی عمل معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کے لئے امریکا، پاکستان سے ماضی کے مقابلے میں دباؤ بڑھا کر من پسند نتائج حاصل کرنے میں عجلت او ر دباؤ کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔سابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لئے کابل کی جنگ پاکستان لانے کے مطالبے کو رد کئے جانے کے بعد امریکا نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے مالی امداد میں کمی کے ساتھ شرائط میں مزید سختیاں بڑھا ئیں، تاہم پاکستان اپنی معاشی و مالی اور فوجی ضروریات کا انحصار امریکاپر بتدریج کم کرتا جارہا ہے۔


 سی پیک منصوبہ کی کامیابی ہی پاکستان کو معاشی مسائل سے نکالنے کا واحد ذریعہ ہے جسے ناکام بنانے کے لئے ملک دشمن عناصر کے گٹھ جوڑ کا پاکستان کامیابی سے مقابلہ کررہا ہے۔دوشنبہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ماضی کے رویئے کے برعکس اس بار اپنے موقف میں تبدیلی کا عنصر پیدا کیا ہے۔ جس میں افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان سے تعاون وسعت کی خواہش ظاہر  کی ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منگل کو نویں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ تاریخ ہے اور افغانستان میں امن دیکھنے کا پاکستان سے زیادہ خواہاں کوئی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے افغانستان میں امن اور ترقی چاہنے والے ممالک ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’افغان امن عمل ایک ہم موڑ پر ہے۔ 40 سالوں سے عدم استحکام اور تنازعے میں گھرا افغانستان اس سے پہلے کبھی اپنی قسمت بدلنے کے اتنے قریب نہیں تھا۔‘وزیر خارجہ نے کہا کہ اگست 2020 میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک اہم موڑ تھا، جس طرح فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ تھا۔ ’اب تک ہونے والی پیش رفت افغان رہنماؤں کے لیے تاریخی موقع ہے کہ وہ وسیع سیاسی حل حاصل کر سکیں۔ پاکستان بارڈر منجمنٹ میں افغانستان کے تعاون کا طلبگار ہے تاکہ سرحدوں کو محفوظ بنا کر دونوں ممالک میں دہشت گردوں کی آزادانہ آمد رفت کو روکا جا سکے۔افغانستان، قیام امن کے لئے پاکستان کے ساتھ دوستانہ و برادرانہ ماحول کا تسلسل قائم رہنے پر ناکام رہا ہے۔  افغانستان نے بے بنیاد الزامات کو ہی اپنی پالیسی کا حصہ بنایا۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں شدت پسندوں کے خلاف عملیات میں واضح فرق دیکھا گیا۔


ہارٹ آف ایشیا  ایک موثر پلیٹ فارم کی صورت میں علاقائی تنازعات کے حل کے لئے موثر کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے لئے تمام رکن ممالک کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔استعماری قوتوں کے ہاتھوں اپنی ملک کی عوام کو کسی بھی قسم کی پراکسی وار سے بچانے سے کیلئے کسی نہ کسی ملک کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہوگی۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل چار دہائیوں سے ناقابل فراموش قربانیاں دے رہا ہے۔  رکن ممالک اپنے علاقائی مسائل کے حل کیلئے مغرب اور امریکا کی جانب دیکھنے اور استعمال ہونے کی ماضی کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر غور کریں اور خطے میں اپنے ملک کی عوام کی ترقی، فلاح و بہبود کے لئے بہتر مستقبل کی مستحکم منصوبہ بندیوں کو ترجیح دیں۔

خطے میں اسلحے کی دوڑ سے غریب عوام کی زندگیوں میں انقلاب برپا نہیں ہوتے۔ بلکہ مہنگائی و غربت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کروڑوں افراد جنگ کے مہیب سائے خود  پر مسلط دیکھ کر ان گنت نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو رہے ہیں جس سے دنیا کی مجموعی آبادی کا سب سے بڑا حصہ بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔ امریکا و مغربی ممالک کو کمزور و ترقی پزیر ریاستوں میں طاقت کے عدم توازن کو بڑھانے سے گریز کی راہ اختیار کرکے ماضی سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔  بظاہر علاقائی اتحاد موثر ثابت نہیں ہوئے، جس کی مثال سارک کی صورت میں ہے تاہم امریکی اور مغربی استعمار سے نجات کے لئے نئے علاقائی اتحاد کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ہارٹ آف ایشیا دوشنبہ سے توقعات وابستہ ہیں کہ افغانستان میں امن عمل کے لئے فریقین کو ایک متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق رائے لانے کی کوشش میں ایک لائحہ عمل پر متفق ہوسکیں۔تاہم منزل دور ہے۔ استحکام افغانستان امن کے لئے جب تک تمام افغان اسٹیک ہولڈرز ایک نظام پر متفق نہیں ہوتے، پرتشدد واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتے ہیں۔  


شیئر کریں: