Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپریل فول کی اصل حقیقت ……. تحریر :مولانا احمدضياء منچن آباد

شیئر کریں:

آج کل ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسی اخلاقی وبائیں اور غلط رسم و رواج ہیں جو مغربی تہذیب اور یہودیوں کی سازش ہیں ۔ اسی قسم کے خلاف اور دین کے خلاف تہذیب جاہلیت کی ایک چیز اپریل فول بھی ہے – ہمارے جدید نسل خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ اسے نہایت اہتمام اور گرم جوشی سے مناتا ہیں اور اپنے اس فعل کو عین روشن خیالی تصور کرتا ہیں – اس دن لوگ ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے میں آپس میں مذاق چھوٹ دھوکہ ، فریب ، وعدہ خلافی ایک دوسرے کی تذلیل و تضحیک کرتے میں – سماجی مذہبی اور اخلاقی اعتبار سے اپریل فول حرام ہے اس موقع پر عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اخبارات میں حیرت انگیز سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع ہوتی ہے جسے پڑھ کر لوگ تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہوجاتے ہیں- 

 بعد میں پتہ چلتا ہے کہ آج اپریل فول ہے اس کے حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ برابر تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہئے اس لیے کہ اس میں جن امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں- اپریل فول اگر تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہیں۔ تاریخی طور پر یہ بات واضع ہے کہ اسپین پر جب عیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا اے روز قتل و غارت کے بازار گرم کئے . بالآخر تھک ہار کر بادشاہ نے عام اعلان کر وادیا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے – جو مسلمان وہاں جانا چاہتے ہیں ہم نے ان کے لیے ایک بحری جہاز کا انتظام کیا ہیں – 

جو انہیں اسلامی سر زمین چھوڑ آئے گا – حکومت کے اعلان سے مسلمانوں کی کثیر تعداد اسلامی ملک کے شوق میں جہاز پر سوار ہوگئی جب جہاز سمندر کے عین درمیان میں پہنچا تو بادشاہ کے فوجیوں نے بحری جہاز میں بذریعہ بارود سوراخ کردیا اور خود بحفاظت وہاں سے بھاگ نکلے دیکھتے ہی دیکھتے پورا جہاز غرق ہوگیا عیسائی دنیا اس پر بہت خوش ہوئی اور بادشاہ کو اس شرارت پر داددی – یہ یکم اپریل کا دن تھا . آج یہ دن مغربی دنیا میں مسلمانوں کو ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہیں .

 یہ ہے اپریل فول مسلمانوں کو اپریل فول منانا جائز نہیں کیونکہ اس میں کئی مفاسد ہیں اس لیے ناجائز اور حرام ہیں- اسی میں غیر مسلموں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہیں اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ( مَن تشبہ بقوم فھو منھم ) ترجمہ : آپﷺ نے فر مایا جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اس میں سے ہیں۔ جولوگ اپریل فول مناتے ہیں اندیشہ ہیں کہ ان کا انجام قیامت کے دن یہود نصاریٰ کے ساتھ ہو ایک واضع قباحت یہ بھی ہے کہ چھوٹ بولا جاتا ہے جو شریعت اسلامی میں ناجائز اور حرام ہے . ایک اور حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور چھوٹ بولنا گناہ ہے اور گناه آگ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس دن مذاق میں دوسروں کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے جو بسااوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے . 

اس کا اندازہ 2 اپریل کے اخبارات سے لگایا جاسکتا ہے الغرض اس فعل میں کئی مفاسد پائے جاتے ہیں . لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قبیح فعل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور حکومت وقت سے اپیل ہے کہ اس پر پابندی لگانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے . آج قوم مسلم اپنے ازلی دشمن یہود ونصاری جملہ رسم ورواج طرز عمل اور ہر قسم کے فیشن کو نہایت ہی فراخ دلی سے قبول کررہی ہیں ہائے افسوس ہائے افسوس –


شیئر کریں: