Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا مسرت کا حصول ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے ؟ …..فریحہ علی NUML یونیورسٹی اسلام آباد

شیئر کریں:

انسانی اعمال کے پیچھے مسرت کا حصول کارفرما ہوتا ہے۔ انسان کی جدوجہد خوشی پانے اور خوش رہنے کی کوشش ہے۔ ایک آدمی محنت مزدوری کرتا ہے ، جس سے اس کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور نتیجے میں وہ مسرت حاصل کرتا ہے۔ انسان کی بھاگ دوڑ ، جدوجہد، ضرورتوں اور خواہشوں کی تکمیل حصول مسرت ہے۔انسانوں کا مل جل کر رہنا اور معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور اخلاقیات کا تصور وغیرہ بھی پر امن اور پر مسرت سماج کا قیام ہے۔ جہاں لوگ خوشی اور امن کے ساتھ رہ سکیں۔


انسانی تاریخ کے وہ مفکریں اور قدما جنہوں نے اپنے فکر سے انسانی سماج میں دو رس اثرات مرتب کیئے۔ ان میں یہ سوال ہمیشہ زیر بحث رہی کہ کیا مسرت کا حصول ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے؟ ان میں سے بہت سوں نے اس خیال کی حمایت کی اور کچھ نے اس کو رد کیا ۔


دیماقریطس کے خیال میں ایٹموں کی حرکت جن سے اس دنیا کی اشیاء بنی ہے ، آزادانہ ہے لہذا انسان فاعل مختار ہے اور حصول مسرت پر قادر ہے ۔ انسان کی روح بھی دوسری اشیاء کی طرح اپنی ماہیت میں مادی ہے اور موت کے ساتھ فنا ہوجاتی ہے۔ چنانچہ وہ حیات بعد ممات کا منکر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے جسمانی ازیت اور تکلیف سے پہلو بچانا مناسب ہوگا ۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ مسرت زہنی سکوں کا دوسرا نام ہے۔


ابیقورس کا نظریہ لذتییت بھی کہتا ہے کہ لذت کا حصول ہی خیر ہے اور یہی انسان کا مقصد حیات ہونا چاہیئے۔ تاہم وہ لذات میں فرق کرتا ہے ۔ ان کے خیال میں نفسانی لذات گریز پا ہوتی ہے ۔ اس لیئے دانشمند زوقی و فکری لذات کو اہم سمجھتے ہیں جو فنون لطیفہ اور تدبر و تفکر سے میسر آتی ہے۔


ارسطو جو کہ اس تصور کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ بھی اس نظریے کا قائل تھا وہ کہتا ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد مسرت یا لذت کا حصول ہے۔


ان میں سے بعض مسرت کو جذبات اور احساسات کی تسکین کا نام دیتے ہیں اور بعض عقل و استدلال اور علم دوستی کو حقیقی مسرت کا زریعہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ غم ، تکلیف اور مشکلات کا کردار بھی اہم ہوتا ہے جو انسان کو جدو جہد کرنے اور کچھ کرنے پر اکساتے ہے ۔ اس لیئے غریب لوگ محنت کش، اور دوسروں کی بہ نسبت سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکتھے ہے۔


انسان میں یہ فطری خوبی ہے کہ وہ جستجو کرتا ہے۔ اور اس دوراں وہ مختلیف ادوار سے ہوتا ہوا آج بعد جدیدیت میی سانسیں لے رہا ہے۔ جون جون انسانی فکر وسیع ہوتا جاتا ہے ۔ اسی طرح نئے خیالات اور تصورات سامنے آتے ہیں۔ دانا لوگ اس چیز کا انتخاب کرتے ہے جو نہ صرف ان کیلئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی باعث خوشی اور باعث خیر ہو۔


شیئر کریں: