Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال بازار میں خودساختہ اور کمرتورمہنگائی عروج پر، انتظامیہ اورمتعلقہ ادارے خاموش تماشائی۔۔عوامی حلقے

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال بازار میں نرخ ناموں پر عملدرآمد کرانے میں ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے تو دوسری طرف کاروباری حلقوں کی جانب سے خودساختہ نرخ مقرر کرنے کی وجہ سے عوام کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ چترال ٹائمزسے گفتگو کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکرنے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی چیز کی نرخ کو کنٹرول کرنے سے قاصرہے ، پرائز ریویو کمیٹی صرف اشیاخوردنی کی نرخ بڑھانے کیلئے بنائی گئی ہے جس کا کام صرف کاروباری حلقوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔


انھوں نے کہا کہ رمضان شریف کی آمد آمد ہے اوربازار میں چیز وں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ محکمہ فوڈ ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں صرف نرخ نامہ جاری کرسکتا ہے ۔ اور ان نرخ ناموں پر عمل درآمد کرانے والا کوئی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ چترال شہر کے بازار میں تازہ مرخی کی فی کلو نرخ 255روپے مقرر ہے مگر مجال ہے کہ کوئی دکاندار اس نرخ پر بیجنے کیلئے تیار ہو۔ انھوں نے بتایا کہ چترال شہر میں ایک کلوسے پندرہ سوگرام تک کے چوزے پانچ سو سے پانچ سو پچاس روپے فی دانہ کے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے جبکہ نرخ نامہ میں مرغی وزن کے حساب سے بیجنے کا ریٹ مقرر ہے ۔ مگر نرخ نامہ صرف دیکھانے اور حکام بالاکو خوش کرنے کیلئے تیارکیاجاتا ہے ۔ عمل درآمد کرانے والا کوئی نہیں ۔


اس سلسلے میں جب مرغی فروشوں سے نرخ نامے پر مرغی بیجنے کا استفسار کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اگر نرخ نامے پر عملدرآمد کرانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ڈاون ڈسٹرکٹ سے مرغی لانے والے ڈاٹسن اور تھوک فروشوں کو وزن کے حساب سے بیجنے پر پابند کیاجائے مگر وہ دانہ کے حساب سے ہمیں فروخت کرتے ہیں ۔


یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ضلعے کے اندرانتظامیہ کے علاوہ نرخ نامہ چیک کرنے کیلئے اور بھی ادارے موجود ہیں مگر چترال بازار کا کوئی پرسان حال نہیں اگریہ سلسلہ جاری رہا تو رمضان المبارک میں گرانفروشی مذید بڑھ جائیگی ۔


عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ ودیگر متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال بازار میں نرخ نامہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔اورعملدرآمد عملی طور پر تاکہ ان کے ثمرات غریب عوام تک پہنچ سکے ۔


شیئر کریں: