Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کمشنرملاکنڈ ڈویژن کے زیرصدارت علماء کرام کا اجلاس،کوروناکے حوالے عوامی اگاہی دوبارہ شروع کرنیکا فیصلہ

شیئر کریں:

سوات (چترال ٹائمز رپورٹ) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیرالاسلام کی زیر صدارت کورونا اقدامات کے تحت علماء کرام کا اجلاس کمشنر آفس سیدو شریف میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملاکنڈ ویژن میں کورونا کی تیسری لہر سے پیدا ہونے والی صورتحال پر علماء کو اعتماد میں لیا گیا۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران آگاہی اور شعور کی بیداری میں علماء نے نہایت عمدہ کردار ادا کیا تھا اور اسی بناء پر علماء کا اجلاس دوبارہ بلایا گیا تا کہ صورتحال سے انہیں با خبر رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے بعض اضلاع میں کرونا مریضوں کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے اور اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی آگاہی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ شعور اور بیداری کے حوالے سے علماء کرام کا کردار مسلمہ ہے، اسلامی افکار اور سنت نبوی کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے میں اسلامی طرز زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، صفائی و پاکیزگی کا فروغ، صبر کی تلقین اور باہمی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رضائے الہی کے حصول کے لیے توبہ و استغفار سے کام لینے اور صحت مند زندگی کے لیے سنت نبوی کے اصولوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ باہمی اختلاف، ذاتی ترجیحات و مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی و قومی وحدت کو فوقیت دینی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کو اس حوالے سے معاشرے میں حکومتی اقدامات اور کورونا سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز کے حوالے سے بھی آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اجلاس میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علماء کرام نے بڑھتے ہوئے کورونا مریضوں کی تعداد اور صحت کے شعبے پر آنے والے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں حکومتی مشینری کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اللہ تعالی کے حضور رجوع کرنے کی ضرورت ہے، گناہوں سے توبہ و استغفار اور رضائے الہی سے ہی اس وبا سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی تاریخ سے بھی سبق حاصل کرنی ہوگی اور اسلامی تاریخ میں ایسی وبائی صورتحال میں ہمیشہ عقل و فہم سے کام لینے اور احتیاط و پرہیز کا راستہ اپنانے کی مثالیں ملتی ہیں۔


شیئر کریں: