Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بدامنی کی بھٹی اور باشعور عوام۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر حمزہ گلگتی

شیئر کریں:

ذہنی طور پر بیمار،تعصب کی بیماری میں مبتلا، حقائق سے کوسوں دور قوم،جیسے القابات سے ہم گلگت والوں کو نوازا جاتاتھا۔ مقام شکر کہ، سوائے چند ایک کے، اکثر نے حالیہ واقعات کو بربریت ظلم اور دہشت گردی قرار دے کر ایسے القابات نوازنے والوں کا منہ بند رکھا۔ کچھ احباب ایسے بھی دیکھے جو یہ کہہ کر اس بربریت کو جواز فراہم کرنے کی ناکام کوششیں کیں کہ قرآن میں قصاص کا حکم ہے۔ جب ان سے اس کی وضاحت چاہی یا ایسے افعال کو برا ماننے کا کہا تو گالیوں پر اترتے دیر نہیں کیں۔ایسے نا سمجھوں کو کون سمجھائے کہ اس طرح کے بیوقوفیوں کی کھوکھ سے کس قدر بیانک واقعات برآمد ہوتے ہیں؟ کون سمجھائے کہ ہم سمجھائے کیا۔
مکرر مقام شکر کہ ہر طبقے کے دوستوں میں لاتعداد نے ایسے واقعات کی روک تھام کا بغیر کسی تعصب کے مطالبہ کیا۔ اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کہ کسی کو اس کی نظریئے یا عقیدے کی وجہ سے چھلنی کرنے کی اجازت بھلا کسی کو کس نے دیاہے؟


ڈر یہی تھا کہ ان بے گناہوں کے خون سے شاید بد امنی برآمد ہو اور خطہ ایک بار پھر ماضی کی طرح بند امنی کی بھٹی میں جلتا رہے، ماضی کی اُس تاریخ کا سوچ کے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں جب ہر شام کہیں نہ کہیں سے کئی بے گناہوں کوگولیوں سے بھون دینے کی اطلاعات آتیں۔اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا، اتنے بڑے واقعے کے بعد نہ اسے شدّو مد سے ایک طبقے کے کھاتے میں ڈالا گیا اور نہ ہی شدّومد سے اس کے حلال ہونے کی تاویلیں کی گئیں۔خطے کے بڑوں کی ذمہ دارانہ اقدامات، اور جوانوں کی امن کے پیام نے اُس اُبلتے لاوے پر پانی پھیر کر ا س کی تپش کم کر دی، یوں یہ پھیلنے کی بجائے سکڑتا گیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ بداَمنی کے ماحول کو بڑھاوادینے کی چند ایک نے کوشش کی مگر حکومتی بر وقت اقدامات سے یہ سلسلہ رک سا گیا، یہی کافی نہیں اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔


فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے فسادات اور بے گناہوں کے خون سے ہم ترقی کے میدان میں کافی پیچھے رہ گئے تھے۔گزشتہ سولہ سالوں کی تاریخ پرجب سرسری سا نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ امن کے دنوں میں ہماری ترقی کا گراف بہت بلند ہے۔میرغضنفر علی کے دور میں ”جب وہ چیف ایگزیکٹیوتھے“ گلگت کے شہر کے حالات قابو سے باہر ہوئے۔ دو ہزا ر پانچ کے واقعات کے بعد خطہ گویا مقتل گاہ بنا رہا، بد امنی کی وجہ سے ہمارا جو تعلیمی حرج ہوا اِس کا احساس اب بھی مجھے ہے لیکن کسی کے پاس اُس بد اَمنی کو فرو کرنے اور متاثرین کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی طاقت تھی نہ تدبیر۔یوں وقت کا دھارا بہتا رہا اپنا رخ، بد امنی کی بھٹی میں بے گناہ جلتے رہے، افسوس! ہم وقت کے دھارے کو تو موڑ نہیں سکتے تھے مگر اپنے افکار کو موڑ سکتے تھے البتہ شعوری یا لاشعوری طور پر ایسا کرنے کو کوئی تیار نہیں تھا، یا ایسا ہونے نہیں دیا جارہاتھا، چنانچہ بد امنی کی وجہ سے اپنے ہی شہر میں بہت سارے نو گو ایریاز بنتے گئے۔ جب گلگت کو برائے نام صوبہ بنایا گیا دو ہزار نو کے پیکچ کے ذریعے تو ہمیں ایک وزیر اعلیٰ بھی تاریخ میں پہلی بار ملا مہدی شاہ کی شکل میں مگر حالات کا رخ مڑا اور نہ ہی ”وزیراعلیٰ“ جیسے پر کشش اور بڑے نام کا حالات پر اثر ہوا۔منتخب نمائندے آناََ فاناََمشیران سے وزیر بن گئے جس جس کو موقع ملا بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے مگر بد امنی فرو کرنے کیلئے کسی کے پاس وقت تھا نہ تدبیر۔خطہ بد امنی کے اُس بھٹی میں ویسے ہی جلتا رہا جیسے پہلے جل رہاتھا۔

اُن کے پاس بھی کوئی مداوا نہیں تھا۔ دو ہزار بارہ کے یونیورسٹی سے پیدہ شدہ حالات و واقعات کے بعدگویا یوں لگ رہاتھا کہ لوگ ان بد امنیوں، نفرتوں، تفرقہ بازیوں اور قتل و غارت گیری سے تنگ آچکے ہیں۔ جب وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت آئی تو خطے کے حالات پر سنجیدگی دیکھانے کی پہلی بار کوشش کی گئی۔تب سی پیک کے بارے بڑے پیمانے پر غورو خوص جاری تھا یا شروعات کیلئے سوچ بچار آخری مراحل میں داخل ہوچکا تھا۔ مئی دوہزار تیرہ میں گلگت تبلغی اجتماع کا بھی بد امنی کودیس نکالا کرنے میں بہت بڑا رول تھا۔مولانا طارق جمیل کی کوششوں سے آغاراحت حسین کا اجتماع میں رات کے وقت شرکت سے بھی برف بہت حد تک پگھلا۔دوہزار پندرہ کو حافظ حفیظ الرحمان کی حکومت بنی اور خطے کے طاقتور لوگ(گو کہ ان میں سے اکثر اپ لوٹے بن کر گوشہ نشین ہوچکے ہیں)اس کی حکومت میں بڑے عہدوں پر براجماں تھے۔

وفاق اور گلگت دونوں میں مسلم لیگ کی حکومت اور حافظ حفیظ الرحمان اور ساتھیوں کی سنجیدگی نے خاطرخواہ نتائج برآمد کئے۔ اب امن سب کی ضرورت بھی تھی کہ سی پیک کا گیٹ وے یہی خطہ تھا۔ یوں یہ کریڈٹ حفیظ حکومت کو جاتا ہے کہ اس کے پورے پانچ سالہ دور میں کہیں ایک پٹاخا بھی نہیں پھٹاسوائے گزشتہ سال نلتر میں دو جوانوں کے قتل جیسے واقعے کے۔اس کی بھی ہر طرف سے مذمت کی گئی اور یوں اس کے اثرات سے بھی خطہ محفوظ رہا۔۔نو گو ایریاز ختم ہوئے اور علاقے میں امن بھائی چارے اور برداشت کا ایک ماحول دیکھنے کو ملا۔ بہت سارے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا سو علاقے میں امن کے قیام کیساتھ خوشحالی کی بھی شروعات ہوئی۔ دو ہزار بیس میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی اور ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے یونیورسٹی انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کو رات کے وقت آگ لگا نے جیسے واقعے اور گزشتہ دنوں گاڑی پر فائرنگ سے خواتین سمیت کئی بے گناہوں کا ناحق خون ہوا اور کئی زخمی ہوئے۔چنانچہ خطہ ایک بار پھر بد امنی کے دوراہے پر کھڑا نظر آیا۔بھلا ہو خطے کے بڑوں کا، نوجوانوں کا اور حکومت کے کارپردازوں کا کہ یہ آگ شدت سے پھیلا نہیں۔ اب تک کی اطلاعات کیمطابق نلتر واقعے کے مجرموں کی گرفتاریاں عمل میں آچکیں ہیں۔اب بال موجودہ حکومت کے کورٹ میں ہے۔اس کیس کو ٹسٹ کیس کے طور پر لے۔گہرائی سے اس کی تحقیقات کرائے اور تہہ تک پہنچے ملوث مجرموں کواگر قرار واقعی سزا مل جاتی ہے تو یہ اس حکومت کی بڑی کامیابی ورنہ اگلے بار کیلئے گزشتہ حکومت کا حشر بھی یاد رکھے۔


شیئر کریں: