Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ریاست مدینہ کی ضرورت……محمدآمین

شیئر کریں:

آج کے مسلمان جس مایوسی اوراپس میں ناچاقی کے دور سے گزر رہے ہیں وہ عالم اسلام کی تاریخ میں اگر تاریکی کا دور کہلایا جاسکیں تو کوئی بے جا نہ ہو گا۔ہم اپنے اسلاف کے ان اصولوں کو یقینی طور پر بھول چکے ہیں جن پر اج بھی ہم رشک کر رہے ہیں۔ہمارے اندر اتحاد و یگانگی کے وہ صفات موجود نہیں جن کا اسلام نے ہمیں درس دیتا ہے۔ہم مسلکی اور لسانی حدود و قیود میں بٹ چکے ہیں ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مغربی اور طاغوتی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہوچکے ہیں اور جس عقل کو بار بار استعمال کرنے کی اسلام ہمیں تعلیم دیتاہے ہم بحیثت مسلم قوم اس نعمت سے نا اشنا ہوچکے ہیں۔


جس دین کی بنیاد ہمارے نبی ﷺنے اج سے چودہ سو سال پہلے رکھا تھا وہ دین ہمیں باہمی تعاوُن اور ایکدوسرے کو برداشت کرنے کا حکم دیتاہے اور ہمارے پاس ہمارے نبی اقدس کے وہ بہتریں اسوہ حسنہ موجود ہیں جن پر عمل کرکے ہم دنیا میں ایک باعزت اور عظیم قوم اور امتی بن سکتے ہیں۔اسلامی معاشرے کی بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اُصول یہ ہے کہ تمام اسلامی احکامات خواہ ان کا تعلق سیاسی امور سے ہو یا اقتصادی معاملات سے،لوگوں کے حقوق سے ہو یا کسی اور معاملے سے،وہ منسوخ نہیں ہوئے اور قیامت تک باقی اور قابل اجراء ہیں،ان احکامات کا اجراء اور نفاذحکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔


امن وامان کو برقرار رکھنا اور اجتماعی و معاشرتی نظام کی حفاظت ایسے واجبات ہیں جن کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے،اسی طرح اسلامی معاشرے میں بد امنی اور انتشار پھیلانا بھی شارع مقدس کے نزدیک حرام اور ناپسندیدہ ہے،اب ظاہر ہے کہ مذکورہ امر کو عملی جامعہ پہنانا حکومت کے بغیر ناممکن ہے۔


مسلمانوں کی سرحدوں کا دفاع اور حملہ اوروں اور تجاویز کرنے والوں سے ان کی حفاظت عقلی اور شرعی لحاظ سے واجب ہے اور یہ امر اسلامی معاشرے کی بنیاد تریں ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کرنا حکومت اور فوجی طاقت کے بغیر ناممکن ہے۔


اسلام ایک جامع دین ہے اور اس کے احکام ذندگی کے تمام شعبوں چاہیئے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی پر مشتمل ہیں۔اسلامی قوانیں ایک مخصوص مدت تک کے لیئے محدود نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیئے اور جاویدانی ہیں۔اسلام کے سیاسی اور معاشرتی قوانین کی نفاذ کے لئے حکومتی نظام اور سیاسی ادارے انتہائی ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر اسلامی احکام کا نفاذ نا ممکن ہے۔لہذا احکام الہی کے لئے اسلامی حکومت مقدمہ اور لازمی شرط ہیں۔دین کے سیاسی اور معاشرتی احکام کانفاذ چونکہ ایک صالح دینی حکومت کے بغیر نا ممکن ہے اسلئے ہر دور میں اسلامی حکومت کی تشکیل اور اس کی حفاظت واجب ہے،اس بناء پر تمام افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے قیام اور اسکی حفاظت کے لیئے کوشش کریں اور اس بارے میں کوتاہی اور سستی نہ کریں۔


اسلامی حکومت کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں مسلمانوں کی قاطع اکثریت خواہ سنی ہوں یا شیعہ سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ دین اسلام صرف انفرادی اور عبادی احکامات پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس کے احکام و قوانین کا تعلق انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے تمام پہلووُن سے ہے،خواہ وہ سیاسی ہوں یا عسکری،معاشی ہوں یا عدالتی۔نیز اس امر پر بھی سب متفق ہیں کہ احکام الہی صرف رسول ﷺکے زمانے سے مخصوص نہیں بلکہ ان کا تعلق تمام ادوار اور زمانوں کے ساتھ ہے جیسا کہ روایت ہے
یعنی یہ احکام تا ابد باقی ہیں اور ان کا نفاذ ضروری ہیں۔علاوہ یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ دین کے اجتماعی اور سیاسی احکامات کا نفاذ اسلامی حکومت کے بغیر بالکل ناممکن ہے۔یہ ساری چیزیں صرف ریاست مدینہ میں ممکن تھے جس میں رسول ﷺ نے ایک اعلی طرز کا حکومت نافذ کیا جس کا تعلق انسانی ذندگی کے تمام شعبوں سے تھا۔ریاست مدینہ میں سب کو بغیر کسی تفریق کے بنیادی حقوق حاصل تھے چاہیے ان کا تعلق کسی بھی نسل یامذہب سے ہی کیوں ہے۔

روایت میں اتا ہے کہ آمیرولمومینین جناب علی ابن ابی طالبؑ نے ایک بوڑھے یہودی کو کوفے میں بھیگ مانگتے ہوئے دیکھا تو اپنے سوال کیا کہ میری حکومت میں اپ بھیگ کیوں مانگتے ہو یہودی نے کہا یا علی کل تک مجھ میں قوت تھی کام کرتا تھا اب مجھ میں قوت نہیں رہی آپ نے حکم دیا کہ اس کی تمام ضروریات کو بیت المال سے پورا کیا جائے اور اسے ماہانہ وظیفہ ادا کیا۔سوال کیاگیا یا امیرولمومینین یہ تو یہودی ہے آپؑ نے فرما یا یہ تو انسان ہے اور اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسکی تمام ضرورتوں کو پورا کیا جائے اور یہ ہے ریاست مدینہ کے حاکم، اور ہمیں اپنے بزرگون کے نقش قدم پر چلنا سیکھنا چاہیے تاکہ ایک فلاحی اسلامی ریاست کا قیام وجود میں اجائے۔


شیئر کریں: