Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پندرہ اضلاع میں شادی تقریبا ت پر پابندی عائد، پانچ فیصد متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کئے جائینگے

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا میں مثبت کورونا کیسزکی شرح میں مسلسل اضافے، این سی او سی کے حالیہ فیصلے اور اس سلسلے میں 30مارچ 2021کو منعقدہ صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں مزید غور وخوض کے بعد حکومت خیبر پختونخوا نے فوری طور پر31مارچ 2021سے صوبے کے 15اضلاع پشاور، مردا ن، چارسدہ،صوابی،دیر پائین،کوہاٹ،نوشہرہ، سوات، ملاکنڈ، دیر بالا،شانگلہ، ہری پور، ایبٹ آباد، خیبرا ور باجوڑ میں شادی کی تقریبات (ان ڈور اینڈ آوٹ ڈور)پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔جبکہ کسی بھی ضلع میں مثبت کورونا کیسز کی شرح 8فیصد سے زیادہ ہونے پر مذکورہ پابندی کو مزید توسیع دی جائے گی۔مذکورہ پابندی کی خلاف ورزی پر متعلقہ قوانین کے تحت سخت سزا دی جائے گی۔ اس امر کا اعلان محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

دریں اثنا رمضان سے قبل کورونا سدباب کے لئے سخت اقدامات، شادی ہالوں میں تقریبات پر پابندی، پانچ فیصد سے زائد کورونا کیسز والے سولہ اضلاع میں تعلیمی ادارے بند، وزرا ء دفاتر سمیت سول سیکرٹریٹ میں وزٹر کے آنے پر پابندی، رمضان تک ہفتے میں دو دن بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند، متاثرہ اضلاع کے ہسپتالوں میں 200 کورونا بیڈز کا اضافہ، حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہو، روزانہ کی بنیادوں پر ہیلتھ سسٹم کی استعداد کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ وزیرعلٰی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑاکے ہمراہ منگل کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبائی ٹاسک فورس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کورونا وبا کے پھیلاو ٗمیں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ آج سے شادی ہالوں میں شادی و دیگر تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پانچ فیصد یا اس سے زیادہ کورونا کے مثبت کیسز والے اضلاع میں تعلیمی ادارے بند کئے جائینگے۔ اس مد میں پہلے ہی سولہ اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے جن میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، ملاکنڈ، باجوڑ، چارسدہ، پشاور، بونیر،مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کوہاٹ شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی ٹاسک فورس نے وزرا دفاتر سمیت سول سیکرٹریٹ میں وزٹر کے آنے پر پابندی عائد کی ہے جبکہ سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملے کے کام کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جبکہ صوبائی وزراء کو اختیار ہوگا کہ وہ حالات کے مطابق اپنے دفاتر میں عملے کو مزید کم کریں۔ کامران بنگش نے بتایا کہ کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی ٹاسک فورس نے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو دن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور یہ پابندی ابتدائی طور پر رمضان تک جاری رہے گی۔ ٹرانسپورٹ اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ٹرانسپورٹرز کیساتھ ایس او پیز نفاذ بابت مشاورت کرینگے تاکہ ٹرانسپورٹ میں سماجی فاصلے اور دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ معاون خصوصی کامران بنگش نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں پولیو کیسز میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور کل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم نہایت احتیاط اور سخت ایس او پیز کے نفاذ کیساتھ جاری رہے گی۔ وزیرخزانہ و صحت تیمور جھگڑہ نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہو۔ معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ ہیلتھ سسٹم کی استعداد کار کو بڑھانا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔روزانہ کی بنیادوں پر ہیلتھ سسٹم کی استعداد کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں زیادہ متاثرہ اضلاع کے ہسپتالوں میں کورونا بیڈز میں 200 کا اضافہ کریں۔ ضرورت پڑنے پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نئے سرجیکل بلاک کو کورونا مریضوں کے لئے مختص کیا جائے گا۔وزیرصحت کے مطابق آنے والے دنوں میں کورونا ویکسینیشن میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ پشاور سمیت صوبے کے وسطی اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ ایسی او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں۔


شیئر کریں: