Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومت و اپوزیشن کا چوہے بلی کا کھیل …..تحریر: سید جواد نقوی (تحریک بیداری امت مصطفٰی)

شیئر کریں:

ایک اور جو فساد ہے سیاسی، ہر دن ایک نیا رنگ دکھاتا ہے۔حکومت و اپوزیشن کا چوہے بلی کا کھیل ہے ٹام جیری، یہ کارٹون یہ مقبول عام سب کا، دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں بچوں سے زیادہ بڑے پسند کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ٹام جیری کارٹون کے اندر جو کہانی ہوتی ہے بچوں کے سمجھنے کے نہیں ہوتی بڑوں کے سمجھنے کے ہوتی ہے اور یہ دونوں بڑوں کے کریکٹر ہے بچے ایسے کام نہیں کرتے۔وہ بڑوں کے کردار ہے جو اس کارٹون میں انہوں نے شامل کئے ہیں۔ اور ٹام جیری کی جگہ پر حکومت و اپوزیشن کو رکھ تو بالکل وہی کارٹون ہے وہ کہا نی اور وہی مسئلہ ہے کہ کبھی چوہا بلی سے بھاگ رہا ہوتا ہے اور کبھی بلی چوہے سے بھاگ رہی ہوتی ہے، کبھی بلی کو ذلت اٹھانا پڑتی ہے اور کبھی چوہے کو شرمندگی دیکھنا پڑتی ہے اور مرتے دونوں نہیں ہیں نہ چوہا بھاگتا ہے اور نہ بلی پکڑنے میں کامیاب ہوتی ہے لیکن چونکہ کھیل ہے ہے نہ یہ۔ اسی طرح پاکستان کی سیاست بھی ہے۔ حکومت بنی اور بنے کے دو سال بعد وزیر اعظم صاحب نے کہا کہ ہمیں پہلے تو ہمیں اعداد و شمار کا پتہ نہیں چلتا تھاکہ ملک میں آبادی کتنی ہے پیسے کتنے ہیں تنخوائیں کتنی ہیں؟ میٹنگ ہوتی تھی اس میں سارے منہ کھولے ہوئے بیٹھے رہتے تھے، رپورٹ بنانا بھی نہیں آتی تھی رپورٹ پڑھنا بھی نہیں آتی اور ایسا ہوا ہے جیسے آرمی چیف باجوہ صاحب کی مدت ملازمت بڑھانی تھی،

اس کابینہ کی لیاقت دیکھیں کہ اس کے لئے انہوں نے خط لکھاوہ تین دفعہ تبدیل کرنا پڑا، خط لکھنا نہیں آتا ان کو! آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھانے کے لئے خط لکھنا بھی کابینہ کو نہیں آتا، غلط لکھنے کی وجہ سے تین دفعہ ان کو تبدیل کرنا پڑا، تیسری دفعہ جو خط لکھا تو سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا کہ یہ توخلاف قانون ہے پھر انہوں نے راتوں رات پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون بنایا، پھر مدت ملازمت انہوں نے بڑھائی۔ یہ ان کی صورت حال ہے، یہ لیاقت، سیاست اور یہ ان کی قابلیت ہے۔ یہ جو جمہوری طبقہ بیٹھا ہوا ہے علامہ اقبالؒ کے بقول کہ ”دو صد خر“ اتنا کام بھی ان سے نہیں ہوتا۔ بہر کیف اپوزیشن ایک عرصے تک حکومت کو مضبوط کرنے میں مصروف رہی، دو سال تک پوری کوشش کی، انہیں لگ رہا رتھا کہ یہ حکومت اس طرح سے کارآمد ثابت نہین ہوگی لیکن پوری مدد کی،د و سال کے بعد مخالفت شروع کی، مخالفت میں آکر پی ڈی ایم فورم بنایا اور مولانا کی سربراہی میں زور و شور سے حکومت مخالف تحریک چلائی۔ سیکولر و لادین اور مذہب مخالف سارے ایک مذہبی رہنما کی سرپرستی میں سیاست کرنا شروع کر دی جو سارا سال مذہب کے خلاف بولتے ہیں مذہب کی مذمت کرتے علماء کی توہین کرتے ہیں یہ عالم دین کے سربراہی میں تحریک چلائی اس نے جلسے کئے اور پھر تاریخ دینا شروع کی کہ فلاں تاریخ کو حکومت فارغ ہو جائیگی،

پہلے دسمبر میں کہا پھر جنوری میں کہا پھر فروری میں پھر مارچ میں کہا، اور کبھی لانگ مارچ کبھی کیا، اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ یہ اپوزیشن تحریک خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دیا انہوں سینٹ الیکشن کے اندر انہوں نے ایسا ڈرامہ کیا کہ وزیر اعظم بھی کہہ بیٹھتے کہ پارلیمینٹ نہیں بکر ا منڈی ہے یعنی ایسا لگ رہا تھا کہ جانور اور بکرے اور کسائی وہاں پر بیچنے والے اور خریدنے والوں کا ایک اڈہ ہے اور یہ ان کی انکساری تھی انہوں نے بکرا منڈی کہا جبکہ حقیقت میں گدامنڈی تھی، گدے کچھ بیچنے آئے تھے اور کچھ خرید نے آئے تھے۔ اور ایسا ہی ہوا کہ عجیب و غریب قسم کا سینٹ کا الیکشن ہوااور پی ڈی ایم نے اگلے لائحہ عمل کے لئے میٹنگ بلائی اس میں پیپلز پارٹی کے رہنما نے آکر اپنے ہی نون لیگ کیحریفپر الزامات لگا کر ان کے خلاف بیان دے دیااس بعد سے لے کر ملک میں یہ صورت حال بن گئی۔ یعنی ایک دوسرے کو دھوکہ دیاایک دوسرے کی امید پر کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا لے کر کہ وہ بھی دھوکہ ہی تھا۔

حکومت ان کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یہ ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یہ سب مل کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں یعنی اصل کام یہ کر رہے ہیں کہ حکوم و اپوزیشن مل کر عوام کو بے وقوف بنا کر دھوکہ دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف پاکستانی اچھی اور نیک عوام ہیں یہ کسی کو مایوس نہیں کرتے، یہ حکومت دھوکہ دے تو بھی دھوکے میں آجاتے ہیں، اپوزیشن دھوکہ دے تو بھی دھوکے میں آجاتے ہیں۔ اپوزیشن کے دھوکے میں یہ ثواب سمجھتے ہیں چونکہ وہاں مولانا صاحب قیادت کر رہے ہیں تو دنیا کا بھی فائدہ سمجھ رہے ہیں اور آخرت کا بھی۔ لیکن یہ سب فریب ہے یہ جمہوریت دیکھ لیں، سینیٹ میں فریب دیتے ہیں ایک دوسرے کو، الیکشن میں ایک دوسرے کو فریب دیتے ہیں، عوام جب ووٹ ڈالتے ہیں رو بھی فراڈ ہوتا ہے جیسے ڈسکہ میں الیکشن ہوتا ہے تو فراڈ،پھر سینیٹ کا الیکشن ہوتا ہے تو بھی فراڈ، پھر اپوزیشن آپس میں حکومت کے خلاف بیٹھتی ہے یہ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہیں، پیپلز پارٹی نون لیگ کو اور نون لیگ ان کو اور دونوں مل کر مولانا کو اور پھر مولانا اپنے ساتھیوں سمیت ان کو اور سب ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں اور سب مل کر در اصل عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جمہوریت اسی فریب کا نام ہے یہ دھوکہ دہی اور دھوکہ بازی کا نام ہے۔ جمہوریت کا مطلب جمہور کی حکومت نہیں ہے بلکہ جمہور کو بے وقوف بنانے کا نام جمہوریت ہے، جمہویت کو گدا بنانے کا نام جمہوریت ہے اوریہ آپ نے اپنے ملک میں دیکھ لیا ہے کہ یہ کسی بھی دھوکے کے ذریعے سے اقتدار میں آنا ہی جمہوریت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: