Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سماجیات……!……..بلی, کورونا اور ہمارے اجتماعی رویّے ۔۔۔۔محمد افضل چترالی

شیئر کریں:

کورونا وباء کے آغاز سے اب تک کے صورتحال پر اگر نظر ڈالا جائے تو اسے متعلق ایک واقعہ ذہن میں اجاتا ہے وہ یہ کہ ایک نو بیاہتا شادی شدہ جوڑے کے کمرے میں بلی گھس آتی ہے, دلہا جب بھگانے کی نیت سے اسے مارنا چاہا تو بلی جان سے ہی جاتی ہے- یہ واقعہ بیوی پر ایک قسم کا خوف طاری کر دیتا ہے کہ میرا شوہر کتنا ظالم ہے, غصے سے بیچاری بلی کو ہی مار دیا, اگر میں بحیثیت بیوی کوئی حکم عدولی کروں گی تو کہیں مجھے بھی نہ مار دے- اس خوف کے مارے بیوی انتہائی فرمان برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیتی- شوہر کا ایک دوست اس فرماں برداری سے متاثر ہوکر شادی کر لیتا ہے تاکہ وہ بھی اپنی زندگی کو انجائی کر سکے- لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی بیوی تو بدتمیز اور نافرمان نکلی, تنگ آکر مشورہ لینے اسی دوست کے پاس پہنچتا ہے کہ یار آپ کی بیوی تو ماشاءاللہ بڑی فرمان برادر اور میری بیوی بداخلاق اور بد تمیز نکلی ہے, آخر کیا علاج کروں اس کا؟ دوست کہتا ہے کہ میں نے بلی مارا تھا آپ نے بلی نہیں مارا ہوگا- دوست واپس جاکر بلیوں کو مارنا شروع کرتا ہے حتیٰ کہ محلے کی ساری بلیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن اس کی بیوی کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی- پھر دوست کے پاس آتا ہے کہ محلے کی ساری بلیاں تو ختم ہو گئیں لیکن بیوی ٹھس سے مس نہیں ہو رہی- دوست نے کہا بیوقوف تمہیں پہلی رات بلی مارنا تھا اب کوئی فائدہ نہیں-


یعنی ہر کام کا اپنا ایک مناسب وقت ہوتا ہے- وقت گزر جائے تو کوئی طریقہ ورادت موثر نہیں رہتا- یہی حال ہمارے ملک میں کورونا وباء کا ہے- ابتداء میں اس وباء کو نہ دلہا میاں نے سنجیدہ لیا اور نہ ہی عوام- عوام کو تو موقع چاہیئے تھا احتیاطی تدابیر سے فرار ہونے کا, بس پھر کیا تھا اس کے بعد احتیاطی تدابیر صرف اعلانات تک ہی محدود رہے- جن مقامات پر حکومت کیجانب سے زبردستی لاک ڈاؤن کا اطلاق کر بھی لیا گیا وہاں پر بھی عوامی رویہ اور غیر سنجیدگی دیدنی تھا- اس طرح ملک بھر میں عوام الناس نے بے احتیاطی میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنے لگے حتیٰ کہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے- ایک طرف سکول بند ہونے سے بچوں کی تعلیم کا جو ضیاں ہوا یا ہورہا ہے وہ ناقابل بیان ہے لیکن دوسری جانب بازاروں اور پبلک مقامات پر رش روز بروز بڑھتا گیا اور ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں- جب عوام کا کچھ حصہ اس بیماری کی سنجیدگی کا احساس کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ہدایات عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنے لگے تو ان کو کچھ طبقے سے “مذہب میں کمزور” یا “کمزور ایمان” ہونے کا طعنہ ملنے لگا- ابتدائی ایام میں کچھ ذمہ دار لوگ اس بیماری کو خالی زکام, نزلے کا نام دیا, کچھ نے اسے ضعیف العمر افراد کی بیماری جانا اور کچھ نے یورپی ممالک یعنی یہود و نصاریٰ کا چال کہا, مطلب جتنے منہ اتنی باتیں, تبصرے اور بیانات-

یہی چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس اس وباء کو اُس سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس طرح لینا چاہیئے- اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں یہ وباء شدت سے اپنا پنجا گھاڑ چکا ہے- تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک میں کورونا کے اجتماعی مریضوں کا اوسط شرح 10.5 اور لاہور میں 14.5 تک پہنچ چکا- گزشتہ چوبیس گھنٹوں کےاندر کل 100 پاکستانی شہری اس وباء کا شکار ہوکر اپنے قیمتی زندگی گنوا چکے اور اسپتالوں میں مریضوں کیلئے سہولیات کی گنجائش کم پڑرہی ہیں-

اس لئے اگر ہم نے وقت پر بلی مارنے میں کوتاہی, کمزوری یا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بھی ہے تو اب وقت ہے کہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں, حالات کی سنگینی کا احساس رکھتے ہوئے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں او اس مشکل حالات پر قابو پانے میں مدد کریں تاکہ حکومت کو سخت اقدامات اٹھاکر ملک کے غریب محنت کشوں کو روز گار سے محروم نہ کرنا پڑے اور نہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت اسے مزید سنگین صورتحال کا متحمل ہوسکتا ہے- تو آئیں ہم سب اپنے رویوں میں تبدیلی لاکر انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرتے ہوئے اس قدرتی یا انسانی وباء جو جس طرح سمجھتا ہے کو شکست فاش سے دوچار کرنے کیلئے عقل اور تدبر کا استعمال کریں, شکریہ


شیئر کریں: