Chitral Times

Apr 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ماحولیاتی سمٹ، امریکا کی روایتی سرکشی ………. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

ماحولیاتی تبدیلی پر امریکی صدر جوبائیڈن نے ورچوئل سمٹ کے اعلان میں پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے 23 اپریل کو 40 عالمی رہنما مدعوکئے۔ جس کے بعد وزیراعظم کے مخالفین کی جانب سے طنز کے تیر برسانا شروع ہوگئے ، مختلف تجزیئے سامنے آئے، سوشل میڈیا میں اعداد و شمار سے امریکی صدر کو باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان کی عدم شرکت سے عالمی اجلاس کو عمران خان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ضائع ہوجائے گا۔ زور دیا جارہا ہے کہ عمران خان نے ماحولیات میں تبدیلی کے لئے کارہائے نمایاں کارنامے انجام دیئے ، ان کی منصوبہ بندی سے پوری دنیا کو فائدہ اٹھانا چاہے، بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان کو مدعو نہ کرنا، زیب نہیں دیتا، وغیرہ وغیرہ۔بہرحال امریکی صدر کا فیصلہ ہے کہ وہ کن رہنماؤں کو مدعو کرتے ہیں، اس سے پہلے بھی امریکا جو بھی کرتا رہا ، کون سا پاکستان سے پوچھ کر کرتا تھا، جو بھیکیا، دل کھول کر کیا، اس لئے بحیثیت ایک پاکستانی کم ازکم مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیراعظم کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا، اس سے تو پوری دنیا میں عمران خان کو مزید اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے جوبائیڈن نے موسمیاتی سمٹ میں انہیں شامل نہیں کیا،

کیا پاکستان، امریکا کا اتحادی نہیں رہا، یا پھر ٹریلین بلین منصوبوں کی ’کامیابی‘ کے بعد اب زیادہ آلودگی پھیلانے والا ملک نہیں رہا اور مجوزہ فہرست کے تیسرے درجے پر غور کیا جائے کہ کیا اس وقت پاکستان ماحولیاتی اثرات کے بجائے سیاست سے زیادہ متاثر تصور سمجھا جارہا ہے۔کسی دل جلے نے کہہ دیا کہ اگر عمران خان نے ماحولیاتی اثرات پر اپنی تقریر کرتے تو تمام عالمی رہنما ؤں کومجبورہوکر امدادی رقم دینا پڑجاتی۔ ذاتی طور پر مجھے تو اس منطق پر غصہ آیا کہ عمران خان نے اب تک جو بھی کیا، اپنی ذات کے لئے نہیں کیا، کچکول پھیلایا بھی تو مملکت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے، ایم آئی ایف سے قرضہ بھی لیا تو اپنے پیاروں کے لئے، ان کی وجہ سے انہوں نے خودکشی کا ارادہ ختم کردیا کیونکہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ بھی نہ رہے تو اس نئے پاکستان کا کیا بنے گا۔ ۔ سیاسی مخالفین نے یہ خیال آرائی بھی کی کہ دنیا کو درپیش ماحولیاتی آلودگی کا ذمے دار کہیں اپوزیشن کو قرار نہ دے دیں، اس لئے ان کے خلاف حزب اختلاف نے بھرپور لابنگ کی گئی اور فہرست میں ان کا نام جو پہلے نمبر پر تھا، اس کو حذف کرادیا گیا،

ممکن ہے کہ سوشل میڈیا میں ٹائیگر زکے شدید احتجاج اور ’شریفانہ ٹرینڈز‘چلانے کے بعد جوبائیڈن اپنے فیصلے میں نظر ثانی کردیں۔ کیونکہ ابھی افغانستان کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا، چین اور ایران کے درمیان قربتیں مزیدبڑھ چکیں، پاکستان جیسا نان نیٹو اتحادی امریکا کے لئے اہمیت کا حامل ہے، یہ اعتراف گذشتہ دنوں جوبائیڈن کرچکے،ممکن ہے کہ افغانستان اور بھارت نے اپنے سہولت کاروں کی مدد سے امریکی صدر کو گمراہ کردیا ہو، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو ملک دنیا میں پہلے دس نمبروں میں ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہو، ٹریلین و بلین ٹری منصوبے لگا چکا ہو، یہاں تک کہ صوبائی حکومتوں نے بھی پودے لگانے کے عالمی ریکارڈز توڑے ہوں، اُسے نظر انداز کردیا جائے۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی اہمیت کم کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے کہ دنیا کو لاحق خطرات میں انہیں ایسے وزیراعظم سے مشورے و تجربات سے فایدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں، جو اپنی حزب اختلاف کے ساتھ ڈھائی برسوں میں ایک بار بھی مشاورت کے لئے بیٹھا نہیں، ممکن ہے کہ جس طرح آرڈیننس جاری ہو رہے ہیں،

ان سے غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ شاید مملکت میں پارلیمانی نظام کا تختہ الٹ دیا گیا، اس لئے قانون سازی پارلیمان کے بجائے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ بعض سیاسی پنڈتوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے سفارتی محاذ کا رخ بھی پی ڈی ایم کی جانب مرکوز رہنے کی وجہ سے، عالمی معالات میں اپنی اہمیت اجاگر کرنے میں کمزور رہا ہے، سفارت کاروں نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف دنیا بھر میں انہیں کرپٹ، غدار کرانے پر پورا زور لگایا،کہا جاتا ہے کہ اگر نصف کوشش اپنے سفارتی تعلقات بہتر بنانے پرمرکوز رکھتے تو شاید سمٹ میں بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کے رہنماؤں کے ساتھ بھی مثبت مذاکرات کے راہ ہموار ہوسکتی تھی۔ امید ہے کہ ایک نہ ایک دن امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور حکومت کو اپنی’مجبوری‘ سے آگاہ کرے گا کہ دراصل آپ لوگ سینیٹ الیکشن میں اتنے مصروف تھے کہ ہم نے زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا، کرونا وبا میں تیز ترین اضافے کے باعث دنیا بھر میں تیسرے نمبر آجانا، باعث تشویش ہے اس لئے جو اقوام متحدہ کے حکام انتظامی کارکردگی کی مثال دیا کرتے تھے، آج بھی مثالیں دے رہے ہیں کہ یہ وہی حکومت ہے جس نے کرونا کو بڑی تکینکی و ماہرانہ طریقے سے محدود کیا تھا .

لیکن اب۔۔، شایدیہ بھی حزب اختلاف کی ’بری‘ کارکردگی تھی، جس کی وجہ سے صدر مملکت، وزیراعظم اور خاتون اوّل بھی کرونا وائرس کا نشانہ بنے۔تمام حالات و سیاسیات سے قطع نظر یہ کڑوی حقیقت ہے کہ امریکا نے وزیراعظم کو اہم اجلاس میں شریک نہ کرنے کا فیصلہ کرکے واضح کردیا کہ وہ پاکستان کے حوالے سے اپنی احمقانہ پالیسیاں ترک کرنے پر نظر ثانی نہیں کررہے، خطے میں پاکستان کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش میں دنیا کے عالمی رہنما و غیر جانب دار ممالک بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ ایک ایسا ایشو جس پر امریکا، الٹے قدم پلٹ گیا تھا اور پھر اپنے تھوکے کو دوبارہ چاٹ کر شامل ہوا، وہ عظیم مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک کو دانستہ نظر انداز کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے، دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا مرتکب خود امریکا ہے، صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے جہاں کاربن کے اخراج سے عالمیموسمیاتی تبدیلیوں کا موجب بنا تو دوسری جانب عظیم مشرق وسطیٰ میں جنگیں مسلط کرکے نہ صرف اُن ممالک کا انفراسٹرکچر برباد کیا بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، جنگی ہتھیاروں کی فروخت کے لئے امریکی تجربہ گاہوں کی وجہ سے عالمی ماحول کو نقصان پہنچا، پاکستان میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن خطے کے اہم جغرافیائی اہمیت کے حامل مملکت کو نظر انداز کرنا قابل مذمت ہے۔


شیئر کریں: