Chitral Times

Apr 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تاریخی سیو مسجد داسو کوہستان۔۔۔۔تحریر: ایم علی مجاہد

شیئر کریں:

خیبر پختونخوا کی سرزمین کو آثار قدیمہ کی سرزمین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہاں ہزاروں سال پہلے کی تہذیب کے آثارآج بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ خطہ کسی دور میں بدھ مت کے ماننے والوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ یہاں سکھوں نے بھی طویل عرصہ حکومت کی ہے۔ مسلمانوں نے کئی بار اس سرزمین پر اپنے قدم جمائے مغلیہ دور کی عمارتیں اس صوبے کے ہر ضلع میں جابجا نظر آتے ہیں۔

ایسی ہی ایک نایاب عمارت ضلع کوہستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر داسو کے قریب سیو کے مقام پر تاریخی جامع مسجد بھی ہے جو چارسو سال قبل تعمیر کی گئی تھی آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ گذشتہ روزگلگت بلتستان سے اسلام آباد آتے ہوئے رات دس بجے داسو کوہستان پہنچے۔ غذر کی معروف سماجی شخصیت خان اکبرخان نے تاکید کی تھی کہ داسو میں قیام کا پروگرام بنا تو میرے دیرینہ دوست ملک مختیار کے مہمان بنیں۔

ہم پروگرام کے مطابق داسو پہنچنے کے بعد ملک مختیار کے دولت کدے میں وارد ہوئے۔ میزبان خود موجود نہیں تھے ان کے بھائی ملک حبیب اور خاندان کے دیگر افراد نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ یہاں چترال کی ایک قدیم ثقافتی رسم دیکھنے میں آئی۔ جب تک مہمان حجرے میں اپنی مخصوص جگہ پر نہیں بیٹھتے۔ میزبان ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے رہتے ہیں۔ اس رسم کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کوہستان سے چترال تک پورے خطے کی معاشرتی رسومات اور اقدار ایک جیسی تھیں۔میزبان ملک مختیار سے ہماری ملاقات صبح ناشتے کی میز پر ہوئی۔ ان سے کچھ کاروباری معاملات میں گفت گو کی۔ میزبانوں نے بتایا کہ داسو آنے کے بعد یہاں کی تاریخی جامع مسجد دیکھے بغیر جانا بے مقصد سفر ہوگا۔ داسو سے صرف دس منٹ کے فاصلے پر ہمیں دور سے ہی ایک پرشکوہ قدیم طرز کی عمارت نظر آئی۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ سیو کی یہ تاریخی جامع مسجد 1701سے1710کے درمیان تعمیر کی گئی۔

عمارت میں قیمتی لکڑیوں کے دیوہیکل شہتیر استعمال کئے گئے ہیں دروازوں، محرابوں، کھڑکیوں اور چھتوں کو خوبصورت نقش و نگار سے سجایاگیا ہے۔ میزبانوں نے بتایا کہ اس علاقے میں تین اقوام رہتی ہیں مسجد کی تعمیر کے وقت تینوں اقوام میں تعمیراتی کام تقسیم کیا گیا۔ دن رات کی محنت کے بعد یہ مسجد تیار ہوگئی۔ اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا کام بھی تینوں اقوام مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیو جامع مسجد کو جدید ڈیزائن کے مطابق دوبارہ بنانے کی کوششیں کی گئیں مگر علاقے کے لوگوں نے مسجد کو اس کی اصل حالت میں رہنے دیا۔مسجد کے باہر ایک کھلا میدان ہے جسے مقامی لوگ جرگہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ہم بھی وہاں پہنچے تو موقع پر موجود لوگوں نے ہمارا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ مسجد کی زیارت کروائی اور اس کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا۔ ہمارے لئے جرگہ گاہ میں پرتکلف چائے کا بھی اہتمام کیاگیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آج بھی داسو سے گذرنے والے لوگ تاریخی جامع مسجد سیو کو دیکھے بغیر یہاں سے نہیں گذرتے۔انہوں نے تجویز دی کہ اگر محکمہ آثار قدیمہ اس تاریخی مسجد کی دیکھ بھال اپنے ذمہ لے لے تو اس خطے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔


شیئر کریں: