Chitral Times

Apr 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے بھر میں 64 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ تیمور جھگڑا

شیئر کریں:

ریفیوزل کیسز والے علاقوں پر خاص توجہ دی جائی گی، کورونا ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔ وزیر صحت و خزانہ
تمام اضلاع کی انتظامیہ کو پولیو خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا میں رواں ماہ ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران 64 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے جس کے لیے 29 ہزار سے زائد پولیو ٹیموں تشکیل دی گئی ہیں۔ ریفیوزل کیسز والے علاقوں پر خاص توجہ دی جائیں گی جبکہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ پولیو فری خیبرپختونخوا کے لیے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو بھرپور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال پشاور میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر صوبے میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا۔

اس موقع پر سیکریٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز محمد، کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز 29 مارچ سے ہو رہا ہے۔ اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر 64 لاکھ 95 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 29 ہزار 87 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان پولیو ٹیموں میں 25 ہزار 980 موبائل ٹیمیں،1ہزار 909 فکسڈ ٹیمیں،1 ہزار 52 ٹرانزٹ ٹیمیں اور 146 رومنگ ٹیمیں شامل ہیں جبکہ مہم کی موثر نگرانی کے لئے 7 ہزار 133 ایریا انچارجز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ تیمور جھگڑا کا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے محنت کی ضرورت ہے جو ہم سب کو کرنی ہے تب ہی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورا ملک پولیو فری ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انسداد پولیو مہمات میں کمی آئی تھی تاہم اب یہ مکمل بحال ہو چکی ہیں۔

تیمور جھگڑا نے کہا پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے فورم سے اور ذاتی طور پر ان تمام اقدامات کا جائزہ لیتے اور احکامات جاری کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اس مہم میں زیرو ریفیوزل کیسز کا ہدف ہے۔ جنوبی اضلاع اور پشاور کی ان یونین کونسلز پر خاص توجہ دی جائے گی جہاں سے ریفیوزل کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت کا کہنا تھا کہ کورونا وباء کی تیسری لہر کے دوران مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے بڑے ہسپتالوں کی استعداد میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کا کوئی ارادہ نہیں تاہم عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کریں کیونکہ یہ انہی کی صحت اور زندگی کے لیے مفید ہیں۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ تاجر برادری کے ساتھ بات چیت کے بعد ہفتے میں دو دن کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کورونا کیسز میں کمی لائی جاسکے۔

چند اضلاع میں سکولز کو بند رکھنے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں جاری معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکتے تاہم شہری کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کریں جو کہ ہم سب کے مفاد میں ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز کا کہنا تھا کہ پولیو خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بچوں کے مستقبل کو پولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے اس پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔


شیئر کریں: