Chitral Times

Jan 22, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک اور صحافی قتل۔۔۔! …… قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

صحافیوں کے لئے نویں نمبر پر خطرناک ملک قرار دیئے جانے والی مملکت میں ایک اور صحافی کو قتل کردیا گیا۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے نجی اردو اخبار سے وابستہ 31برس کے اجے کمار لالوانی کو سکھر میں ایک دکان کے اندر بیٹھے قتل کیا گیا، پولیس تفتیش کاروں کی ٹیم تشکیل دی جاچکی لیکن تادم تحریر ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی، پاکستا ن صحافت کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، بلخصوص علاقائی اخبارات کے عامل کارکنان کو آزادنہ رپورٹنگ کرنے میں کئی طرح کے دباؤ برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ گو کہ ابھی تک واضح تو نہیں کہ صحافی کوکن وجوہ پر زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے یا پھر ماضی میں ملنے والی دھمکیاں وجہ بنی۔


ماضی پر نظر دوڑائیں تو عیاں ہے کہ پاکستا ن میں صحافیوں کو جرائم کی نشان دہی کرنے اور پیشہ وارانہ خدمات کی سر انجام دہی کے دوران قتل کیا گیا، بعض ملزمان کو پولیس نے گرفتار بھی کیا، لیکن بدقسمتی سے صحافیوں کی زندگی سے کھیلنے والوں ملزمان کو شواہد کی کمزوری (دانستہ یا غیر دانستہ) و ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باعث سزائیں نہیں مل سکی۔ کچھ تو کھلے عام صحافیوں کو چیلنج کرتے نظر آئے،لیکن انہیں قانون کے کہٹرے میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف قرار پاتا ہے۔ بڑے میڈیا ہاؤسز بھی اپنے کارکنان کو وہ تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں جو ان کے لئے شب و روز اپنی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ دید و شنید ہے کہ دھمکیاں ملنے والے اپنی مدد آپ کے تحت ہی خود حفاظتی انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔


علاقائی صحافتی اداروں سے وابستہ افراد کو تو تنخواہیں ہی نہیں ملتی، ان کا گذارا، کسی بھی شخصیت کا بیان یا تصویر لے کر کونے کدرے میں شائع کروا کر اپنے گھر کا راشن لے لینا بڑا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ کہ تمام علاقائی یا بڑے صحافی ایسا نہیں کرتے ہوں گے لیکن میرے مشاہدے میں بیشتر ایسے صحافی ہیں جوجنہیں رزق کی تلاش کے لئے مجبوراََ یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے، ادارے بھی ایک طرح سے مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں وہ وسائل مہیا نہیں کرپاتے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں، طبی سہولیات اور تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کرسکیں۔ اجے کمار لالوانی بھی کچھ ایسی ہی مجبوریوں کا شکار ہوئے ہوں گے۔


بدقسمتی سے راقم نے اپنی کئی دہائیوں کے دور میں صحافیوں کا ایسا کردار بھی دیکھا ہے کہ شرم سے نگاہ جھک جاتی ہے،بڑھتی مہنگائی و عدم برداشت نے صحافیوں کی زندگیوں کو اجیرن کردیا ہے۔اجے کمار لالوانی  کی تفتیش کا حال  سب جانتے ہیں۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صرف چھ برسوں 2013سے2019تک33صحافیوں کو قتل کردیا، لیکن کسی ایک کو بھی سزا نہیں ملی، کچھ ملزمان ابھی تک گرفتار بھی نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ پرتشدد کاروائیوں کا سب سے بڑا نشانہ پرنٹ میڈیا کے صحافی بنتے ہیں۔ ان کے لئے آزادنہ رپورٹنگ میں غیر جانبدارنہ کردار ادا کرنا نا ممکن بنا دیا جاتا ہے۔


کئی ٹیسٹ کیسوں میں ولی خان بابر قتل کیس میں گرفتار ملزمان حیرت انگیز طور پر تمام الزامات سے بری ہوگئے،  انصافمنہ دیکھتا رہ گیا کہ کیا یہ واقعی بے قصور تھے یا پھر پولیس کی ناقص تفتیش قصور وار ہے،مقتول صحافی اجے کمار لالوانی جیسے ان گنت صحافی ہیں جنہیں  بیشتر نہیں جانتے، لیکن وہ اخبارات کا پیٹ بھرنے کے لئے خطرات سے گذرتے ہیں، انہیں حکومتی سطح پر تحفظ و اداروں کی جانب سے نظر انداز کئے جاناا اہم عوامل ہیں۔ اجے کمار لالوانی کے قتل کے محرکات کو جلد سامنے لایا جائے، تفتیشی اداروں کو سست روئی سے گریز کرتے ہوئے حقیقت کو سامنے لانے میں تاخیر سے گریز کرنا چاہیے،اس سے شواہد کمزور ہوجاتے ہیں اور ملزمان کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے، جب تک ملزمان کو بلا امتیاز باعث عبرت نہیں بنایا جائے گا، نیز صحافیوں کو تحفظ و سوشل سیکورٹی نہیں دی جائے گی، ریاست کے اس اہم ستون کو گرانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ جو ملک وقوم کے حق میں بہتر نہیں۔


شیئر کریں: