Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نہر اتہک کی تعمیر کیلئے ہنگا می بنیا دو ں پر اقدا ما ت کی اشد ضر ورت ہے..میر ایوب

شیئر کریں:

ابپا شی وابنو شی کا یہ عظیم منصو بہ علا قے کے لو گو ں کیلئے مو ت، زیست کی حیثیت رکھتا ہے۔


با ک مشا ورتی فرم (BAK Consultant)نے نہر اتہک کے Re-alignment کا کا م مکمل کر کے اپنا تفصیلی عملی رپورٹ(Feasibility Report) 2015 میں صو با ئی حکو مت اور متعلقہ محکمے کو حوا لہ کر چکی ہے جس میں اس نے اس کو قا بل عمل قرا ر دید یا ہے۔
اشین تر قیا تی بنک (ADB) کے Consultant نے بھی مذکو رہ Re-Alignment پرو گرا م کا تفصیلی جا ئزہ لینے کے بعد اس عظیم منصو بے کو قا بل عمل قرا ر دیتے ہو ئے اپر یل 2019 میں تفصیلی رپو رٹ صو با ئی حکو مت اور متعلقہ محکمے کو دے چکی ہے اور سا تھ اس منصو بے کی فنڈ ینگ کیلئے بھی حا می بھر ی ہے۔


پا نی قد رت کا انمو ل تحفہ ہے اس کی قدروقیمت اور اہمیت وہی لو گ جا نتے ہیں جہا ں قدر ت کا یہ عظیم تحفہ ضر ورت کے مطا بق میسر نہیں۔تحصیل مو ڑ کہو کے بیشتر علا قے بھی ان علا قو ں میں شما ر ہو تے ہیں جہا ں قدر ت کے اس انمو ل تحفے کی دستیا ب نہ ہو نے کے برا بر ہے۔پا نی کی اس نا یا بی سے زند گی اجیر ن بن جا نے کی وجہ سے تحصیل مو ڑکہو کی کا فی آبا دی نقل مکا نی کر کے چترال اور پا کستا ن کے دو سرے علا قو ں میں عا رضی سکو نت اختیا ر کر چکی ہے۔ اور اس امید اور تو قع کے سا تھ زند گی گزار رہے ہیں جو نہی مو ڑ کہوہ کے اس بنجر زر خیز ارا ضی کو پا نی میسر آئے گا تو وہ ضر ور اپنی جنم بو می کو لو ٹیں گے۔


یہ نہر ابپا شی و بنو شی کا عظیم میگا منصو بہ ہے یہ تحصیل مو ڑ کے عوا م کیلئے مو ت زیست کی حیثیت رکھتی ہے علا قے کے لو گو ں کے معا شی، سما جی اور معا شر تی خو شحا لی کا دار و مدا ر اس نہر کی جا مع اند از مین تعمیر سے وا بستہ ہے۔ اور یو ں یہ نہر علا قے کے عو ام کی تر قی اور خوشحا لی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تحصیل مو ڑ کہو کے عیو ر عوا م پاکستا ن کے معر ض وجو د میں آنے سے پہلے بھی اپنی مد د آپ کے تحت اس ذرخیز بنجر ارا ضی کو پا نی دینے کیلئے مختلف جتن کر ے آئے ہیں۔ مگر دشور گزار اور پہا ڑی علا قہ ہو نے اور وسا ئل کی کمی کی وجہ سے ان کو اپنی تگ و دو میں کو ئی خا ص کا میا بی نہ ہوسکی مگر پھر بھی وہ امید کا دا من ہا تھ سے نہ جا نے دیا اور مسلسل جدہ جہد کر تے رہے اور بلا اخر ان کی جدو جہد اور نہ ختم ہو نے و الی مطا لبے کی وجہ سے صو با ئی حکو مت نے پشا ور ایر ی گیشن محکمہ کو ہدا یت کی کہ متعلقین کو ایک نہر کے ذریعے پا نی کی فرا ہمی کا بند و بست کیا جا ئے۔ PID نے اس مقصد کے حصول کیلئے ایک مشا ورتی فرم، ایم ایم پا کستان لمیٹیڈ لا ہو ر کو مو ڑکہو کی ابیا ری کیلئے ایک مو زو ں اور قا بل عمل نہر کی تجو یز کیلئے عملی پر وگرا م Feasibility Study تیا ر کر نے کی ذمہ د ری سو نپی۔ مذکو رہ Consultant نے 1993-1994 میں اپنے تفصیلی رپو رٹ میں تر یچن تا اتہک ایر یگیشن چینل کی تجو یز دی۔ اس کی Off take point (ہو دور) 13934 فٹ کی بلند ی پر رکھتے ہو ئے اس نہر کی کنجا ئش 120 کیو سک رکھا۔

اور اس سے 2000فٹ لمبی ٹنل میں سے گزر کر موڑ کہو ہ کے بنجر ارا ضی کوسیرا ب کر نے کی نو ید سنا ئی۔ اس نہر ی منصو بے کے پا نی کی منبع ملن بیسو ن گلیشر تھا۔ جس کا پا نی اتہک گو ل ہیں گر تا ہے اور یو ں مذکو رہ Consultant کی عمل پر وگرا م کی روشنی میں اس کا Original PC1, 132.32ملین روپے کی تخمینہ لا گت سے 6-6-2001 کو تیا ر کیا گیا۔ اس منصو بے کی Excuasion کیلئے چا ر مر تبہ یکہ بعد دیگر ے ٹنڈر طلب کئے گئے مگر ہر مر تبہ کنٹر یکٹر وں کی طر ف سے ریٹ زیا دہ آنے کیوجہ سے اس منصو بے پر عملدرا مد اور ممکن نہ ہو سکا۔ جب پا نچویں مر تبہ 24 ما رچ 2004 کو ٹنڈر طلب کئے گئے تو جس کنٹر یکٹر نے سب سے کم ریٹ پیش کی وہ 1994 کے شیڈول ریٹ میں 48% اضا فے کا مطا لبہ تھا یہ غا لبا ً اسلئے کیا گیا کہ یہ اسکیم کا فی اونچا ئی پر وا قع تھا۔ اس اضا فی ریٹ کی منظو ری پی ائی ڈی کے اس وقت کے مر وجہ قا نو ن کے تحت ان کے اختیا ر میں نہ تھا۔ بنا برا ن یہ اسکیم پھر سے التو ا کا شکا ر ہو گیا۔


تحصل مو ڑکہو کے غیور عو ام بلا آخر تنگ اکر اس منصو بے پر عمل درا ٓمد کیلئے 15-05-2004 میں مخلو ط بھو ک ہڑ تا ل (Co-Hunger Strike) بمقا م مژگو ل پل شر و ع کئے۔ اس مخلو ط بھو ک ہڑ تا ل کی وجہ سے مذکو رہ شیڈ ول ریٹ مین 48 فیصد اضا فے کی منظور ی صو با ئی وزیر اعلیٰ نے 28-6-2004 کو دے دیا۔ اس منظور ی کے بعد اس وقت کے وفا قی وصو با ئی منتخب نما ئند ے مو لا نا عبد الا کبر چترال، مو لا نا محمد جہا نگیر خا ن (مر حو م) ہڑ تا لی کیمپ تشر یف لا کر چینل پر جلد از جلد کا م کی شر وعا ت کا نو ید سنا کر 55 دنو ں سے جا ری محلو ط بھو ک ہڑ تا ل میں بیٹھے ہو ئے خوا تین وحضرا ت کو مٹھا ئی کھلا کر 04-07-2004 کو ہڑ تا ل ختم کر وا ئیں۔


ستمبر 2004 کو پی ائی ڈی کے ما ہر ین نہر کے سا ئٹ کا دوبا رہ جا ئرہ لینے کے بعد Original PC 1 کو مذکو رہ منظور شد ہ اضا فی ریٹ کی روشی میں Revise کر کے 250 ملین کا کر دیا۔ اور اس کی منظوری 04-12-2004 کو دے دیا گیا اس کو ٹنڈر سے گزار کر چینل پر کا م شرو ع کر وا نے کے بعد صو با ئی حکو مت نے وفا قی حکو مت کو اس نہر پر اٹھنے وا لی اخرا جا ت بر دا شت کر نے کی در خواست کی جس پر وفا قی حکو مت نے تخمینہ لا گت کو دوبا رہ بنا کر منظو ری کیلئے پیش کر نے کو کہا جس پر صو با ئی حکو مت نے تحمینہ لا گت کو 429 ملین روپے کر کے وفا قی حکو مت کو منظو ری کیلئے بھیج دی اور اس کی منظو ری CDWP سے 21 دسمبر2006 کو حا صل کیا گیا۔


وفا قی حکو مت کی طر ف ے 429 ملین روپے کی منظور ی کے بعد صو با ئی حکو مت نے اسکیم پر کا م جا ری رکھتے ہو ئے 2007 میں ایک مشا ورتی فر م MR. Consultant Islamabad آسلا م آبا د کو مقر ر کر تے ہو ئے مئی 2007 میں کنٹر یکٹ پر دستخط کئے۔ وفا قی حکو مت کے Monitors کے رپو رٹ پر بسلسلہ انکو ا ئری اسکیم پر کا م کو بند کر دیا گیا۔ اس انکو ئر ی میں Over Payment کے علا وہ اہم ایشو پر اجکٹ کے مستقبل سے متعلق تھا کہ یہ منصو بہ مو جو دہ Alignment یعنی 13934 فٹ کی بلند ی پر قا بل عمل بھی ہے یا نہیں۔اس انکر ائر ی کے نتیجے میں ایر ی گیشن محکمہ کے کچھ اسٹا ف معطل بھی کئے گئے۔
محکمہ ائیر گیشن پشا ور کی ہد ایت پر مذکو رہ Consultant نے Feasibility Study کو Review کیا اور مشور ہ دیا کہ یہ اہم میگا پرا جکٹ مو جو دہ Alighnment میں قا بل عمل نہیں ہے۔ اس Alignment کو نیچے لا نے کی ضر ورت ہے۔

Consultant کے اس مشو رے کے بعد چیف انجئینر محکمہ ایری گیشن پشا ور نے 12 اگست 2011 کو ایک با اختیا ر کمیٹی کی سر بر اہی کر تے ہو ئے چینل کے سا ئٹ کے تفصیلی جا ئزہ لینے کے بعد اسے مزید عوا م دو ست بنا نے کیلئے اس کے Re-Alignment کا فیصلہ کر لیا۔ اور اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 7کروڑروپے بھی مختص کردی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چترال ایری گیشن دویژن چترال نے 30جنوری 2013کو بسلسلہ تقرر مشاورتی کنسلٹنس برائے کام بعنوان متبادل الائنمنٹ پر تعمیر کی فیزیبیلٹی رپورٹ /تعمیر پروپوزل کے لئے طلبی نوٹس کے بعد باک(BAK)مشاورتی کنسلٹنس کا تقرر عمل میں لایا۔

Constultantباک (BAK)نے متبادل الائنمنٹ کی فیزیبلیٹی رپورٹ مکمل کر کے 2015کو صوبائی حکومت اور محکمہ ایریگیشن کو حوالہ کر چکا ہے۔اس عملی پروگرام میں In Let Point(ہو دور)کو 13934فٹ سے کم کر کے 9500فٹ کی بلندی پر لایا گیا ہے اور149کیوسک پانی کو 5کلو میٹر لمبی ٹنل سے گزارکر لوگوں کے آبپاشی اور ابنوشی کی ضروریات کو پورا کرنے کی تجویز ہے اور اس پانی کو سائفین کے ذریعے قاقلشٹ بنجر اراضی کو بھی سیراب کیا جائے گا۔یہ تقریبا 75000کنال پر مشتمل لق دق بیابان ہے۔اس Feasibility میں یہ نوید بھی سنائی گئی ہے کہ Phase1اور Phase2میں 8.6اور9.7میگاواٹ بجلی بالترتیب پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔Consultantنے اس کا تخمینہ لاگت 5ارب 30کروڑ روپے لگایا ہے حکومت نے اس پراجیکٹ کو فنڈنگ کی عرض ایشین ترقیاتی بینک سے رابط کرنے پر اس کی فنڈنگ کے لئے حامی بھرتے ہوئے ADBنے اپنے طور پر مذکورہ فیزیبیلٹی کی روشنی میں اس کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کی غرض سے اپنا Consultantپراجیکٹ ایریا میں بھیجا۔Consultants نے اس اسکیم کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا اور اس کی کئی ٹیمیں نہر اور ٹنل کے ایریے کا جائزہ لینے کے علاوہ پراجیکٹ ایریے میں مستفیدین سے بھی مختلف شعبوں سے متعلق معلومات کے لئے میٹنگز کیں۔


مستفیدیں پراجیکٹ کی طرف سے Consultantاور ان کی ٹیم کو مختلف دیہات (سماگول،سہت،وریجون،اتھول،موردیراور کوشٹ)میں بھی بریفنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں تحصیل ناظم،یوسی ناظمین،ممبران ایکشن کمیٹی اورعلماء اکرام کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ہر بریفنگ میں علاقے کے لئے اس اسکیم کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی گئی اور ہر تفصیلی بریفنگ کے بعد Consultantاور ان کی ٹیم کے ممبروں نے چند زمین داروں سے پراجیکٹ ایریے میں پیدا ہونے والی مختلف فصلوں اور میوہ جات وغیرہ کے بارے میں مختلف سوالات بھی کئے اور ان کی پیداوری صلاحیت اور ان پر اٹھنے والی اخراجات وغیرہ کے بارے میں سوالات کئے

اور یوں ایشین ترقیاتی بینک کی کئی ٹیمیں مختلف مواقع پر اس عظیم میگا اسکیم کے سائٹ اور Area Catchement کا مختلف زاویے سے جائزہ لینے کے لئے تحصیل موڑکہو آئیں اور یوں بالآخر غالبا اپریل 2019میں اپنا تفصیلی رپورٹADBکے مجاز اتھارٹی کو پیش کر دئے اس عملی پروگرام میں اس نہر کو قابل عمل قرار دے دیا گیا ہے اور اس پراجیکٹ کی فنڈنگ کے لئے بھی حامی بھرتے ہوئے صوبائی حکومت کو بھی اگاہ کیا ہے۔

1973 کے آئین کے د یبا چہ (Preamble)میں ہی عوام کے جن بنیادی حقوق کے پاسداری کی ضمانت دی گئی ہے ہمارا مطالبہ بھی اسی زمرے میں آتاہے۔لہذا ہم مستفیدین پراجیکٹ مذکورہ حالات و واقعات کی روشنی میں وزیر اعظم پاکستان،صدر مملکت پاکستان،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ،وزیر ابپاشی،چیف سیکرٹری،سیکر ٹری پلاننگ اینڈ دویلپمنٹ،سیکرٹری ایر ی گیشن اور چیف انجینئر نارتھ سے پرزور مطالبہ اور اپیل کرتے ہیں کہ 1973کے آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کے ضمانت کی پاسداری کر تے ہوئے تحصیل موڑکہو ہ اپر چترال کے عوام کا دیرینہ بنیادی مسئلہ فوری طور پر حل فرمائیں اور 2021-22کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس عظیم میگا پراجیکٹ کو ہر صورت میں شامل کریں۔

خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو!


میر ایوب
چیرمین و
ممبران ایکشن کمیٹی برائے تعمیر تریچین تا اتہک
ایری گیشن چینل موڑکہو اپر چترال


شیئر کریں: