Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیاکی خوش باش اقوام …… محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


اقوام متحدہ نے زیادہ خوش رہنے والے ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے رپورٹ کے مطابق خوش رہنے کے شعبے میں پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں فن لینڈ کو دنیا کا سب سے خوش باش ملک قرار دیا گیا ہے،دوسرے نمبر پر آئس لینڈ اور تیسرے پر ڈنمارک موجود ہے۔خوش و خرم ممالک کی فہرست میں سوئٹرز لینڈ کی چوتھی اور نیدرلینڈزکی پانچویں پوزیشن ہے۔ امریکہ اٹھارویں نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ میں گیلپ ڈیٹا کا استعمال کیا گیاہے جس میں 149 ممالک کے لوگوں کو اپنی خوشی کا درجہ دینے کے لئے کہا گیا تھا۔اس فہرست میں ہندوستان 139 ویں پوزیشن پر موجود ہے صرف برونڈی، یمن، تنزانیہ، ہیٹی، مالاوی، لیسوتھو، بوٹسوانا، روانڈا، زمبابوے اور افغانستان کو ہندوستان سے زیادہ ناخوشگوار قرار دیا گیا۔بھارت کے ہمسائیہ ممالک میں پاکستان دنیا کا 105

واں خوش ترین ملک ہے، جبکہ چین 84 ویں، نیپال 87، بنگلہ دیش 101، میانمار 126 اور سری لنکا 129 ویں نمبر پر موجود ہے۔ 2019 میں پاکستان 67 جبکہ بھارت 144 ویں نمبر پر موجود تھا۔رپورٹ کے مطابق پہلے دس خوش باش ملکوں میں سے ابتدائی 9نمبروں پر یورپی ممالک براجماں ہیں اس سروے میں افغانستان آخری پوزیشن پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وباء کی وجہ سے پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی انتہائی سخت جان واقع ہوئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری،غربت اور جان کی امان نہ پانے کے باوجود اگر یہ قوم خوش رہتی ہے تو دنیا کا کوئی بھی دکھ انہیں رنجیدہ نہیں کرسکتا۔پاکستانی قوم پر وہ مصرعہ بالکل صادق آتا ہے کہ ”رنج کا خوگر ہوا انسان، تو مٹ جاتے ہیں غم۔ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں“ہم بھی رنج و غم کے عادی ہوچکے ہیں۔ گذشتہ ایک سالوں میں ہماری پوزیشن 67سے 105ہونے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہماری خوشیوں کی شرح میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔

تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ اب بھی پاکستان کے لوگ بھارتیوں کے مقابلے میں زیادہ خوش ہیں۔سروے کرنے والوں نے لوگوں کی خوشی ماپنے کا کیا پیمانہ استعمال کیا تھا اور وہ پیمانہ کس حد تک قابل اعتبار ہے۔ اس پر سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ ہمارے اردگرد بہت سے لوگ بظاہر خوش نظر آرہے ہوتے ہیں مگر اندر سے وہ بہت دکھی ہوتے ہیں۔ ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ حالت دل کی ترجمان نہیں ہوتی۔ اور جو لوگ دکھی ہوتے ہیں وہ اپنا غم کسی کو کیوں بتائیں بیشک غموں کے اظہار سے دل کا غبار ہلکا ہوتا ہوگا۔ مگر اکثردکھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے سامنے غموں کی پوٹلی کھولنے سے ان کے دکھ تو کم نہیں ہوں گے لیکن لوگوں کے سامنے وہ تماشہ ضرور بنیں گے۔ کیونکہ دنیا والے ہنسنے والوں کے ساتھ تو خوب ہنستے ہیں مگر رونے والوں کے ساتھ آنسو بہانے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس خوشیاں منانے کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔

ہم لوڈ شیڈنگ کے بعد بجلی آنے سے بتیاں جلنے کی بھی خوشی مناتے ہیں خصوصاً گرمیوں کے موسم میں بجلی آناکسی نعمت سے کم نہیں۔ٹریفک جام کے بعد سڑکیں کھلنے کا بھی جشن مناتے ہیں۔ بارش ہوجائے تب بھی اچھلتے کودتے ہیں۔ بارش کے بعد دھوپ نکل آئے تب بھی خوشیاں مناتے ہیں۔مگر یہ سب پانی کے بلبلوں کی طرح عارضی خوشیاں ہوتی ہیں۔ سروے کرنے والوں کو کیا پتہ، کہ ایک مسکراہٹ کے لئے ہمیں آنسوؤں کے کتنے گھونٹ پینے پڑتے ہیں۔بہرحال عالمی ادارے کی رپورٹ سے ہماری نہ صرف عزت رہ گئی بلکہ ہمیں بھارت پر دھونس جمانے کا بھی موقع مل گیا۔ افغانستان والے سب سے زیادہ ناخوش ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ یہ سب ان کا اپنا کیادھرا ہے۔ ہم نے انہیں چالیس سالوں تک اپنے گھر میں پناہ دی۔ جب وہ جانے لگے تو ہمارے دشمنوں کے ہم نوا بن گئے۔ ایسے لوگ دنیا میں کہاں خوش رہ سکتے ہیں۔بزرگوں کا یہی کہنا ہے کسی کا احسان بھلا دینا بری بات ہے اس سے انسان کی خوشیاں چھن جاتی ہیں۔یہ بات ہمیں افغانستان کے تناظر میں بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔


شیئر کریں: