Chitral Times

Jan 22, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نا اُمیدی سے اُمید کا سفر……تحریر: حسین احمد سابق ڈی۔سی۔او

شیئر کریں:


اَمن کی وادی چترال صوبہ خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ضلع اور قدرتی وسائل سے لبریز علاقہ ہونے کے باوجود پسماندہ ہے، چترال (اَپر، لوئر) اپنی قُدرتی حُسن، اَمن پسندی، دُنیا کی واحد عجیب و غریب کلاش کلچر، دُنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں سالانہ کھیلے جانے والے پولو میچ، گرم چشمہ کا ہاٹ واٹر اور تریچمیر کی بلندو بالا چوٹی کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر چترال کا مُثبت تعارف ہو چُکا ہے اَلبتہ وادی کے مکینوں کامعاشی حُسن کافی حدتک کمزور ہے،تاہم دیر چترال رُوٹ کو دوبارہ سی پیک میں شامل کرنے، سی پیک اکنامِک زون اور چترال ڈویولپمنٹ اَتھارٹی کے قیام کے نتیجے لوئر اور اَپرچترال دونوں اَضلاع کی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی اُمید پیدا ہوئی ہے،چترال کے مفاد اورترقی کے اِن اعلانات کوعلاقے کے عوام شاندار الفاظ میں خیر مقدم کرتے ہیں، سی پیک رُوٹ کی تعمیر سے نہ صرف افعانستان کیساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ چترال کے
راستے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کے نتیجے کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اِضافہ ہوگا۔


چترال کے پہاڑ جو وادی کے کل رقبے کا ۶۷ فیصد ہیں ہر قسم کے معدنیات اور جڑی بوٹیوں مثلاََ گولڈ، آئرن، کاپر، زِنک، انٹی منی، لیڈ،اَرسینک، ریلگار، ہیماٹائٹ، میگناٹائٹ، ٹنگسٹن،مولبڈ ینائٹ، سوپ سٹون، ماربل وغیرہ کے علاوہ بیسوں سیمی پرِشیئس مِنرلز،جنگلات،میڈیسنل پلانٹس، سلاجیت وغیرہ خام مال کے لبریز خزانہ ہیں جِن سے ابھی تک خاطر خواہ اِستفادہ نہ ہونے کے برابر ہے،چاہئے تھا کہ اِن قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ کی راہ اختیار کرکے ترقی کی منزل حاصل کی جاتی جِس سے وادی
میں غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ میں یقیناََ مدد ملتی لیکن اِن قدرتی وسائل سے ابھی تک خاطر خواہ فائدہ نہ اُٹھایا جا سکا، یوں یہ قدرتی خزا نے وادی چترال کی تقدیر بدلنے میں ناکام چلے آرہے ہیں۔


چترال میں سی پیک اکنامِک زون کے قیام کا فیصلہ قابل تعریف ہے، اکنامک زون کے قیام کے لئے مناسب سائٹ کا ملنا مُشکل لگتا ہے کیونکہ وادی چترال پہاڑی ہے جہاں پلین اور زرعی زمینات علاقے کے کُل رقبے کا ۴ فیصد ہیں، ایک طرف آبادی روز اَفزون بڑھ رہی ہے دوسری طرف حکومت زرعی زمینات پر تعمیرات کی حوصلہ شکنی بھی کر رہی ہے، جہان تک پہلے سے موجود چترال ٹاؤن سے تقریباََ چودہ پندرہ کلو میٹر دُور چھوٹی موٹی صنعتی بستی جُوٹی لشٹ کا تعلق ہے اُس کا رقبہ اکنامک زون کے قیام کے لئے ناکافی ہے، اِن حالات میں اکنامِک زون کے قیام کے لئے واحد اور موزون ترین سائٹ قاقلشٹ کا غیر آباد میدان ہی ہو سکتا ہے چَرا کہ قاقلشٹ کا رقبہ کم و بیش آٹھ ہزار ہیکٹر یعنی چترال کی مجموعی زرعی زمینات جوکہ کم و بیش ۳۲ ہزار ہیکٹر ہیں کا ۳/۱ ہے جِس کے لئے پانی کی فراہمی کے کئی سورسِزموجود ہیں، پانی کا مسئلہ اکنامِک زون کے لئے زمین خریدنے کا مجوزہ مختص فنڈ فراہمی آب کے مَد میں کَنورٹ کرنے سے حل ہوگا، قاقلشٹ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ میدان زمینی و سماوی آفات مثلاََ دریا ئی کٹاؤ، ٹُوٹ پھوٹ،اُوپر سے پتھر سَرکنے، برساتی سیلاب،گلیشر گِرنے وغیرہ سے بھی محفوظ سرکاری پراپرٹی ہے جِس پر بلا معاوضہ نہ صرف شاندار صنعتی بستی آباد کی جاسکتی ہے بلکہ مستوج، تورکہو اور مُلکہوکے سب ڈویژنوں کے سنگھم میں واقع ہونے کی بِنا ضلع اَپر چترال کا ضلعی ہیڈکوارٹر،چھاؤنی، اَپر چترال یونیورسٹی، ہسپتال، تعلیمی و تحقیقی اداروں، پولو گراونڈ، سٹیڈیم اور ائر پورٹ وغیرہ کے قیام کے لئے بھی مثالی لوکیشن ہے، یہ بھی خوشی کا مقام ہے کہ چترال ڈیو یلپمنٹ اَتھارٹی ((CDAکی منظوری بھی آ ل ریڈی ہو چُکی ہے جِس سے چترالی عوام کی اُمیدیں وابسطہ ہیں کہ یہ اِدارہ قاقلشٹ کی آباد کاری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریگا کیونکہ اِس وسیع و عریض بیابان کے آباد ہونے کی صورت میں نہ صرف ایک بہت بڑا شہر آباد ہوگابلکہ زرعی پیداواراور جلانے کی لکڑی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگااور ساتھ اَپر چترال کی آبادی کا لوئر چترال کی طرف منتقلی کا رجحان بھی رُک جائے گا، اِسی طرح پہلے سے
موجود زَرعی زمینوں پر تعمیرات کی رفتاربھی کم ہوگی، نیز قاقلشٹ ٹاؤن شِپ کے قیام سے نئی قائم شدہ چترال ڈیویلپمنٹ اَتھارٹی بھی ذرائع آمدن میں خود کفیل ہوجائیگی۔


صوبائی حکومت،لوئر اور اَپر چترال کی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا اَکنامِک زونز ڈیو یلپمنٹ اینڈمینجمنٹ کمپنی کے اَرباب اِختیار کو اکنامِک زون کے قیام کی منصوبہ بندی ریموٹ کنٹرول کی بجائے لوکل وِزڈم کو سامنے رکھ کر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مفاد کایہ اہم منصوبہ کسی بھی سٹیج پر ناکام یا مشکلات سے دوچار نہ ہو،ممکنہ خطرات سے بچنے کی خاطر علا قے کے معززیں اور برین پاورزسے نِشست اور گُفت و شُنید کرکے اُن کے لوکل وِزڈم سے فائدہ اُٹھانے میں ہی مفاد ہے ورنہ نتیجہ کورین کمپنی سامبو جیسا نکلے گا جِس نے لواری ٹنل اور اُس سے مُنسلک روڈ کی تعمیر کے دِنوں لوکل وِزڈم کے علی الرغم ایسی جگہ کیمپ لگایا جو بعد میں سیلاب کی زد میں آنے کے نتیجے ایک انجینئرسمیت بلڈوزر، قیمتی تعمیراتی اور کارکنوں کے ذاتی سامان دریا بُرد ہوئے۔


جہاں تک چترال میں بچے کِھچے مختصر زرعی اَراضی پر نَوابی ذہنیت کے قِلعہ نُما رَہائشی مکانات اور دَفترات بنانے کا تعلق ہے اُس کی حوصلہ شِکنی کرنے کے ساتھ رہائشی اور دفتری تعمیرات حتی الامکان پہاڑوں کے سِلوپ میں بنانے کے سلسلے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقے میں زرعی پیداوار کی قلّت کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اَلبتہ یہ کام حکومتی مُداخلت کے بغیر ممکن نہیں جِسے دوسرے اِداروں کے ساتھ ساتھ حالیہ منظور شُدہ چترال ڈیویلپمنٹ اَتھارٹی عملاََ قائم ہونے کے بعد بخوبی انجام دے سکتی ہے،یاد رہے
زرعی اَراضی کو بچانے کا آئیڈیا سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بھی اپنے دورۂ چترال کے موقعہ پر عوام سے خطاب کے دوران دیا تھا، اُن کاکہنا تھا ” دفترات اورہائشی مکانات پہاڑوں کے سِلو پ پر بناؤ، پہاڑوں میں محصور چترال کی چھوٹی موٹی زرعی زمینوں پر بناؤگے تو کھاؤگے کیا”۔


سیاحت کا فروغ بھی چترال کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ دُنیا کی واحد عجیب و غریب کلاش کلچر، دُنیا کا بُلند ترین پولو گراونڈ شندور (۵۲۳۲۱ فُٹ) میں سالانہ کھیلے جانے والا میچ اور وادی لٹکوہ کے گرم چشمہ کے علاقے میں جِلدی اَمراض کے علاج کا ہا ٹ واٹر مُلکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے میں مثبت کردار ادا کرتے آئے ہیں لیکن سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے روڈ انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کے انتظام کوبہتر بنانے کے ساتھ سیاحوں کی سہولیات مثلاََ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی معقولیت، بجلی اور ایندھن کی یقینی فراہمی، مارکیٹ میں اشیاء ضرورت کی نرخوں پر کڑی نگرانی، رہائش کے انتظانات میں معیار کے لحاظ سے چارجز کو ایک قاعدے میں لانااور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگاتا کہ سیاحوں کو پریشان کن حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے، گذشتہ روز اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ایک امریکن کمپنی پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے میں دلچسپی لے رہی ہے،اگر ایسا ہو ا تو انشاء اللّد تعالےٰ چترال بھی تیزی سے ترقی کی راہ پرگامزن ہوگا۔


آج دنیا ترقی کے جو منازل طے کررہی ہے وہ سائنسی علوم میں ترقی، ٹائر،باروداور بجلی کی ایجاد اور سڑکوں کا جال بچھانے کی مرہون مِنت ہے، سویڈ ن کے سائنسدان الفرڈ نوبل کو نوبل انعام اِس لئے دیا گیا کہ اُ س نے ڈینا میٹ (بارود) ایجاد کیا جِس کے نتیجے برطانیہ، فرانس، جرمنی، سوئزر لینڈ، وغیرہ ممالک کے درمیان حائل پہاڑیں کاٹ کر سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور یوں ترقی کی راہ کھل گئی، یاد رہے عراق اور شام دُنیا کے قدیم ترین شہر ہیں، جِس زمانے میں یورپ کے لوگ غاروں میں رہتے تھے اُس وقت بابل ایک ترقی یافتہ اور خوبصورت شہر تھا۔مگر مغرب والے جاگ گئے اور اپنے وجود میں علمیت، اہلیت، صلاحیت اور قابلیت پیدا کرکے دُنیا پر چھا گئے اور آسمانوں کی بلندیوں کو تسخیر کی، لیکن اَفسوس کہ جاگے ہوئے زیرک اور فطین سو گئے یا حسب و نسب کے دھندوں میں کھو گئے، اب صورت حال یہ ہے کہ تسبیح اور جائے نماز بھی چائنہ ہمیں بھیجتا ہے،

ٹی وی پر ایک اینکر نے مہمان سے مغرب کی ترقی کی دجہ پوچھی،جواب میں کہا یورپ والوں نے علم حاصل کرکے اہلیت، قابلیت اور صلاحیت میں ترقی اور عزت تلاش کی جبکہ ایشاء کے اکثرممالک اور عرب والے سارے حقیقت پسندانہ جِد و جَہد کی بجائے حسب و نسب کی فرضی ڈفلی بجاتے ہوئے پرانی قبروں میں عزت اور بڑائی تاہنوز ڈھونڈ رہے ہیں، ایسی مُنجمد اوروقیانوسی ذہنیت والوں پر قانونِ فطرت بھی خندہ زن ہے کہ یہ ذہنی مریض کھبی بھی ترقی نہیں کرسکتے، اِس مقام پر غور و فکر کی بات یہ ہے کہ کسی علاقے یا مُلک کی ترقی اُس کے عوام کے سوچ میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکہ نسل پرستی کا گڑھ تھا لیکن تعلیم نے امریکیوں کا سوچ مکمل طور بدل دیا، ایک وقت ایسا بھی تھا کہ امریکی کلبوں میں کُتا ساتھ اندر لانے کی اجازت مگر سیاہ فام کے داخلے پر پابندی تھی، مگر اکیسویں صدی کے امریکیوں نے ایک سیاہ فام بارک اُوبامہ کو ایک بار نہیں بلکہ دو باریعنی مُسلسل آٹھ سال سُپرپاور امریکہ کا صدر چُناجس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ترقی علمیت، اہلیت و قابلیت اور صلاحیت میں ہے نہ کہ حسب و نسب میں اور باپ دادا کی بڑائی میں۔بے پَر کے اُڑنے کے شوقین خواہ وہ نوابزادے ہی کیوں نہ ہوں ِ ایساگِرتے ہیں کہ سِوائے پیشمانی کے اُن کے مُقدر میں کچھ نہیں رہتا، خاندان کے یہ فاتر العقل بغیر بارآوری کے اپنی فرضی بڑائی، رُعب جمانے اور خرگوش کی طرح اپنی نسل بڑھانے کے شوق سے باہر نہیں نکلتے، ایسے بے پَرکے اُڑنے والے نو جوانوں کی مُناسبت سے ایک دلچسپ قصہ بھی مشہور ہے اور وہ یوں۔۔حامد اور محمود
ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ حامد ایک دفتر میں ایکسن جبکہ محمود اس کا چپڑاسی تھا۔ حامد ایکسن کا بیٹا اکبر بیکار، نالائق اور نکما نکلا مگر محمود چپڑاسی کا بیٹا فیض محنتی اورلائق۔


فیض سی۔ایس۔ایس پاس کر کے اسسٹنٹ کمشنر بناجبکہ ایکسن کا نا لائق بیٹااکبر اُس کا چپراسی لگا۔ ایک دن محلے میں اسسٹنٹ کمشنر فیض اور اُس کے چپڑاسی اکبر کے درمیان ہمسائیگی کامعمولی جھگڑاگالی گلوچ اور طعنوں کے تبادلے کی حد تک پہنچا۔ اکبر چپڑاسی نے اسسٹنٹ کمشنر سے کہا اَرے فیض!خود را بشُناس، تم اگر چیف کمشنر بھی بنوگے نا، میری نظر میں تُم وہی محمود چپڑاسی کا بیٹا ہی ہو، آ پ خود ایمانداری سے بتائیں کہ اکبر چپڑاسی کے اِس طعنہ میں ذرا برابر بھی وزن یا حقیقت کا دخل ہے، اِس قصے کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو نا لائق ہوکر فرضی بڑائی کی ڈفلی بجاکر جھوٹی تسلّی حاصل کرکے اپنی ناکامی اور بحرانی زندگی پر پردہ ڈالنا اور دوسروں پر مصنوعی رُعب جمانا حماقت کے سِوا اور کیا ہے جبکہ کامیابی کا زینہ صرف اور صرف محنت ہے، در اصل بات یہ ہے کہ بعض لوگ جیتتے ہیں بڑی شان سے مگر اُن کے پیچھے خاندانی شان و شوکت نہیں ہوتی، ہمارے ہاں تو ایسے افراد کی کمی نہیں جو اپنے پس منظر میں شان و شوکت کے سہارے زندگی بسرکرکے کچھ نہ کرکے بھی اپنی کمالیت کادعویٰ کرتے ہیں، کھوئی ہوئی شان سے وابستگی خاندانوں میں نسل در نسل مُنتقل ہوتی ہے جہاں اُس کی سچائی پر اَندھا دُھند یقین کیا جاتا ہے حالانکہ پُرانی قبریں کھودنے والے اکثر نقصان ہی میں جاتے ہیں، اِس دُنیا میں جو کچھ کسی کو مِلتا ہے وہ حقیقت پسندانہ جِد و جہد کے نتیجے میں نہ کہ تمنّاؤں اور خوش خیالیوں سے، اگر آدمی میں تعمیر کا جذبہ ہو تو یہ ایک مُثبت ردّ عمل ہے جو لازماََ اُسے کامیابی تک پہنچاتا ہے، اِس کے برعکس اگر اُس کے اندر جھوٹا فخر، احتجاج اور شکایت کا ذہن اُبھرے تو یہ ایک منفی ردّ عمل ہے جِس کا آ خری انجام مزیدبربادی کے سِوا اور کچھ نہیں۔ بہرحال ماضی کی عزت سے وابستگی بھی کوئی بُری چیز
نہیں مگر محض ماضی کی شان پرتکیہ کرکے زمانے کی رفتار سے آنکھیں چُرا نااور تعلیم کے حُصول سے مُنہ موڑکر پسماندہ رہنا بُری بات ہے، ماضی کی عزت پر حال کی عزت جمع ہو تواُونچی عزت کا مزہ نہ پوچھو، زمانہ اِتنا بدلا ہے کہ بعض قد آور لوگ بھی روایتی زندگی کو اِتنی اہمیت نہیں دیتے کیونکہ وہ ماضی کی بعض فرسودہ روایات، سوچ، نسلی اِمتیاز اور تعصب کے خلاف ہوتے ہیں، برطانیہ کا شھزادہ ہیری شاہی خاندان کی حیثیت سے دستبردار ہوکر اپنی اہلیہ میگھن مارکل سمیت امریکہ شِفٹ ہو گیا، اَفسوس کہ زمانے کی رفتار، تبدیلی اور تقاضوں سے اکثر لوگ ناواقف ہیں، وہ ہر وقت قدیم زمانے کی عمودی ذہنیت کے دائرے سے باہرنہیں نکل سکتے حالانکہ دور حاضر میں معاشی اور سماجی تبدیلی کے نتیجے عمودی ترقی کا دور اُفقی ترقی کے دور میں داخل ہوا ہے،

میں نے اُوپر امریکہ کے سابق صدر بارک اُوبامہ کے انتخاب کاذکر کیا ہے وہ تو ماضی قریب بلکہ ابھی چند سال پہلے کی بات
ہے، تاریخ گواہ ہے تیرہویں صدی میں رضیہ سُلطانہ جو غلاموں کی نسل شمس الدین التمش کی جانشین باصلاحیت بیٹی تھی، آج سے آٹھ نو سو سال پہلے(۶۳۲۱ء تا ۰۴۲۱ء) یعنی چار سال لیاقت اور صلاحیت کی بِنا تخت ِدہلی پر براجمان رہی، تاریخ اِس بات پر بھی گواہ ہے کہ علمیت،لیاقت اور صلاحیت ہر زمانے میں کمزوروں حتیٰ کہ غلاموں کو بھی سُلطانی بخشی ہے، فرغون کی غلام اسرئیلی قوم آج دُنیا کی سیاست او ر معیشت پر چھا گئی ہے، ہٹلر پینٹر بننا چاہتا تھا لیکن وہ عظیم فاتح بن گیا، لارڈ کلائیو ۳۴۷۱ء ؁میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی میں پانج پونڈ تنخواہ پر کلرک تھا مگر وہ انگریز فوج کا کمانڈرانچیف اور فاتحِ برصغیر بن گیا،غلام اسحاق خان بیورو کریسی کی نچلی سطح سے اُٹھ کر صدر پاکستان بن گیا،

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی نگار جوہر پہلی خاتون ہے جوکہ اِس وقت لیفٹننٹ جنرل یعنی آرمی میڈیکل کور کے آخری رینک تھری سٹار جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہے، کا فوج کے اعلیٰ ترین عہدے کو سنبھالنابھی اُفقی ترقی کا زندہثبوت ہے ورنہ کہاں ایک مذہبی گھرانے کی بیٹی کا جنرل کے عُہدے پربر اجمان ہونا، یاد رہے آرمی میڈیکل کور کا آخری رینک تھری سٹار جنرل کا ہوتا ہے نہ کہ فور سٹار جنرل کا، کھبی باد مخالف بھی آخرکار ترقی کا سبب بنتی ہے جیسا کہ ابراھم لنکن ۱۳۸۱ء؁ سے ۰۶۸۱ء؁ تک تجارت اور سیاست میں مُسلسل ناکامی کے باوجود ۱۶۸۱ء؁میں امریکہ کا صدر مُنتخب ہوا۔ اِن حوالوں سے میرا مدّعاترقی کے خواہشمندوں کوبتانا ہے کہ وہ آوٹ آف دی باکس سوچا کریں یعنی پُرانے سوچ سے نکل کر زمانۂ حال کے تقاضوں کو اپنائیں، یاد رہے ترقی اور اقتدار کسی کی میراث نہیں او ر واجب الوجود بھی نہیں بلکہ ممکن الوجود شئے ہیں جنہیں ہر کوئی محنت کرکے حاصل کر سکتا ہے، واجب الوجود صرف اللّد تعالےٰ کی ذات ہے، آج کا دور تعلیم کا دور ہے جِس میں آدمی زیرو سے ہیرو بن سکتا ہے جبکہ آج سے سو دو سوسال پہلے کا ایک شان و شوکت والا شہنشاہ دوبارہ زندگی پا کر بغیر ڈگری کے مطالبہ کرے کہ اُسے چیف سیکرٹری لگایا جائے توکیا اُسے اہل سمجھاجائیگا، کھبی نہیں،وہ اِس لئے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے وقت پرچمکتے ہیں،

اِسمیں شَک نہیں کہ وہ اپنے وقت کا زبردست دبدبہ والا حکمران تھا مگر آج کادَوربرادراِزم،قبیلہ پرستی،طاقت آزمائی، چُو مَنم دیگرے نیست اور جنگل کے قانون کادورنہیں بلکہ اپنی بہت ساری خامیوں کے باوجود اہلیت، قابلیت، صلاحیت،ڈگری، قانون اور مقابلے کادور ہے، یاد رہے ذہنی جمود ترقی کادُشمن ہے، کسی عُہدے کے لئے درخواست دیتے وقت باپ دادے کی پوزیشن کے بجائے اپنی ہی پوزیشن لکھی جاتی ہے، تاہم پُرانے سو چ کے دائرے سے نکلنا بھی کوئی آسان کام نہیں چَرا کہ عادت بَد نہ رَود تا لبِ گور، کہتے ہیں ایک ہندو مُسلمان ہوگیا، ایک دن مسجد میں وظیفہ پڑھ رہا تھا کہ بیچ میں رام رام کہنے لگا، ساتھ والے نے کہا ارے تم تو مسلمان ہوگئے ہو پھر رام رام کیوں، اُس نے کہا ارے بھائی عمر کے چالیس سال تو رام رام کہتے گُزرے اب وہ عادت آسانی سے نہیں چُھوٹتی نا،، بہرحال زمانہ کا تقاضا ہی یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرکے اپنے وجودمیں علمیت، اہلیت، صلاحیت اور قابلیت پیدا کرکے ترقی کی اُمید رکھی جائے ورنہ ترقی کو سُہانے خوابوں میں ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔پشاور میں میرا ایک دوست پروفیسر صابر شاہ نے خیالی بڑائی کے بارے گپ شپ کے دوران بتایا کہ ایک دن خواب میں مجھے ملک کا صدر بنایاگیا، صدارتی محل میں داخل ہو رہا ہوں، گارڈ آف آنرز پیش کیا جا رہا ہے، اِتنے میں بیوی نے آکر جھنجھوڑ تی ہوئیvنیند سے جَگائی،میں نے مُنہ بناکر کہا اَرے!خدا کی بندی بیداری میں تو صدر بننے کی نصیب ہی کہاں، تم نے تو خواب کامزہ بھی انجوائے کرنے نہ دی۔ ۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: