Chitral Times

Aug 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بھنگ کے حیران کن فوائد……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے بھنگ کے پودے سے دھاگا بنا کر جراثیم کش کپڑے تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔بتایاگیا ہے کہ بھنگ کے پودے سے تیار ہونے والا دھاگا ہماری ٹیکسٹائل کمپنیاں بیرون ملک سے درآمد کرتی تھیں جینزنامی کپڑے کی تیاری میں 80فیصد سوتی دھاگہ اور20 فیصد بھنگ کا دھاگہ استعمال ہوتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ جینز جراثیم کش اور ماحول دوست کپڑا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ پھٹے پرانے جینز پہننے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے اور کچھ فیشن پرستوں نے جینز پتلوں کو جگہ جگہ سے پھاڑ کر پہننا شروع کردیا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ بھنگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر اینٹی بیکٹریل صلاحیت رکھتا ہے اور جب اس کے دھاگے سے تیار جینز کو پہنا جاتا ہے تو جلد پر جراثیم پیدا نہیں ہوتے۔ عالمی سطح پر صنعتی بھنگ سے تیار ملبوسات کی منڈی 25 بلین ڈالر مالیت کی ہے،

اگر فوری طور بھنگ کی کاشت میں اضافہ کر کے ضرورت کا دھاگا مقامی طور پر ہی تیار کیا جائے تو نہ صرف پاکستانی ملبوسات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ لاکھوں کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت بھی ہوگی۔جن چیزوں کو اب تک مضر صحت اور منشیات میں شمار کرکے ان سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ آج وہی چیزیں نہ صرف فائدہ مند بلکہ صحت افزاء قرار دی جارہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہماری ایک اعلیٰ عدالت کے معزز جج نے بھنگ کو یہ کہہ کر منشیات تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا تھا کہ یہ تو ملنگی نشہ ہے۔ اسے پی کر انسان وجد میں آتا اور جھوم اٹھتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے کوئی بے فائدہ چیز پیدا نہیں کی۔ ہمارے ہاں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس سے افیون پیدا کرکے لوگ ہیروئن بناتے ہیں جو منشیات کی ایک خطرناک قسم ہے۔ شاعرنے کہا کہ ”مگس کو باغ میں جانے نہ دو۔ کہ ناحق پروانے کا خون ہوجائے“یعنی مگس(شہد کی مکھی) باغ میں جائے گی تو پھولوں کا رس چوسے گی۔ جس سے وہ شہد بنائے گی۔ لوگ شہد کو چھان کر صاف کریں گے اور موم سے موم بتی بنائیں گے۔جب موم بتی جلائیں گے تو پروانہ اس کے گرد جمع ہوں گے اور موم بتی کی لو لگنے سے پروانے مرجائیں گے۔

اس لئے بہتر یہی ہے کہ شہد کی مکھی کو ہی باغ سے دور رکھا جائے۔ چند پروانوں کو بچانے کے لئے شہد جیسی عظیم نعمت سے لوگوں کو محروم رکھنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہی منطق بھنگ اور افیون کے حوالے سے بھی صادق آتی ہے۔ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہی افیون ادویات کی تیار ی میں بطور تریاق استعمال ہوتا ہے۔ بھنگ کے ریشے سے اگر جراثیم کش کپڑے تیار ہونے لگیں تو لوگ بہت سی مہلک بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے بچ جائیں گے۔دنیا میں کوئی بھی چیز بری نہیں ہوتی۔ اس کا طریقہ استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ لوگ چھری سے اس وجہ سے نفرت کرتے ہیں کہ اسے دوستوں کی پیٹھ پر گھونپا جاسکتا ہے۔حالانکہ اسی چھری سے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں جو ہمارا من بھاتا کھاجہ ہیں اور اسی چھری سے سبزیاں کاٹی جاتی ہیں۔ماچس کی تیلی کسی کے گھر کو آگ لگانے کے کام بھی آتی ہے اور اسی تیلی سے چولہا جلاکر انسان اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روٹی اور سالن پکاتا ہے۔

موبائل فون کے ایک ہزار فوائد ہیں یہ گھڑی کا کام بھی دیتا ہے۔ اس میں الارم بھی لگائیں تو ٹھیک وقت پر آپ کو فجر کی نماز کے لئے اٹھاتا ہے۔ اسی کے ذریعے آپ سینکڑوں ہزاروں میل دور اپنے پیاروں سے بات کرسکتے ہیں انٹرنیٹ کھول کر دنیاجہاں کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ فلمیں اور گانے ڈاؤن لوڈ کرکے محظوظ ہوسکتے ہیں۔زندگی کی یادگار تصاویر بناسکتے ہیں۔اب تو موبائل چلتا پھیرتا یوٹیوب چینل بھی بن گیا ہے۔ تاہم اسی موبائل کے ذریعے لوگوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کسی کا ڈیٹا چرایاجاتا ہے۔ اسے مالی نقصان پہنچایاجاسکتا ہے اور پپ جی جیسے گیم سے بچوں کا وقت برباد ہوتا ہے۔ مگر چند منفی اثرات کو لے کر آپ موبائل فون جیسی بیش بہا نعمت کو نہیں ٹھکراسکتے۔ان حقائق کو پیش نظر رکھنے سے ہمیں بھنگ اور پوست کے فوائد واضح نظر آنے لگتے ہیں۔


شیئر کریں: