Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھرتی ماں …….گل عدن

شیئر کریں:

اس بات پر شک نہیں کہ دھرتی ماں جیسی ہوتی ہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماں کی قدر ماں کے چھن جانے کے بعد ہی ہو تی ہے ۔ہاں چند ایک خوش نصیب ہو تے ہیں جو ماں کی زندگی میں ماں کی قدر کرپاتے ہیں ۔ورنہ آپ نے بھی اکثر ماں کے عنوان پر بہترین اشعار اور نظمیں پڑھیں ہوں گی ۔لیکن یہ حقیقت جان کر دل درد میں ڈوب جاتاہے


کہ جتنی نظمیں اور شعر ‘ماں ‘ سے محبت پر لکھے گئے ہیں ان میں سے اکثریت تقریباً ماں سے محروم ہو جانے کے بعد لکھی گئیں ہیں ۔کیا آپکو نہیں لگتا کے جو سلوک ہم اپنی بھولی بھالی ماؤں کے ساتھ کرتے ہیں تقریباً اس دھرتی کے ساتھ بھی ہمارا رویہ ویسا ہی ہے ؟۔23 مارچ 1947 سے لیکر 23 مارچ 2021 تک کی تاریخ میں اگر آپ حقیقت پسندی سے نظر دوڑائیں تو آپ کو حکمران طبقے سے لیکر اک عام شہری تک دھوکہ ۔فریب ۔لوٹ مار ۔بدامنی اور قتل و غارت کی داستانیں رقم کرتے نظر آئیں گے ۔تو سوال یہ ہے کہ ہر بار ہم ماضی میں جاکر اپنی دلآزاریوں کا سبب کیوں پیدا کریں ؟۔کیوں نہ ہم روشن مستقبل کے دئیے جلائیں ۔پاکستان پاک بھی تو ہو سکتا ہے ۔ ہم دھرتی کے لئے کیا کرسکتے ہیں ؟میرے مطابق جواب بہت سادہ ہے ۔جو شخص جس پیشہ سے منسلک ہے وہ اپنے پیشہ کے ساتھ انصاف کریں ۔اگر آپ استاد ہیں تو استاذ ہو نے کا حق ادا کریں گھر بیٹھ کے تنخواہ نہ کمائیں ۔ دکاندار ہیں تو ناپ تول میں کمی نہ کریں ۔ڈرائیور حضرات اپنے ہی ہم کلاس مجبور عوام کو مہنگائی کی آڑ میں لوٹنے سے باز آ جائیں ۔ڈاکٹر ہیں تو پرائیویٹ کلینک کے نام پر اپنے ہم وطنوں کی مجبوریاں نہ خریدیں ۔

ملک کو چور حکمرانوں سے پاک کرنے کے لئے لازم ہے کے عوام چھوٹی چھوٹی چوریوں سے اجتناب کریں ۔23 مارچ وہ عظیم دن ہے جب مسلمانوں نے ایک آذاد ریاست کا مطالبہ منوا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ مسلمان اور کافر کبھی ایک نہیں ہو سکتے ۔لیکن کتنی دکھ کی بات ہے کہ اتنی قربانیوں کے بعد ایک آزاد ریاست پانے کے باوجود ہم میں سے کچھہ لوگ آج بھی ذہنی طور پر انگریزوں کے غلام ہیں ۔انگریزی زبان اور انگریزی لباس ہماری کمزوری ہے ۔چار پانچ برس باہر گزارنے کے بعد ہمیں پاکستان میں پانی ہضم نہیں ہو تا۔کیا اسطرح دھرتی کا تقدس پامال نہیں ہو تا؟ اس دھرتی کا ہم پر پہلا حق یہی ہے کہ ہم ذہنی غلامی سے خود کو آزاد کریں ۔

بحثیت پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کریں خدارا ۔کب تک ہم آسائشوں کی خاطر انگریزوں کے تلوے چاٹتے رہیں گے ؟۔اور کب تک ہم ملک کی تنزلی کا ذمے دار صرف حکمرانوں کو ٹھرایں گے ؟جو ملک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہو اس ملک کی عوام کو زیب نہیں دیتا کے وہ حکمرانوں کی دیکھا دیکھی چوری اور بد دیانتی میں حکمرانوں اور سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ جائیں ۔مسلمان چاہیے دنیا کے جس حصے میں بھی ہوں ہمارا اولین اور آخری لیڈر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات مبارک ہے ۔اور آپﷺ ہی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں ۔اسلیے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے چاہے کتنے چور ڈاکو آئیں ہمیں صرف اپنی حقیقی لیڈر کے نقشِ قدم پہ چلنا چاہیے یہی دھرتی کے ساتھ انصاف کا تقاضا بھی ہے اور یہی ملک کی بقاء اور سلامتی کا ضامن ہے ۔


شیئر کریں: