Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلوچستان کی بیٹی کا مقدمہ ….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

بلوچستان مختلف محرومیوں کی کرب ناک داستا نیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، لیکن حالیہ دنوں سرکاری ملازم خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز ی سلوک کی بازگشت سے صوبائی جماعت کی گورنس پر سوالیہ نشان اٹھایا جارہا ہے۔ بلوچستان میں احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے جس قسم کی کوششیں،تمام حکومتوں کی جانب سے کی گئی، لیکن یہ طے ہے کہ بعض ایسے عناصر ضرور موجود ہیں، جو ریاستی اقدامات کو ناکام بنانے کے لئے سعی کرتے رہتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ صنفی امتیازی سلوک کے حوالے سے بلوچستان حکومت نے ایک سرکاری خاتون افسر فریدہ ترین کا صرفڈیڑھ مہینے میں چار مرتبہ تبادلہ کرکے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی ورزی بھی کی۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں پبلک سروس کمیشن سے پاس ہوکر سرکاریعہدوں پر آنے والے دیگر دس خواتین بھی دور دراز علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔فریدہ ترین نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے مقابلے کا امتحان 2017میں پاس کیا تھا،اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین کی ڈیڑھ مہینے کے مختصر ترین عرصے میں چار مرتبہ تبادلہ و پوسٹنگ کی گئی، قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی سرکاری افسر کی تعیناتی کے بعد تین برس مکمل ہونے سے قبل تبادلہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن ترجمان بلوچستان کے مطابق یہ سب قانون و عوامی مفاد کے مطابق کیاگیا۔ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خاتون افسر کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا، ان کی قومیت کے حوالے سے ہے یا پھر کوئی مبینہ سیاسی عنصر ہے، ترجمان بلوچستان کا موقف تو آچکا کہ وہ ایسے صنفی امتیاز کے منفی سلوک سے انکاری ہیں بلکہ ایسے ’ملازمت کا حصہ“ قرار دیتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں کسی خاتون کا پڑھ لکھ جانا اور میرٹ پرسرکاری عہدوں تک رسائی پانا شاید یہ مخصوص عناصر کے مائنڈ سیٹ پر گراں گزرتا ہے، خواتین پدری معاشرے میں ایک عزت مند مقام کی بحالی کے لئے پر عزم ہیں، خیال رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے سرحدی ضلع پشین اور پشتونوں کے معروف قبیلہ ’ترین‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے مخالف مخاصمت کیوں برتی جا رہی ہے،

اس موقع پر اس حوالے سے کچھ نہ لکھنے جانا ہی بہتر ہے۔ واضح رہے کہ پدری معاشرے میں خواتین کو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا پڑتی ہے، زباں بندی کی صورت میں جبری تشدد و امتیازی سلوک سے وابستہ پڑتا ہے، ان حالات میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ خیبر پختونخوا میں پہلی خاتون ڈی پی او کی سی ایس ایس کی تیاری ان کے شوہر نے کروائی، اسی طرح خیبر پختونخوا کی پانچ شیر بہنوں نے امتحان پاس کرکے اپنے خاندان،ملک و قوم کا نام روشن کیا، اس وقت پانچوں بہنیں مختلف سرکاری عہدوں پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔پدری معاشرے میں جب کوئی لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو آٹے میں نمک کے برابر ایسے خاندان ہیں، جو شکر خداوندی بجا لاتے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ لڑکیوں کی پیدائش پر افسردہ ہوجاتے ہیں، لیکن بچیوں کو جب بھی موقع ملا تو انہوں نے اعلیٰ مقام حاصل کیا، ویسے تو ان گنت مثالیں موجود ہیں، جن کے لئے کالم ناکافی ہیں، تاہم بلوچستان کی بہادر بیٹیوں میں جب فریدہ ترین کی پوسٹنگ و تبادلوں کے حوالے سے غیر منصفانہ رویہ و صنفی امتیاز سامنے آیا تو دلی دکھ ہوا کہ جس معاشرے میں کسی خاتون کو اپنے حقوق کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، مَردوں کے قصور کی سزا فرسودہ رسموں کارو کاری، سوارا یا ونی،قرآن سے شادی(نعوذ باللہ)، پیر کی اونٹنی، سام (تاحیات خدمت بحیثیت غلام،اباندی)غیرت کے نام پر قتل،فرسودہ روایات کے تحتجائیداد میں حصہ نہ دینا، تعلیم کی قید و بندش سمیت ان گنت خود ساختہ رسومات نے خواتین کو نمائش بنا کر رکھ دیا ہے،

ہراسانی کے واقعات سمیت امتیازی سلوک کی مثالیں تو اتنی زد عام ہوچکی ہیں کہ شاید ہی کوئی ادارہ صنفی امتیاز کا شکار نہ ہو۔ فریدہ ترین کو صنفی امتیاز ی سلوک کا نشانہ بنانا، بلوچستان کی خواتین میں احساس محرومی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ بلوچ و پشتون خواتین پہلے ہی اپنے پیاروں کی گم شدگی اور تلاش کے لئے ملک کا کونا کونا چھان رہی ہیں، ان کے موقف کو کچھ بھی کہیں، لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اپنے جگر گوشوں کو اپنی نظروں سے دور اس تصور کے ساتھ یاد رکھنا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں، ایک بہت بڑا کھٹن کام ہے۔ تاہم یہ ضرور دیکھنے میں آرہا ہے کہ ظلم سہنے والیاں جوپہلے خاموش رہنے کو ترجیح دیتی تھیں، اب وہ ان قبائلی، رسم و رواج و سرکاری یا غیر سرکاری اداروں یں صنفی امتیاز کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے لگی ہیں، انصاف کے لئے ہر اس دروازے پر جاتی ہیں جہاں سے انصاف ملنے کی معمولی امید بھی ہو، پاکستان میں تعلیم یافتہ خواتین کی سال با سال پر محیط، کوششوں نے روایات کی آئینی زنجیروں کو پگھلانا شوع کیا، کہیں توڑا ہے۔

یہ اس اَمر کی نشانی ہے کہ خواتین اپنے حقوق کی جنگ کو مزید تن دہی سے آگے لے جانے میں کامیابی سے بڑھ رہی ہیں، فرسودہ رسومات و صنفی امتیاز کے ان ریت کی دیواروں کو ڈھاتے ہوئے ان گنت خواتین، بچیاں معاشرے میں اپنا مقام پیدا کررہی ہیں، ہم سب کے سامنے ان گنت جید خواتین کی مثالیں تاریخ کا انمول باب ہیں،جنہوں نے اپنی جرات، بہادری اور اسلام میں دی گئی گئی مکمل آزادی سے تا قیامت تک اپنی سیرت کو مشعل راہ بنادیا۔ بلوچستان کی حکومت ہو یا صوبائی تا وفاقی حکومتیں سمیت تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں خواتین کے تحفظ و حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے، اگر اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین کی طرح کا سلوک کسی بھی حکومت یا ادارے کی جانب سے کیا جاتا رہا، تو اس سے نفرتوں کی خلیج و احساس محرومی میں اضافہ ہوگا، ہمیں خصوصی طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حسیاست کے حوالے سے اس قسم کے قابل مذمت رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، اس سے اُن بچیوں کو معاشرے میں ملک و قوم کی خدمت کرنے کے جذبے کو فروغ ملے گا، آج سیکورٹی فورسز میں خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی دیئے جانے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے، لہذا کوئی بھی حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے جس کا سامنا پاکستان کے دل بلوچستان کی بیٹی کو کرنا پڑا۔پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنا ہی حب الوطنی کی اعلیٰ مثال ہے، باہمت خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کا ساتھ دیجئے کیونکہ یہی ہمارے ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے۔


شیئر کریں: