Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پانی زندگی،زندگی سے ناانصافی…..(عنایت جلیل قاضی)

شیئر کریں:

قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ “ہم نے ہر ذی روح کو پانی سے پیدا کیا” اور صدیوں بعد سائنس بھی اس نظرئے سے اتفاق کرتے ہوئے یہ بتارہی ہے کہ انسانی وجود کا 91 فیصد مائع (پانی) پر مشتمل ہے۔ پیدائش سے لیکر آخری سانس تک، ہرجاندار کو پانی کی ضرورت پڑتی ہے اور پانی کے بغیر زیادہ دیر تک جینا محال ہے۔

قدرت نےپانی کو زبردست خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔یہ اُبل کر اٹھے تو  بھاپ، جم کرگرے، تو برف،برف جمتی جائے، تو برف زار، برف زار پھگل جائے تو چشمے،حد میں برسے، تو باران رحمت، تجاوز کرے تو باران زحمت۔ آرام سے چلے تو فائدہ ،بپھر جائے تو سیلاب، تنہا رہے تو قطرہ، ساتھ  ملے تو دریا، قریہ قریہ پھیرے توندی، سب مل جائے تو سمندر۔ سمندر میں خاموش رہے تو راستہ اور اُمڈ آئے تو طوفان۔ حضرت اسمعیلؑ کے قدموں سے نکلے تو آب زم زم اور محمد کے ہاتھ سے  تقسیم ہو، تو آب کوثر۔

چونکہ یہ نعمت خداوندی ہمیں مفت میں مل رہی ہے، تو مال مفت دلِ بے رحم کے مصداق، ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ اس کا ضیاع ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی اور ہم تغفل جاہلانہ میں، اپنے لئے ازمائش بڑھاتے جارہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ہماری آنے والی نسل اس کیلئے کشت و خون پر اتر آئے۔ عالمی سطح پر یہ مفروضہ موجود ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا سبب بھی، پانی ہوگا۔ اسی پس منظر پیں اقوام متحدہ نے ہر سال مارچ کے مہینے کی 22 تاریخ کو، عالمی دن کے طور پر “یوم آب” منانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دنیا والے، اس کی اہمیت کو جان کر اس کی حفاظت کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوجائیں اوراس کی ضیاع کا تدارک کرسکیں۔ اس موقع کی مناسبت سے، میری یہ کاوش ایک آگاہی مہم ہے اور شائد تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

پانی کا شائد کافی بڑا ضیاع ہماری عبادت گاہوں میں ہورہا ہے، حالنکہ دنیا کے تمام مذاہب میں، فضول خرچی ایک معیوب چیز ہے اور دین اسلام نے تو فضول خرچوں کو شیطان کا بھائی قراردیا ہے۔ میں اگر ایک مسلمان کی حیثیت سے مساجد کا تجزیہ بتادوں، تو آپ سب کو بڑی حیرت ہوگی۔ مساجد میں وضو خانے، ٹائلیٹ کا اہتمام ہوتا ہے حالنکہ ماضی قریب تک مساجد میں یہ چیزیں نہیں ہوتی تھی اور لوگ اپنے گھروں سے تیار ہوکرآیاکرتے تھے۔ اب چونکہ یہ سارا انتظام مساجد کے اندر ہوتا ہے، تو اس کی وجہ  سےدو بڑے مسائل جنم لیئے، ایک مساجد کی صفائی اور دوسرا پانی کا ضیاع۔ چونکہ آبادی بڑھ گئی ہے اور مساجد کی آس پاس کاروبا بھی ہوتا ہے تو دوکانداروں نے اس کا سارا زور مساجد پہ ڈال رکھا ہے۔ کاروباری حلقے کا مائینڈ سیٹ اس طرح بنا ہوتا ہے کہ یہ طبقہ مفت کی چیز بےدریغ استعمال کرتا ہے اور اپنی کاروباری چیزوں کے حوالے سے،بلا کے بخیل اور کنجوس ہوا کرتے ہیں۔ وضو کے وقت، یہ طبقہ کاروباری میل کچیل مساجد میں آکر دھو لیتا ہے اور پانی کے بےجا ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ اس سلسلے میں علمائے کرام کوئی ایسا نظام متعارف کروادیں کہ پانی کا ضیاع کم سے کم ہوجائے۔ اس پر قابو پانے کیلئےایک کام سینسر والی ٹوٹیاں ہیں جو مساجد میں لگائی جاسکتی ہیں اور یہ کچھ مساجد میں خال خال نظر آتی بھی ہیں۔

پانی ضایع کرنے والا دوسرا طبقہ داڑھی منڈھوانے (شیوو) والوں کا ہے۔ داڑھی منڈھواتے ہوے، کم از کم  فی کس ایک بالٹی پانی ضایع کرتا ہے۔ اگر ہم مثال لے لیں کہ ہمارے ملک میں اگر 5 کروڑ شیو کرنے والے ہو تو 5 کروڑ بالٹی پانی ضایع ہوجاتا ہے اور اگر لیٹر میں حساب کریں تو ایک ارب لیٹر پانی صرف شیو کرنے والے روزانہ ضایع کردیتے ہیں، ساتھ ساتھ سنت انبیا کی توہین کا ارتکاب کرکے گنہگار ہونا اس کے علاوہ ہے اور یہ  سوچنے والی بات ہے۔

دانتوں کی صفائی ایک سننت ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کیلئے بھی بہت کارآمد ہے۔ ہمارے معاشرے میں ٹوتھ پیسٹ یا مسواک کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن جو پانی کا ضیاع ہوتا ہے وہ اسراف کے زمرے میں ضرور آتا ہے۔ لوگ ٹوتھ پیسٹ اور مسواک کرتے ہوے، ٹوٹی کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور کم از کم ایک بالٹی پانی ضائع کرتے ہیں۔ اس حساب سے دیکھئے تو اگر 15 کروڑ لوگ مسواک یا ٹوتھ پیسٹ لگاتے ہیں تو 15 کروڑ پالٹی پانی ضائع ہوتا ہے جو ایک ارب 50 کروڑ لیٹر یومیہ بنتا ہے۔  

ہمارے معاشری میں جب سے جدید واش روم کا رواج شروع ہوچکا ہے تب سے پانی کا ضیاع ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ ہمارے دفترات میں واشرومز کی بناوٹ، ہمارے اقدار سے مشابہت نہیں رکھتی، اور لوگ ان کا استعمال کرتے ہوے بہت سارا پانی ضائع کرجاتے ہیں۔ یہی حال گھروں میں بھی ہے اور اٹیچ باتھ کی وجہ سے کافی پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ کلچرل فرینڈلی واش رومز بناکر بہت سارا پانی بچایا جاسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اہل ثروت گاڑیاں رکھتے ہیں جن کا خمیازہ، انکو بھی بھگتنا پڑھتا ہے، جن کو ان کو گاڑیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ اہل ستم، روزانہ گھروں میں اپنے نوکروں یا خود سے گاڑیوں کی باڈی واش کرواتے ہوے، پانی کی تباہی مچادیتے ہیں اور ساتھ ساتھ پورے محلے کو بھی گندہ کرجاتےہیں۔ اس حرکت کی وجہ سے، پڑوسیوں کو اپنے اپنے گھروں کے سامنے ان کی غلاظت دھونا پڑتا ہے اور یوں ایک گاڑی کی وجہ سے پورے محلے کو دھونا پڑتا ہے۔ اس بے احتیاطی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پرہزاروں لیٹر پانی ضایع ہوجاتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ، کار واشنگ سینٹر والے بھی اس گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور ہم پانی کے بوند بوند کو ترسنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت گھروں اور محلوں کی سطح پر کار واشنگ پر پابندی لگا سکتی ہے اور بھاری جرمانہ لگا کر اس کا سد باب کیا جاسکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی بھی، پانی کی کمی کا ایک اہم سبب ہے اور اس موسمیاتی تبدیلی میں بھی ہمارا بہت بڑا کردار ہے۔ زمین پر پانی کے دو بڑے ذخائر ہیں، سمندر اور پرفانی تودہ (گلیشیرز)۔ اس حوالے سے واٹر سائکل میں توازن بہت ضروری ہے۔ لیکن زمین پر کنکریٹ اور دیگر تعمیرات سے زمین کی سطح چھپتی جارہی ہےجس کی وجہ سے پانی جذب نہیں ہوتا اور زیر زمین پانی کم سے کم ہوتا جارہا ہے اور زمین کے اوپر سیلابی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے مقدم چیز رویوں اور اندازِ رہائش میں تبدیلی ہے کیونکہ پانی کا سب سے بڑا نقصان ان رویوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔

پانی کا سب سے ذیادہ استعمال ( 80 فیصد) زراعت کے شعبے میں ہے اور یہاں بھی ہم سائینسی انداز میں پانی استعمال کرنے کی بجائے، روایتی طریقوں سے آبپاشی کرکے پانی کا بہت بڑا حصہ ضائع کردیتے ہیں۔ ہم اپنی فصلوں کو پانی میں جب تک  ڈبونہ دیں، تب تک تسلی نہیں ہوتی حالنکہ پانی صرف جڑوں تک کافی ہے۔ جن علاقوں میں چاول کاشت کیجاتی ہے وہاں پرزمین تالاب کی صورت اختیار کرجاتی ہے اور پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ نہری نظام میں پانی کا رسکنا بھی ضائع ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے جو مجموعی طور پر پانی کی ضیاع کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔

گزارش یہ ہے کہ پانی بچانے کے بہت سارے اسان طریقے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ انفرادی طور پر تھوڑی سی کوشش کرکے اجتماعی طور پر بہت سارہ پانی بچا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹوتھ پیسٹ لگار کر، مسواک لگاتے ہوے، شیو کرتے ہوے، نہاتے ہوے، وضو بناتے ہوے، صرف حسب ضرورت پانی کی ٹوٹیاں کھولدیں، تو ہزاروں لیٹر پانی بچایا جاسکتا ہے اور یہی پانی ہماری آنے والی نسلوں کے کام آئے گا۔


شیئر کریں: