Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ ایجوکیشن میں ٹرانسفر کے حوالے سےصوبائی حکومت کی ناقص پالیسی ۔۔۔۔محمد عثمان

شیئر کریں:

تعلیم کسی بھی قوم و ملک کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے موجودہ دور میں جو ممالک واقوام ترقی کی اوج وثریا پر گامزن ہیں ان کے پیچھے بہترین تعلیمی و تدریسی نظام کار فرما ہے۔
اس کے پیش نظر جب سےپی ٹی آئی حکومت بر سر اقتدار آئی ہے اس نے معیار تعلیم کو بہتر بنانے لئے انقلابی و قابل قدر اقدامات کئے ہیں۔


() خالص میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پرNTS کے تھرو اساتذہ کا تقرر
()غیرحاضری کی روک تھام کے لئے مانیٹرنگ سسٹم کا قیام
() سکولوں میں مختلف کیڈر میں بھاری بھر اساتذہ کی بھرتی کرنا۔
میرٹ اور سکورنگ کی بنیاد پر لوکل اسٹیشن تعیناتی کے لئے ای ٹرانسفر کا قیام۔
وغیرہ الغرض کئی ایسی شعبےہیں جن میں پی ٹی آئی کی حکومت نے قابل قدر پالیسی پہلی دفعہ متعارف کرائی ہیں ۔
لیکن ان تمام مثبت پہلوں کے باوجود قابل افسوس بات یہ ہے کہ حکومت اساتذہ کے ساتھ ٹرانسفر کے حوالےسےسوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے ٹرانسفر کے حوالے سے ابھی تک حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی وضع نہیں کی ہے جس کی وجہ سےاساتذہ شدیدذہنی دباو اور مایوسی کا شکار ہیں قارئین کرام کو پتہ ہوگا کہ 2014 سے NTS کے ذریعے اساتذہ چترال کے دور دراز علاقوں کھوٹ ریچ تریچ لاسپور یارخون میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان میں سے بعض نے 7 سات سال کی طویل ٹینور گزاری ہے حالانکہ ہارڈ اسٹیشن میں قانونا واصولا 18 ماہ مدت گزارنی ہوتی ہے مدت کی تکمیل کے بعد درخواست کے ذریعے استاذہ اپنے لوکل قریبی اسٹیشن تبادلے کا مجاز ہوتا ہے دیکھا جاے تو یہ اک مبنی بر انصاف طریقہ و اصول ہے لیکن موجودہ حکومت نے اس کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔
ٹرانسفر کے حوالے سے ایک بڑا ظلم اس حکومت نے سابقہ جنرل ٹرانسفر پالیسی کو ختم کیاجنرل ٹرانسفر میں ایک بندہ جو اپنے گھر سے دور سکول میں 3 سال گزارتا تو وہ اپنے لوکل اسٹیشن کے لئے درخواست دیکر اس پر آسانی سے ٹرانسفر ہوتا پتہ نہیں حکومت نے اس پالیسی کو کیوں نظر انداز کیا خود ہی اندازہ لائیے ایک ٹیچر سات سال سے ہارڈ ایریا میں ڈیوٹی انجام دے رہا ہے جبکہ دوسرا اسی کیڈر کا استاذ 7 سال سے اپنے لوکل اسٹیشن میں مزے لوٹ رہا ہے کوئی بھی عقل مند اس پالیسی کو انصاف پسندی کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔


جنرل ٹرانسفر کے مقابلے میں حکومت نے ای ٹرانسفر ایپ متعارف کرایا گیا جس کی مدد سے حال ہی میں ضلعے کے اندر اساتذہ دفتری چکروں کلرکوں کی منت سماجت سے بے نیاز محض پوائنٹ، سکورنگ کے لحاظ سے قریبی سکولوں میں تعینات کئے گئے۔بادی النظر میں دیکھا جاے تو E transfer سسٹم ایک یونیک اور جدید قسم کی ٹرانسفر پالیسی ہےجس کی طرف سابقہ حکومتوں نے توجہ نہیں کی۔ لیکن لوئر چترال سے تعلق رکھنے والےاساتذہ جو طویل عرصے سے اپر چترال کے دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ان کو ای ٹرانسفر میں حصہ لینے نہیں دیا گیا اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے حالانکہ ان اساتذہ کا تقرر اس وقت ہوا تھا جس وقت دونوں اضلاع ایک تھے 2019 کو اپر چترال کو ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا گیا ۔


اس کے بعد Bifurcation پالیسی یعنی لوئر اپر چترال کے اساتذہ کا تبادلہ کی خبر آئی تو اس سسٹم سے امیدیں وابستہ تھی کہ شاید اب کی بار دور کے اساتذہ اپنے لوکل یا قریبی اسٹیشن میں ٹرانسفر ہونگے۔یہ مسئلہ عرصہ دو سال سے پینڈنگ میں تھا اس کے لئے انصاف ٹیچر ایسوسیشن کے قایدین انتھک جدوجہد میں مصروف عمل تھے لیکن حال ہی میں سیکرٹریٹ کی جانب سےجب Bifurcation آرڈر لسٹ جاری ہوا اس میں تقریبا 24 افراد کے نام درج تھے ان میں بھی ان اساتذہ کو لوئر چترال میں ٹرانسفر کیا گیا جہان پوسٹ خالی تھی لیکن جہاں پوسٹ خالی نہیں تھی ان کو واپس اپر چترال اپنے اپنے پرانے سکولوں میں روانہ کیا گیا اسی طرح بائی فارکیشن سے وابستہ امیدیں بھی دم توڑ گئیں ۔اس میں حیرت انگیز قابل تعجب بات جو دیکھنے کو ملی وہ یہ ہے bifurcation کا مسئلہ پچھلے دو سال سے زیر غور تھا اس سلسلے میں افسران بالا کی بیسیوں میٹنگیں ہوئی ان سب کے باوجود ٹرانسفرلسٹ میں غیر ویکنڈ پوسٹ پر تبادلہ کرنا ایجوکیشن انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ؟


ایک اور ناقص پالیسی جو ان تین سالوں کے اندر دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ صوبائی حکومت نے ٹرانسفر پر مکمل پابندی لگائی لیکن Bifurcation کے ذریعے کئی من پسند اساتذہ کو لمبے ٹینور کے بغیر لوکل اسٹیشن پر ٹرانسفر کیا گیا۔

مندرجہ بالا تمام مشاہدات وواقعات کے تناظر میں دیکھا جاے تو صوبائی حکومت ٹرانسفر کے حوالے سے کوئی واضح ٹھوس پالیسی بنانے میں مخمصے کا شکار ہےاس بارے میں تمام اساتذہ یونین بھی خاموش تماشائی بنے دکھائی دے رہی ہے اساتذہ کرام جو نونہالان قوم کے سچے معمار ہیں شدید کرب والم میں ہارڈ اسٹیشن میں لمبے عرصے سے ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔


شیئر کریں: