Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور گرم چشمہ روڈ……( محمد افضل چترالی)

شیئر کریں:


یہ غالباً ستمبر 2009 کی بات ہے جب نیشنل ہائی وے اتھارٹی این ایچ اے ( NHA) کی جانب سے اسلام آباد ہیڈآفس میں چترال اور دیر کے عوامی نمائندوں کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد لواری ٹنل کو ریل ٹریک برقرار رکھنا یا روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے پر مشاورت کرنا تھا- اجلاس میں دونوں اضلاع کے قومی, صوبائی اسمبلی کےمعزز ممبران, ضلعی ناظمین اور دیگر شخصیات شامل تھے- چترال سے شہزادہ محی الدین, صوبائی وزیر سلیم خان, ضلعی ناظم حاجی معفرت شاہ, فرداد علی شاہ, شہزادہ پرویز اور سابق نائب ناظم سلطان شاہ سمیت راقم کو بھی اس اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا تھا- عوامی نمائندوں کیساتھ سحر حاصل مشاورت اور تمام تیکنیکی معاملات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب مستقبل میں مذکورہ روٹ سینٹرل ایشیاء سے لنک ہوگا تو ریل ٹنل کےمقابلے روڈ ٹنل زیادہ کار آمد ثابت ہوگا- نتیجتاً فیصلہ ہوا کہ ٹنل منصوبے کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کیلئے دوبارہ فیزبیلیٹی بنایا جائے تاکہ لواری ٹنل کی تکمیل ممکن ہوسکے- اس وقت سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کے عہدے پر فائض تھے-


دوران اجلاس گرم چشمہ روڈ پر بھی پریزینٹیشن دیتے ہوئے اس کے خدوخال بتائے گئے, مثلاً چترال سے دوراہ پاس تک کوئی پچاسی کلو میٹر, شاہ سلیم سے آگے پانچ کلومیٹر کا ٹنل تعمیر کرنا وغیرہ- راستے میں جہاں جہاں برفانی تودے, پھسلن یعنی سلائڈنگ کا خطرہ ہو وہاں پر لاواک کی طرح اورہیڈ اور شاہ سلیم تک کل باسٹھ پل تعمیر بنانے ہونگے- اس طرح چیو پل چترال سے افغانستان ہوتے ہوئے خوروق پل اس روٹ کی کل لمبائی دو سو تین کلو میٹر تک محیط ہوگی-

اجلاس کے اختتام پر ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران چیئرمین این ایچ نے دریافت کیا کہ ابتداء میں گرم چشمہ روڈ کو متبادل محفوظ سائڈ سے کیوں نہیں تعمیر کیا گیا تھا؟ ھم نے جواباً عرض کیا کہ اگرچہ بہت پرانی بات ہے لیکن سننے میں یہ آیا ہے کہ محکمہ کے افسران نے خان بوجھ کر موجودہ سائڈ کو ترجیح دی تھی کیونکہ جب روڈ متاثر ہوگا تو ہر سال اس کے لئے بجٹ مختص ہوگا اور متعلقین کو فائدہ ہوگا- تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ ایسا ہی ہوگا ورنہ متبادل سائڈ زیادہ محفوظ اور پائیدار ہے-


بعد ازاں, پچھلے سال گرمچشمہ کے معتبر شخصیت محترم خادم نبی صاحب جو ماضی میں معروف کنٹریکٹر بھی رہے ہیں نے دوران گفتگو بتا رہے تھے کہ ایک بار گرم چشمہ روڈ بمقام دروشپ “پل” کی تعمیر کیلئے سی این ڈبلیو کا انجنیئر جائے موقع کا دورہ کیا اور لٹکوہ کے بزرگ عمائدین بھی موجود تھے- انجنئیر نے جب ایک غیر محفوظ پوائنٹ کی نشاندہی کی تو موقع پر موجود بزرگ نے نسبتاً ایک محفوظ جگہ دکھائی- انجنئیر نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردی کہ “بابا اگر ایسا ہوا تو ہم اپنے بچوں کو کیا کھلائیں گے”؟

مطلب مالِ مفت دلِ بے رحم والے بات اور پاکستان کو مالی مشکلات سے دوچار کرنے میں متعلقہ ادارے کا اہم کردار بھی-
گزشتہ عشروں کے دوران گرم چشمہ روڈ کا کئی بار سروے کیا جاچکا ہے لیکن حتمی فیصلے سے متعلق ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئے- چونکہ یہ ایک ایسا تاریخی روٹ ہے جو زمانہ قدیم سے افغانستان, سینٹرل ایشیاء کو پاکستان اور چین سمیت دیگر پڑوسی ممالک سے ملانے اور تجارت کا موثر ذریعہ رہا ہے, نیز دورِ حاضر میں بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے- اب پھر سے گرمچشمہ روڈ کو تعمیر کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے, اس لئے این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ عالمی تجارتی منڈیوں کی ضروریات,تقاضوں اور اہمیت کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس روڈ کو محفوظ ترین جگہوں اور ضرورت پڑی تو اس کی “ری الائمنٹ” کرکے دریا سے اوپر, پختوری یعنی دھوپ والے سائڈ سے گزارا جائے جیسا چئیرمین این ایچ اے نے اظہار کیا تھا-
جدید مشینوں نے پہاڑوں کی کٹائی اور سڑکوں کی تعمیر بہت آسان کردی ہے- جغرافیائی اور موسمی مشکلات کو مدنظر رکھ کر سڑکوں کو ہمیشہ کیلئے محفوظ اور ملکی وسائل کا بہتراستعمال مفادِ عامہ کا ضامن ہے- لہٰذا این ایچ اے اور دیگر متعلقہ ذمہ داروں کو ادراک کرنا ہوگا کہ اس بین الاقوامی روڈ کو جو پاکستان کو وسطی ایشیاء سے ملائیگی کو ھمیشہ کیلئے سہل, محفوظ اور آسان بنانا ہے- علاوہ ازیں علاقے کے تمام سول سوسائٹی آرگنائزیشنز, سماجی کارکن اور قائدین اس حوالے سے این ایچ اے کی مکمل رہنمائی کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں

garamchashma road

شیئر کریں: