Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عصرحاضر میں استاذ کا مقام…….تحریر :زوبیہ اسلم

شیئر کریں:

وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں 


ہم آدم علیہ السلام کی تخلیق کے مقصد سے ناواقف نہیں ہیں.اللہ تعالی نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو ان کے علم کی وجہ سے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ صرف اور صرف فہم و فراست کی بدولت ملا ۔۔اور فہم و فراست کا راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے اور علم استاد کا محتاج ہے ۔استاد ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی محنت سے طالب علم کو نہ صرف شعور کی منزل طے کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ کامیابی سے بھی روشناس کرواتا ہے۔استاد ہی کی بدولت ایک عام انسان ڈاکٹر ،انجینئر ،جج،مفکر اور سیاستدان کے درجے تک پہنچ پا تا ہے ۔ نبی کریم نے فرمایا:” بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے”استاد کے مرتبے کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم جو کل کائنات کے نبی ہے الله پاک نے انہیں معلم کے رتبہ سے نوازا۔ایک صحابی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” انسان کے تین باپ ہیں، ایک اس کا والد، ایک سسر اور ایک استاد اور ان سب سے افضل درجہ استاد کا ہے” ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس خوب صورت انداز سے استاد کی اہمیت کو واضح کیا کہ والدین،جن کی نافرمانی پر دنیا اور آخرت میں سزا مقدر بنتی ہے تو استاد جس کا درجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والد حقیقی سےافضل قرار دیا ہےاس کی نا فرمانی کا ارتکاب کرنے پر انسان کس قدر زلیل و خوار ہو سکتا ہے اندازہ لگانا مشکل ہے.

بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں استاد کو وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ حقدار ہے.اسے اپنی ہی طالب علموں سے عزت نہیں ملتی. استاد کی شان میں احادیث, اقوال ,آیات محض کتابوں کی زینت ہیں۔عملی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔استاد کو باپ کا درجہ تو ملا مگر مقام نہیں۔ آئے دن ہماری نظروں سے اساتذہ پر تشدد کے بہت سے واقعات گزرتے ہیں۔روحانی باپ کی معمولی سرزنش پر سرعام اسے تھپڑوں سے نہال کر دیا جاتا ہےتو کہی گریبان سے پکڑ کر روڈ پرگھسیٹا جاتا ہے اور اسی طرح روحانی والدہ کی معمولی ڈانٹ پر اس کے ساتھ قبیح فعل کا ارتکاب کر کے جو فوٹیج کور کی جاتی ہے وہ انٹرنیٹ کی زینت بنتی ہے۔بچے تو الگ بات ان کے والدین آستین چڑھاۓ استاد کا منہ نوچنے آجاتے ہیں ۔حیف صد حیف! جب والدین ہی اپنے بچوں کی غلطی میں حصہ دار بنتے ہیں تو ان کی تربیت کیسے صحیح بنیادوں پر استوار ہو سکتی؟ لیکن عام طور پر ہمارے معاشرے میں استاد کی بجائے بچے کو مرکزی کردار حاصل ہےاولاد بہت بڑی آزمائش ہے اسی لیے جب والدین غلط کو غلط کہنے کی بجاۓ اور بچوں کو سمجھانے کی بجاۓ برائی میں ساتھ دیتے ہیں تو ایک نہ ایک دن وہی اولاد بطور سزا ان کے ساتھ بھی ٹھیک ویسا ہی برتاؤ کرتی ہے۔


میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ اب اساتذہ مخلص نہیں رہے مگر میں بھی تو اسی معاشرے میں رہ رہی ہوں اور الحمداللہ مجھے اب تک بہترین اور مخلص استاد ملے ہیں۔ میں نے جب بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے مقصد میں بھی کامیابی حاصل کی ہے تو میں نے اپنی کامیابی پر خود سے زیادہ خوش اپنے والدین و اساتذہ کو دیکھا ہے، جب بھی اپنی زندگی کے کسی موڑ پر گری ہوں تو حوصلہ افزائی کرنے والوں میں بھی میں نے انہی لوگوں کو پایا ہے۔ یہ سب میری حوصلہ افزائی نا کرتے تو شاید ہار جاتی یا اس وقت زندگی کچھ اور ہوتی۔ میں تو اپنے اساتذہ کا جتنا شکریہ ادا کروں اور جتنی عزت دوں وہ کم ہے۔ ابن انشاء کے شاگردوں کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ابن انشاء ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں ایک استاد سے ملنے گئے۔ ملاقات کے اختتام پر وہ ابن انشاء کو الوداع کرنے کے لیے یونیورسٹی کے صحن تک چل پڑا۔ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔

اس دوران ابن انشاء نے محسوس کیا کے پیچھے سے گزرنے والے طلبہ اچھل اچھل کر چل رہے ہیں۔ ابن انشاء اجازت لینے سے پہلے یہ پوچھے بغیرنہ رہ سکے کہ محترم ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر کیوں چل رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کے ہمارا سایہ پیچھے کی جانب ہے اور کوئی بھی طالب علم نہیں چاہتا کہ اسکے پاؤں اسکے استاد کے سائے پر بھی پڑیں اسلیے ہمارے عقب میں گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزر رہا ہے ”بس یہ ہوتے ہیں قوموں کی ترقی کے راز۔ اس وقت ہم بھی تعلیم کے میدان میں ترقی کر رہے ہیں مگر ہمارا ملک ترقی نہیں کر رہا تو اسکی وجہ ہمارے ڈگمگاتے ہوے کردار ہیں۔ ہم اگر ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں کم از کم اپنے اپنے کردار کو سنوارنا ہوگا۔ چاہے ہم طالب علم ہے یا استاد, ہمیں اپنا فرض نبھانا ہوگا تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور بے شک ہمارا ملک ہمارا گھر ہے۔ایک مشہور مقولہ ہے:” با ادب با نصیب ،بے ادب بےنصیب”یہ محض مقولہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اسی لیے لاکھوں کی تعداد میں زیر تعلیم طلباءو طالبات کامیابی کی منزل طے نہیں کر پاتے ۔کیوں کہ جب وہ احترام کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو ناکامیاں حقیقی طور پر مقدر بن جاتی ہیں. ہمارے ملک میں طالب علموں کے تحفظ کے لیے تو قوانین کی بہتات ہیں مگر استاد کے لیے کوئی خاطر خواہ لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا۔

مجھے ڈاکٹر اشفاق احمد یاد آجاتے ہیں جوبتا تے تھے کہ: ” ایک دفعہ اٹلی میں میراچا لان ہوگیا ،مصروفیت کی بنا پر فیس ادا نہ کرسکا اور مجھے کورٹ طلب کیا گیا،جب جج نے فیس ادا نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ پروفیسر ہوں ،بات پوری بھی نہ ہو پائی تھی کہ جج بولا” A teacher is in the court”تو سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گۓ ،میرا چالان کینسل کیا اور مجھے عزت کے ساتھ رخصت کیا ،اس دن میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا” اس واقعہ میں کتنی بڑی بات چھپی ہے کہ وہی قومیں آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں جو استادکی عزت کرتی ہیں اور ان کے نقش قدم پہ چلتی ہیں۔اگر ہم ماضی کا بغور مطالعہ کریں تو وہ ہستیاں جو آج ہماری آئیڈیل ہیں اور جنہوں نے دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے اور چاند تک کا سفر کیا اپنے استاد کے گن گاتے نظر آۓ گے ۔سکندر اعظم جس نے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کی ہمیشہ اپنے استاد کی تعریف میں ایک دلچسپ بات کہتا تھا کہ: “میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا ،مگر میرے استاد نے مجھے زمین سے آسمان پر پہنچا دیا”ماضی میں لوگ زیادہ پڑھے لکھے تو نہیں تھے مگر تمیزدار بہت تھے ۔

بچوں کے ساتھ ساتھ بوڑھے بزرگ بھی استاد کے احترام میں کھڑے ہوتے تھے ۔استاد کے ساتھ نظر ملا کے بات نہیں کی جاتی تھی ۔بچوں کا استاد جی ،استانی جی کہتے زبان نہیں تھکتی تھی مگر جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا ویسے ویسے استاد کا مقام بھی تنزلی کا شکار ہوتا چلا گیا اور “استاد جی،استانی جی” کی جگہ لفظ “ٹیچر” نے لے لی۔آج کل کے طلباءو طالبات استاد کا منہ نوچنے کے لیے تیار نطر آئے گے ۔معاشرے میں علم میں تو وسعت پیدا ہوئی ،زیرتعلیم طلباء و طالبات کی تعداد میں تو خاطر خواہ اضافہ ہوا مگر استاد کا رتبہ و مقام بتدریج کم ہوتا گیا۔اور ان سے کی گئ زیادتیاں بڑھتی چلی گئ آج طلباء کے ساتھ ہونے والے تشدد تو سامنے لاۓ جاتے ہیں مگر استاد کے ساتھ ہونے والے تشدد کے واقعات کو دبا دیا جاتا ہے۔ اس لیے میری التجا ہے کہ اگر ہم اپنے ملک پاکستان کو ترقی کے منازل طے کروانا چاہتے ہیں تو استاد کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ اس کا احترام انتہائی ضروری ہے۔اس کو وہ مقام دینے کی اشد ضرورت ہے جس کا وہ حقیقی معنی میں حقدار ہے، یقین مانیں پاکستان کو اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی لسٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس راز کو عملی جامہ پہنانا ہوگا..!


شیئر کریں: