Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قول و فعل کی تضاد۔۔۔۔۔۔تحریر:اقبال حیات اف برغذی

شیئر کریں:

ممتاز عالم دین اور جامع مسجد ریحانکوٹ کے خطیب حضرت مولانا ولی محمد صاحب نے اپنے جمعے کی تقریر کے دوران ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے سیرۃ النبی کے سلسلے میں بمبوریت کے علاقے میں منعقدہ تقریب میں اسلام کی آفاقیت اور بنی نوع انسان کی فلاح سے متعلق اسلامی تعلیمات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کیا جو مجموعی طور پر انسانوں کے باہمی معاملات کو سدھارنے کے امور پر مبنی تھا۔ تقریب کے اختتام پر کالاش قبیلے کا ایک نوجوان مجھ سے مصافحہ کرنے کے بعد میری تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو باتیں کیں ان کی حقانیت او رافادیت مسلمہ ہیں اور ہر بات سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں ۔مگر بدقسمتی سے ان اوصاف کے رنگ میں کسی کو رنگین ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور یوں یہ دینی تقاضے صرف گفتار کی حد تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔میں نے جواب میں کہا کہ ایک کلمہ گو مسلمان اگر گناہ کرے گا تو ہمیں یقین ہے کہ اللہ رب العزت قیامت کے دن ان کے گناہ معاف فرمادیں گے۔ یہ سن کروہ کالاش نوجوان طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہ ” اچھا ” اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ خود ایسے کام کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔


مولانا صاحب کے جواب سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کہ آج ہم عملی طور پر اپنی انفرادی اور اجتماعی طرز زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی حد تک انگشت نمائی کی زد میں ہیں۔ ہم دوسروں کے لئے نمونہ بن کر انہیں اسلام کی طرف راغب کرنے کے قابل نہیں بن سکے ۔ اپنے افعال اور کردار کو اسلام کے وضع کردہ اصولوں کی مہک سے معطر کرنے کی بجائے دوسروں کی طرف سے نفرت اور حقارت کا نشانہ بنتے ہیں۔ہمارا معاشرہ ان تمام خرابیوں سے متعضن ہے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔آئے دن ایسے ایسے گھناونے جرائم کا ارتکاب کیاجاتا ہے۔ جو اسلام کے مقد س نام پر بد نما داغ کے مترادف ہوتے ہیں۔ عبادات کو رسم کی حد تک نبھاتے ہیں۔ اور وہ خلوص،شوق اور جذبہ عشق سے عاری ہوتی ہیں۔


“وہ سجدہ روح زمین جس سے کانپ جاتی تھی اسی کوآج ترستے ہیں منبر ومحراب”
شیطان کا دعوی ہے کہ میں خواہشات نفس اور غصے کے وقت انسان کو دبوچ لیتا ہوں۔یہ دونوں کیفیات ہم میں بدرجہ ام موجود ہیں۔ چمچماتی گاڑی اور عالیشان مکان کے لئے دل میں مچلتے ہوئے ارمانوں کی برآوری کے لئے سب کچھ کر گزرنے سے گریز نہیں کرتے۔اور زیرزمین اس گڑھے کا تصور فکر وخیال سے مکمل طور پر نکلا ہوا ہوتاہے۔ انسانوں کے باہمی حسن وسلوک کے سلسلے میں کسی کی قباحت کو احسان سے برائی کو بھلائی سے دشمنی کو دوستی سے ٹالنے ،دوسروں کی سرکشی پر نرمی کا برتاو کرنے اس کے سر چڑھنے پر سرجھکانے جیسے تعلیمات قرآن کی عملداری ایک خواب


کی حیثیت رکھتے ہیں۔حالانکہ ان اوصاف کی ضوفشانیوں سے ہماری تاریخ مزین ہے۔ مگر اس تاریخ کو دہرانے والے نہیں ملتے صرف بجا طور پر “پدرم سلطان بود “کی حد تک ان اوصاف کا فخر سے تذکرہ کرتے ہیں۔امام ابو حنیفہ کو مسجد سے گھر جاتے ہوئے کسی بات پر ایک شخص ناجائز گالیاں دینا شروع کرتا ہے۔دنیا کے تمام گندے الفاظ چن چن کر اس کی ذات پر اچھالتا ہے۔ اور امام صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے ہوئے اپنے گھر کے دروازے پر پہنچنے کے بعد اس شخص کی طرف مڑکر مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کچھ کسر باقی ہے تو دل کی بڑاس نکالیں۔یہ میر اگھرہے ۔اندر جاکر دروازہ بند کروں گا۔ وہ شخص صبرو استقامت کے اس عظیم مظاہرے پر شرمندگی سے معاف مانگنے کےلئے امام صاحب کے پاوں کی طرف جھک جانے پر مجبور ہوتاہے۔ مگر آج معمولی سی رنجش پر والدیں ،بہن بھائیوں اور اولاد جیسے خونی رشتوں کے قتل کے لرز ہ خیز واردات آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جو ہماری طرف انگشت نمائی کے سبب بنتے ہیں۔


شیئر کریں: