Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیلم الیکشن 2021 کے سیاسی آپشنز …… پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


رہنما اگلے اانتخابات کا نہیں بلکہ اگلی نسل کا سوچتے ہیں:سیمن سنیک۔آزادکشمیر کے سیاستدان اگلی نسل تو درکنار ووٹ دینے والی پچھلی نسل کا بھی نہیں سوچتے۔ہمارے ملک میں جتنی سنجیدگی سے انتخابات کے انعقادکو لیا جاتا ہے اگر اس سے آدھی سنجیدگی ہم عوامی مسائل حل کرنے میں دکھائیں تو حالات مختلف ہوں۔ووٹ گولی سے زیادہ طاقت ور ہو تا ہے۔ ہم سے زیادہ اس کہاوت کو کون سمجھ سکتا ہے جنہیں دہائیوں سے گولیاں کروائی جارہی ہیں۔رہنما اگلی نسلی کا جبکہ سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتے ہیں۔اس مقولے کو پڑھ کر جیمز فریمین کلارک کی ایک جنم کی پیدائش آزادکشمیر کی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہمیں ہر بار اگلے الیکشن ہی دیکھنے کو ملتے کام نہیں ہوتے۔ نیلم کا ماضی گھوڑے کے ٹاپوں اور تیر کے زخموں سے چھلنی ہے۔ رہی سہی کسر شیر نے نکال دی۔ نیلم والے شائد شیر کی عادات سے واقف نہیں تھے کیونکہ شیر توشیرنی کی کمائی کھاتا ہے خود شکار نہیں کرتا۔ اب اگر اہل نیلم شکوہ کریں شیر نے کام نہیں کیے تو جناب شیر کام کرتا کب ہے۔جو کام کرے وہ شیر کس بات کا۔ایم سی اور پی پی کی منوپلی اور عوامی کاموں کو مسلسل سرد خانے میں ڈالنے کی وجہ سے 2016کے الیکشن میں ان کا پتہ صرف ایکسل لگا کر صاف ہو ااور شیر کامیاب ہوا۔ 2021

کے الیکشن میں صورتحال ماضی کی نسبت کافی مختلف ہے۔ اس مرتبہ تین بڑی پارٹیوں کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے ساتھ آزاد امیدواران کی بھی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ ہر روز ایک نیا امیدوار سامنے آتا ہے۔ آزادامیدواروں کا اتنی بڑی تعداد میں الیکشن لڑنا نیلم کی سابقہ اور موجودہ حکومت کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سوشل میڈیا اور مختلف فورمزنے بھی نیلم کی سیاست اور شعور میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب ہمارے پاس تین آپشن موجودہیں۔ اول تو ایم سی اور پی پی کواس امید پر ووٹ دیں کہ انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہو گا اور اقتدار سے باہر رہ کر شاید کچھ احساس ہوا ہو جس کا امکان بہت کم ہے۔ نیلم کی زیادہ تر عوام اور نوجوان سابقہ حکمرانوں اور پارٹیوں کے حق میں نظر نہیں آتے۔ دوسرا آپشن موجودہ حکومت کو اگلے پانچھ سال کے لیے منتخب کیا جائے مگر اپنڈی اور اسلام آباد کی ہوا مسلم لیگ ن کی طرف چلتی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر ن لیگ کو ووٹ دیں اور حکومت نہ بنا سکی تو نیلم والے پانچھ سال کے لیے گچھیاں جمع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ یہی حال پی پی اور یم سی کا بھی ہے۔ ایم سی کو 2016میں صرف 4000ووٹ ملے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے گھوڑااب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔

پی پی بھی اپنی ماضی کی مایوسانہ کارکردگی کی بدولت عوامی پذیرائی کھو چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اپوزیشن نہ کرنا ہے۔ پی پی، ایم سی اور پی ٹی آئی تینوں نے کوئی اپوزیشن نہیں کی اور یہ پارٹیاں نیلم کے مسائل اور پس ماندگی میں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ن لیگ اور پی پی میں موروثیت اور شخصیت پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اسی لیے نیلم سے شاہ صاحب اور نہ ہی میاں صاحب کسی اور کو ٹکٹ کا اہل سمجھتے ہیں۔دو میں سے ایک بات ہی ہو سکتی ہے یا تو ن لیگ اور پی پی میں شاہ اورمیاں صاحب کے علاوہ کوئی کام کا بندہ موجود نہیں ہے یا پھریہ جمہوری بادشاہت کے قائل ہیں جو سرمائے کی بنا ء پر جمہوریت کے بجائے مطلق العنانیت مسلط کیے ہوئے ہیں۔نعرے نوجوان ماریں، ان کا دفاع نوجوان کریں، ان کی الیکشن مہم نوجوان چلائیں، ان کے سوشل میڈیا ونگز نوجوان چلائیں اور نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کی ن لیگ اور پی پی کی پالیسی جمہوریت نہیں بادشاہت ہے۔

پی ٹی آئی ذاتی اختلافات کاشکار رہی ہے۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر اور نیلم کے اندر دھڑا بندی ہے یہ ٹکٹ کا فیصلہ ہونے پر واضع ہو جائے گی۔ بہت سارے پنچھی جو چار سال قائد نیلم کے نعرے لگاتے تھے وہ اڑ کر دوسری شاخوں پر گھونسلہ بنا لیں گے۔ اگرایم سی، پی پی، ن لیگ یا پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ دے کر رہبر بنایا جائے تو ہمارے پانچھ سال داو پر لگ سکتے ہیں۔اگرپارٹی ٹکٹ پر جیتنے والے امیدوار کی پارٹی حکومت نہ بنا پائی تو نیلم پہلے ہی مسائل و مصائب کا شکار ہے مزید پانچھ سال ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ اس لحاظ سے آزاد امیدواران ہی نیلم کے لیے بہترین آپشن ہیں۔ حکومت چاہیے جس پارٹی کی بھی بنے آزاد امیدوار نیلم کے لیے حکومتی پارٹی کا حصہ بنے اور نیلم کے لیے کام کرے۔ آزادامیدوار ں کے معاملے میں صفررسک ہے جبکہ پارٹی امیدوار کے معاملے میں ففٹی ففٹی چانسسز ہیں۔ایک چوتھی آپشن بھی ہے کہ ہم شاہ صاحب کے طرز پر سیاسی پلانٹیشن کریں اور ایک نیا بندہ امپورٹ کیا جائے۔شاہ صاحب نے بلاشبہ ایم سی اور پی پی کی نسبت زیادہ کام کیے ہیں مگر جتنے کام کر سکتے تھے نہیں کیے۔ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے تو سرمایہ دار کو سرمایہ دار کاٹے گا۔ نیلم سے جتنے بھی آزاد امیدواران اس وقت تک میدان میں اترنے کا فیصلہ کر چکے ہیں یا مستقبل میں کریں گے ان میں سے کوئی بھی سرمائے کے لحاظ سے ایم سی، پی پی اور ن لیگ کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ حتی کہ پی ٹی آئی بھی سرمایہ دار کے بارے غور و فکر کررہی ہے۔

حاجی، مفتی، میاں اورشاہ صاحب نے سرمایا لگاکر ووٹ لیے ہیں کوئی نہ مانے تو الگ بات ہے۔ 2021کے انتخابات میں بھی سرمایہ لگنا اور ماضی سے کہیں زیادہ لگنا۔ اس لیے ان سرمایہ داروں کو بچھاڑنے کے لیے ایک سرمایہ دار کی اشد ضرورت ہے۔ کچھ ناعاقبت اندیش جن کے پاس سیاست کرنے کے لیے کچھ نہیں وہ علاقائیت کا چورن بیچنے کی لاحاصل سہی کر رہے ہیں۔کشمیر سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص کسی بھی علاقے سے الیکشن لڑسکتا ہے۔ اگر ہم علاقائی اور غیر علاقائی کی بات کریں تو پھر کاغانی اور گلگتی بھی تو نیلم کے مقامی نہیں ہیں اور شاہ صاحب بھی پنڈی ایکسپریس ہیں۔ نیلم میں نیلم والوں کے راج کا نعرہ تب چلے گا جب نیلم سے ہر غیر نیلمی کے خلاف تحریک چلائی جائے اور ہر غیر نیلمی پارٹی کو بھی علاقہ بدر کیا جائے۔ پی پی، پی ٹی آئی اور ن لیگ بھی تو امپورٹڈ پارٹیاں ہیں یہ نیلم میں کیا کر رہی ہیں پھر ان کے خلاف بھی بولیں۔ میں ہمیشہ نیلم کے مفادات کو مدنظر رکھتا ہوں۔ اگر نیلم کے فائدے کو مدنظر رکھا جائے تو ایک نیا سرمایہ دار نیلم کے لیے کئی لحاظ سے مفید ثابت ہو گا۔ اولا اسے پی پی، ایم سی اور ن لیگ سے زیادہ سرمایہ لگانا پڑے گا اور یہ سرمایہ نیلم میں ہی لگے گا اس کا فائدہ اہل نیلم کو ہوگا۔ دوئم نوجوانوں کو ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم ملے گا ور پی پی، ن لیگ کی جمہوری بادشاہت کے زندان سے نکلنے کا موقع ملے گا۔

سوئم بڑے سرمایہ داروں کے دنگل میں ہمارے نیلم کے آزادامیدواران کے جیتنے کے امکانات کافی حد تک بڑھ جائیں گے۔ چہارم نئے سیاسی سرمایہ کار سے ہم سابقہ سرمایہ کاروں کی نسبت بہتر مطالبات منوا سکتے اور نظام کی بہتری کے لیے زیادہ مثبت اقدام کی امید ہے جبکہ سابقہ سرمایہ داروں کو ہمارے چاپلوسوں اور خوشامدیوں نے اپنے منتر میں گھیر رکھا ہے۔اگر تمام آزادامیدواران ایک سیاسی اتحاد بنا کر کسی ایک امیدوار کو میدان میں لانے پر متفق ہو جائیں تو سونے پر سہاگہ پھر تو جیتنے کی سوفیصد گارنٹی ہے۔متذکرہ بالاجماعتوں کے علاوہ جماعت اسلامی بھی ہے جو ماضی میں اتحاد کر کے ذاتی فائدے حاصل کر تی رہی ہے۔ اگر اس بار وہ ماضی کی روش پر نہ بھی چلے تو جماعت اسلامی کا ووٹ سیاسی ہوا کے رخ پر کاسٹ ہوتا آیا ہے۔ اڑن پنچھی اور اڑن طشتریوں والے احباب جو نیلم محض الیکشن لڑنے نمودار ہوتے وہ جیسے نمودار ہوتے ویسے ہی غائب بھی ہو جائیں گے ان کے بارے پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر نیلم کی مذہبی جماعتیں آپس میں اتحاد کر لیں تو بھی بازی پلٹ سکتی ہے مگر یہ ایک ایسی امید ہے جو بر آتی دکھائی نہیں دیتی۔ 


شیئر کریں: