Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلان کیمپ کا خونین واقعہ…….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کے دوران رضاکارانہ طور پر گھر بار خالی کرکے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے بیشتر آئی ڈی پیز امن بحال ہونے پر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں اور کچھ آئی ڈی پیز کی واپسی کے لئے حکومت کی طرف سے انتظامات کئے جارہے ہیں تاہم شمالی و جنوبی وزیرستان سے سرحد پار کرکے قریبی افغان سرحدی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے والے آج شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مشرقی افغانستان کے گلان کیمپ میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔چند روز قبل ایک یلغارکے دوران مہاجر کیمپ میں بڑے پیمانے پرلوٹ مار کی گئی،خواتین،بچوں اورعمررسیدہ افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور متعدد افراد کوقتل کیا گیا۔گلان کیمپ میں مقیم پاکستانی مہاجرین کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور وہ اپنے وطن واپسی کیلئے بے تاب ہیں۔گذشتہ روزشمالی وزیرستان میں گرینڈ جرگہ ہوا۔جرگہ سے خطاب میں قبائلی مشران کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران جن متاثرین نے افغانستان میں عارضی رہائش اختیار کی تھی وہ آج نہایت مشکل میں ہیں۔

جرگہ مشران کا کہنا تھا کہ ابھی تک واضح نہیں کہ گلان کیمپ پر چھاپہ افغان فورسز نے مارا ہے یا طالبان اس واقعے میں ملوث ہیں تاہم بے گناہ مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیاجارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت واپسی کے لئے انتظامات کئے جائیں۔ جرگہ مشران کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مقیم متاثرین شمالی وزیرستان کی با عزت واپسی کیلئے پاک افغان غلام خان بارڈر پر دھرنا دیاجائے گا تاکہ حکومت کی توجہ اس اہم ایشو کی طرف مبذول کی جاسکے۔قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کی بحالی کے لئے جن لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے گھر بار اور مال و اسباب کی قربانی دی ہے۔ ان لوگوں کا پورے پاکستان پر قرض ہے۔ امن کی بحالی کے بعد ان کی باعزت اور بحفاظت واپسی حکومت پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ اور امن پسند بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان 1979سے اب تک 42سالوں سے 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ افغانستان میں امن کی بحالی کے باوجود اب بھی بیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ہم نے آدھی روٹی خود کھائی اور آدھی اپنے مسلمان مہاجر افغان بھائیوں کو کھلائی ہے۔

انہیں پورے ملک میں آزادانہ گھومنے پھیرنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔اپنی بیٹیاں ان کے نکاح میں دی ہیں۔ اس کا یہ صلہ ملا کہ ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر متعارف ہوا۔ مہاجرین کے بھیس میں دہشت گردوں نے ہمارے ملک میں ڈیرے ڈال دیئے اور ان کی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ آج بھی ملک بھر میں مجرمانہ سرگرمیوں میں 80فیصد افغان مہاجرین ملوث پائے گئے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو چار عشروں سے زائد عرصے تک پناہ دینا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔جس کی نظیر دنیا کی کوئی دوسری قوم پیش نہیں کرسکتی۔ جب چند سو گھرانوں پر مشتمل پاکستانی مہاجرین قیام امن کی خاطر نقل مکانی کرکے افغانستان کے سرحدی علاقے میں پناہ گزین ہوئے تو ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔

یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ پاکستانی مہاجرین کے کیمپ پر یلغار اور خون ریزی میں بھارت کے خفیہ ادارے ملوث ہوں۔بہرحال یہ واقعہ مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے منافی اور انتہائی قابل مذمت اور سفاکانہ ہے۔مہاجرین کی آبادکاری کے بین الاقوامی ادارے یواین ایچ سی آر کو بھی معاملے کی پوری چھان بین کرنی چاہئے تاکہ افغانستان میں بدامنی پیدا کرنے اور بحالی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والوں کی نشاندہی ہوسکے۔ پاکستانی مہاجرین کی فوری واپسی کے انتظامات کے ساتھ حکومت کو یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھانا چاہئے۔


شیئر کریں: