Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جھوٹ کی حکمرانی۔۔! قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

خود مختار عدلیہ، پارلیمان، جمہوریت، نظام کے استحکام، امن و ہم آہنگی کے لئے ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود سے متجاوز نہ ہو۔موجودہ دورِ حکومت میں سیاسی عدم استحکام ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، باد ئ النظر لگتا ہے کہ حکومت بہت مضبوط ہے، لیکن مکمل احساس ِ تحفظ کا فقدان بھی پوشیدہ نہیں، عوام کو سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی چپقلش اور رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ کسی  انسانی خواہش پر پورے نظام کو تبدیل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ نظام کی بالادستی کے حصول میں جتنی دشواریوں کا سامنا اس وقت ملک و قوم کو ہے، شاید ایسی بے یقینی کی فضاسے مملکت کو واسطہ نہیں پڑا۔ یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ بعض اہم فیصلوں میں کمزور ی کے باعث معاشرے میں بہت سے مسائل نے جنم لیا ۔ بعض سیاسی جماعتیں اپنے حق میں فیصلے آنے پر اداروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور جب اُن کے خلاف گرکوئی معاملہ بن جائے تو لعن و طعن شروع کردیتے ہیں۔ نظام کے استحکام کے لئے اس کی خود مختاری ناگزیر ہے، جب تک ریاستی اداروں میں انتظامی و مالیاتی خود مختاری اور احساس تحفظ نہیں ہوگا، صورت حال میں بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔


عوام بغور دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ نظام کے تحت ان کے مسائل کا حل نہیں نکالا جارہا، دونوں پارلیمان میں گھمسان کا رَن لگتا ہے لیکن یہ عوام کے لئے نہیں، بلکہ اقتدار کی کرسی بچانے یا گرانے کے لئے ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کا موثر کردار قطعی نظر نہیں آرہا، عوام کے نزدیک پارلیمنٹ اپنا اخلاقی اعتماد کھو چکی۔ پارلیمنٹ کمزور ہو تو معاشروں میں جنگل کا قانون نافذ ہوجاتا ہے، افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ ماضی میں بھی پارلیمان اپنا وہ کردار ادا نہیں کرسکی،جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پارلیمان کو ایک ایسا کردار ادا کرنے کی ضرورت رہی ہے کہ وہ اہمیت و مقام کو محترم بنانے کے لئے محتاط رویہ اپنائے، سیاسی عدم استحکام کی صورت حال اس قدر خراب ہوچکی کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔


ہر سیاسی جماعت و ان کے پرچارکوں کے تئیں آئین کی الگ الگ تشریحات ہیں۔ تقرر و تبادلوں کا سیاسی بنیادوں پر ہونا،اب اس قدر عام ہوچکا ہے کہ اس کے آسان حل کو بھی صَرف نظر کیا جاتا ہے۔سچ و جھوٹ میں تمیز ہی نہیں رہی، جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ خود لعنت دیتا ہے، جس شخص کو رب کائنات لعنتی کہے تو تصور کرکے ہی جھرجھری آجاتی ہے کہ جب وہ کائنات کے خالق کے سامنے پیش ہوگا تو کیا اُسے یقین ہوگا کہ اس کے لئے میزان کھڑا بھی کی جایا گا یانہیں، سورۂ نحل میں ارشاد ہے کہ’جھوٹ بہتان تو بس وہی لوگ باندھا کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ نحل ۱۶: آیت نمبر۱۰۵) ‘ اسِی طرح چند دیگر آیتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ جھوٹا شخص اللہ کی لعنت کا مستحق ہے اور اللہ تعالی ا اس سے غضب ناک رہتا ہے۔ مثلاً  ”اور اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے (سورۂ نور ۲۴: آیت نمبر ۷)”۔


اب دوبارہ ہم اپنے اراکین پارلیمنٹ اور دونوں ایوانوں سمیت صاحب اقتدار و حزب اختلاف کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جھوٹ تو پوری قوت سے بولا جارہا ہے، بعض سیاسی شخصیات تو اس مہارت سے جھوٹ بولتی ہیں کہ سچ بھی جھوٹ لگتا ہے۔ جھوٹ بولنے کا یہ عمل صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ جس شعبے یا ادارے کو دیکھ لیں، کہ ہمارا معاشرہ کس طرح جھوٹ کو پروان چڑھا رہا ہے، میڈیا پرسن بھی کی بڑی تعداد بھی  صرف اپنی ذاتی انا و مفاد کے لئے جھوٹ پر اپنے بہتانوں کا پیراہن ایسا پہناتے ہیں کہ اگر اس پر تنقید کردی جائے تو ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ ان حالات میں جمہوریت کے نام لیواؤں کے نزدیک جھوٹ بولنا، ایسا ہے جیسا  یہ سب ثواب و نیکی پانے کے لئے خشوع و خصوع سے کیا جارہا ہو۔


کیا کسی کے لئے بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جھوٹ بولنا، بظاہر نقصان دہ نظر نہیں آتا، لیکن مصلحت و مفاہمت کے نام پر چند گروہ کا ایمان ہی جھوٹ پر متنج ہوگیا ہے۔ ایک ایسے نظام سے کراہت محسوس ہوتی ہے کہ جہاں قرآن کریم کو گواہ بنا کر جھوٹا حلف لیا جاتا ہو اورکوئی خوف خدا نہ ہو۔ ایسا معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے جہاں اخلاقی اقدار زبوں حالی کا شکار ہوچکے ہوں، قانون کا معیار دہرا ہو۔، غریب کے لئے الگ اور اشرافیہ کے لئے جداگانہ ہو۔ گھر سے لے کر عالمی اداروں تک سچ خود کو ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ہم اگر نظام میں تبدیلی کی بات کریں بھی (اسلام) کے علاوہ دنیا کا کون سا ایسا نظام ہے جہاں جھوٹ کی حکمرانی نہیں، جہاں طاقت کے تقاضے اپنی ذاتی اَنا کا شکار نہیں، فروعی مفادات کے لئے خود کو عقل کُل سمجھنے کا خبط، کہاں نہیں۔ یہ سب ریت کی دیوار ہے جس پر مضبوط عمارت کبھی نہیں بنائی جاسکتی۔ آج سوشل میڈیا میں جھوٹ کا راج دیکھا جاسکتا ہے، جلسے جلسوں و بیانات میں بہتان و الزامات اس طرح لگائے جاتے ہیں کہ جیسے ان کا حق ہو۔


اسلام ایک ایسا نظام حیات ہے، جہاں ابدی و اٹل قوانین نے انسانی مداخلت کو ختم کردیا ہے، واحد ایک ایسا نظام ہے جو ہر معاشرے کو اجتہاد و اتفاق سے ڈھلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نہ جانے ہماری نظریں اتنی کمزور کیوں ہوگئی کہ ہم ایک ایسے نظام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں اور خود ساختہ جھوٹ کے پلندوں سے باہر نکلنے کے بجائے تھیوکریسی کے غلام بن بیٹھے ہیں۔ نظام اسلام کی روح کو حقیقی معنوں میں کہیں بھی اس لئے نافذ نہیں کیا جاتا کیونکہ اس پر عمل درآمد ہونا شروع ہوا تو کوئی فرعون، قارون اور ہامان نہیں بن سکے گا۔ تمام فیصلے قرآن و سنت و متفقہ علیہ (اجتہاد) سے ہوسکیں گے۔ اس وقت عبوری دور کے لئے نئے تجربات پر وقت خراب کرنے کے بجائے اُن قوانین و اصولوں پر عمل پیرا ہوا جاسکتا ہے، جس پر تمام حلقوں کا اتفاق ہو۔ دکھ ہوتا ہے کہ عظیم نظام ہونے کے باوجود ہم ایسی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جس کا آخری نتیجہ صرف تباہی و بربادی ہے۔ہم عبوری دور میں کچھ زیادہ نہیں کرسکتے تو ابتدا میں صرف جھوٹ کہنا، لکھنا اور بولنا تو ختم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، تاکہ رب کائنات کی غصب ناکی سے بچ سکیں اور فلاح کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔


شیئر کریں: